مکی آرتھر پی سی بی حکام کو بھا گیا

گورا کوچ کرکٹرز کی پرانی بیماریوں کا علاج کرسکے گا؟۔ فوٹو: گیٹی/فائل
دو ہفتے قبل گگلی ماسٹر عبدالقادرکے انٹرویو کی غرض سے ان کی رہائشگاہ پر موجود تھا، باتوں باتوں میں عبدالقادر نے جب یہ بات کہی کہ کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی محض پیسے کا ضیاع ہے۔
کوچ کے اختیارات بھی کپتان کو سونپ دینے چاہیے، ماضی کے عظیم لیگ سپنر کی یہ بات سن کر میں یک دم چونک گیا، دفتر پہنچ کرروٹین کے مطابق یہ نیوز فائل تو کر دی لیکن اس خبر کی بازگشت ایک ہفتے تک سنائی دیتی رہی،ایک بھارتی اخبار نے انگلش میں ترجمہ کر اسے شائع کیا، بعد ازاں ہماری نیوز ایجنیسوں، مختلف ویب سائیٹس اور قومی اخبارات میں بھی یہ خبرچھپتی رہی،انٹرویو کے دوران عبدالقادر نے کچھ اور بھی ایسی باتیں کیں جو دل کو لگیں۔
غور کیا تو عظیم بیٹسمین جاوید میانداد کی باتیں بھی یاد آنا شروع ہو گئیں جوکہتے آئے ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کوچنگ کی ضرورت نہیں ہوتی،اگر اچھے کھلاڑی کوچز پیدا کرتے تو میرے تمام بچے بھی میری طرح عظیم کرکٹر ہوتے،کوچز کے حامیوں سے میرا سوال ہے کہ کیا انہیں کوچز نے سکھایا تھا، اچھے کھلاڑی اپنے کوچ خود ہوتے ہیں، حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ بات سچ بھی ہے کہ کیا50 سے100 ٹیسٹ کھیلنے والوںکو کوچ اب یہ بتائے گا کہ انہوں نے بیٹ کس طرح پکڑنا ہے اور گیند کس طرح پھینکنی ہے، بات قومی ٹیم کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی کوچ رکھنے کی نہیں بلکہ ہم تو بس کوچنگ کے نام پر تجربات کرنا اور اپنوں کو نوازنا جانتے ہیں۔
ہماری ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ کمزوربیٹنگ ہے، کیا غیرملکی بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے آنے سے یہ مسئلہ حل ہو گیا، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 میںشکستوں کا ذمہ دار کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس کو ہی قرار دیا گیا، کسی نے بھی گرانٹ فلاور سے یہ تک نہ پوچھا کہ بھئی تم بھی تو بیٹنگ کوچ تھے، بیٹسمین پرفارمنس کیوں نہ دے سکے؟ اسی طرح مختصر طرز کے عالمی ایونٹ سے کچھ دن قبل مشتاق احمد کو کوچنگ سے ہٹا دیا گیا، ان کی جگہ اظہر محمود کو بولنگ کوچ بنا دیا گیا، سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سپن کوچ کی جگہ یہ ذمہ داری سپنر کوچ کو ہی کیوں نہ سونپی گئی، اگر فاسٹ بولنگ کوچ ہی ضروری تھا تو کیا وقاریونس کے ہوتے ہوئے کوچنگ پینل میں اظہر محمود کی جگہ بنتی تھی؟
ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہی ہے کہ وقار یونس کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے تھے کہ قومی ٹیم کا اگلا کوچ کون ہوگا، ملکی ہو گا یا گرین شرٹس کی باگ ڈور کسی غیر ملکی کے سپرد کر دی جائے گی، چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے بھی اس موضوع پر طویل اننگزکھیلی، نئے کوچ کااعلان ایک، دو روزمیں ہو گا، پیر کو ہوگا، منگل یا بدھ کو ہو گا، آئندہ ہفتے ہو گا، وغیرہ وغیرہ کے اس چکر میں پورے 2 ماہ گزر گئے،4 مئی کو لاہور میں شیڈول پی سی بی کی گورننگ باڈی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں صحافیوں کو نئے کوچ کی خبر کا شدت سے انتظار تھا لیکن شہریار خان ایک بار پھر ’’ایک،دو روز میں کوچ کا اعلان ہوگا‘‘ کہہ کر بات گول مول کر گئے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے بارے میں مشہور ہے کہ کسی عام اور آسان سی بات کا بھی حل تلاش کرنا ہو تو ارباب اختیار اسے اتنا پیچیدہ اور مشکل بنا دیتے ہیں کہ خدا کی پناہ ، قومی ٹیم کے نئے کوچ کا معاملہ ہی دیکھ لیں،اس کی تعیناتی کو رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا، کوچ کمیٹی میں شامل وسیم اکرم اور رمیز راجہ کچھ بیانات دیتے رہے اور چیئرمین پی سی بی کچھ اور طرح کی باتیں کرتے رہے، فیصلے سے قبل ہی محسن خان کا کوچ بننے کا خواب چکنا چور کر دیاگیا، عاقب جاوید کو بھی ابتداء میں امید کی کرن ضرور نظر آئی لیکن بورڈ کے بدلتے تیور دیکھتے ہوئے انہوں نے درخواست ہی جمع نہ کروائی۔
انضمام الحق کے دل میں بھی کوچ بننے کی خواہش مچل رہی تھی لیکن انہیں چیف سلیکٹر بنا کریہ شمع کی گل کر دی گئی۔ پیٹر مورس اور سیٹورٹ لاء کے انکار کے بعد پی سی بی نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا قرعہ اس امیدوار کے نام نکالا جو ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم پرہی میچ فکسنگ کے الزامات بھی لگا چکا ہے، ایشیز سیریز سے صرف 2 ہفتے قبل آسٹریلوی بورڈ نے نہ صرف انہیں برطرف کیا، اس سے قبل جنوبی افریقی کپتان گریم سمتھ کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے کوچنگ سے مستعفی بھی ہونا پڑا، انہوں نے امپائرز پر جانبدارانہ امپائرنگ کے الزامات بھی لگائے۔
تاریخ شاہد ہے کہ پی سی بی نے جب بھی قومی ٹیم کی کوچنگ کا تاج ملکی کوچ کے سر پر سجایا تو عالمی سطح پر کامیابیاں وکامرانیاں ہمارا مقدر بنیں، گورے کوچز نے ہمیں ناکامیوں، مایوسیوں، رسوائیوں اور طعنوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ شائقین ابھی تک کرکٹ کے وہ حسین لمحات نہیں بھولے جب عمران خان کی قیادت اور انتخاب عالم کی کوچنگ میں قومی ٹیم نے آسٹریلیا کی سرزمین پر 1992ء کا ورلڈ کپ جیت کا گوروں کا غرور خاک میں ملایا تھا، ہماری نگاہوں میں ابھی تک وہ مناظر گھوم رہے ہیں جبکہ گرین شرٹس نے یونس خان کی کپتانی اور انتخاب عالم ہی کی کوچنگ میں 2009ء میں انگلینڈ میں ٹوئنٹی20 کا عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان کے بارے میں پراپیگنڈا کیا گیا کہ وہ ڈمی کوچ تھے، تربیتی کیمپوں یا میچز کے دوران کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنے یا ان کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے ان کی ٹانگوں میں مسلسل کھڑا ہونے کی سکت نہیں رہتی تھی، چلو مان لیتے ہیں وہ ڈمی کوچ تھے لیکن پھر بھی وہ امپورٹڈ کوچ سے تو کہیں بہتر تھے کیونکہ ان کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم کم از کم جیت تو رہی تھی، کیا محسن خان کا یہ کارنامہ کوئی بھلا سکتا ہے جب ان کی ہی کوچنگ میںمصباح الحق الیون نے متحدہ عرب امارات کے صحراؤں میں اس وقت کی کرکٹ کی سپر پاور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کیا تھا۔
مکی آرتھر سے پہلے 4 غیر ملکی کوچز کو قومی ٹیم کی کوچنگ کا موقع ملا، ان میں رچرڈ پائی بس، باب وولمر، جیف لاسن اور موجودہ ڈیو واٹمور شامل ہیں۔ان میں ایک بھی گورا کوچ ایسا نہیں ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر کوئی بڑی کامیابی دلائی ہو، اگر غیر ملکی کوچز کے پاس ہی فتوحات کے لیے جادو کی چھڑی ہے تو وہ اس کو گھما کر کینیا، زمبابوے، افغانستان یا متحدہ عرب امارات کو عالمی چیمپئن کیوں نہیں بنوا دیتے۔ رچرڈ پائی بس کو ایک نہیں 2 بار پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کرنے کا موقع ملا لیکن وہ ٹیم کو فتوحات کی راہوں پر گامزن کرنے کی بجائے کھلاڑیوںکو شر پسندی، اختلافات اور گروپ بندی کا سبق دے کر چلتے بنے۔
باب وولمر آئے تو انہوں نے ٹیم کے بیٹنگ آرڈر کے ساتھ اس قدر چھیڑ خوانی کی کہ ایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی ہم مستند اوپننگ جوڑی تلاش نہیں کر سکے ہیں، یہ وولمر کی مہربانیوں کا ہی نتیجہ تھا کہ گرین شرٹس ورلڈ کپ2007 کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئے اورجب باب وولمر جمیکا کے ہوٹل میں مردہ پائے گئے توابتداء میں اس کا ذمہ داربھی پاکستانی کھلاڑیوں کو قرار دیا گیا اور کپتان سمیت پلیئرز سے ملزمان کی طرح پوچھ گچھ کی جاتی رہی، جیف لاسن بھی گرین شرٹس کو بڑی کامیابی نہ دلا سکے، چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے انہیں بیکار کوچ قرار دے کر عہدے سے فارغ کر دیا۔ ڈیو واٹمور نے بھی قومی ٹیم کی کامیابیوں کو بریک لگائے رکھی۔
ڈیو واٹمور ہو،جولین فاؤنٹین، جیف لاسن ہو یا باب وولمر، یا دنیا کا بڑے سے بڑا کوچ، یہ کوچز مل کر بھی پاکستانی ٹیم کا قبلہ درست نہیں کر سکتے، ہمارے اورگوروں کے کلچر، رہن سہن، سوچ اور زبان میں زمین آسمان کا فرق ہے اور سب سے بڑا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ کھلاڑیوں میں حب الوطنی کا جذبہ اجاگر ہی نہیں کر سکتا جو ملکی کوچ پیدا کر سکتا ہے۔
جیت کا جذبہ لاکھوں روپے ماہانہ معاوضہ لینے والے غیر ملکیوں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔فضل محمود، حنیف محمد، ماجد خان، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، جاوید میانداد، سرفراز نواز اور عبدالقادر سمیت دوسرے ان گنت کھلاڑی کبھی بھی گریٹ کرکٹرز نہ بن پاتے، اگر ان میں آگے بڑھنے اور اپنے کھیل سے دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرانے کا جذبہ پیدا نہ ہوتا، گوروں کی بجائے اپنوں پر ہی انحصار کر کے اوج ثریا کی بلندیوں کو چھوا جا سکتا ہے لیکن پی سی بی نے ایک بار پھرمکی آرتھر کی صورت میں غیر ملکی کوچ کو ترجیح دی ہے۔
گوروں کا اصول ہے کہ اگر اس نے کمزور، ناتوا اور غلام قوموں پر حکمرانی کرنی ہے تو انہیں کسی بھی صورت سکھ، چین اور آرام سے نہ بیٹھنے دو،کسی نہ کسی مسئلے میں الجھائے رکھو، نیا گوراکوچ مکی آرتھر بھی پی سی بی کے’’بڑوں‘‘ کی نظروں میں جگہ بنانے کے لیے نت نئے تجربات کرے گا، ٹیم کی بیٹنگ آرڈر کے ساتھ چھیڑ خانی کرے گا، فٹنس کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ جم کرنے، مرغن غذاؤں سے پرہیز کرنے سمیت متعدد پروگرام ترتیب دے گا، بیٹ ہاتھ میں تھامے کھلاڑیوں کو ڈائیو لگا کر کیچز پکڑنے کی پریکٹس کروائے گا۔
ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر نہ سمجھ آنے والے آسٹریلوی لہجے میں کھلاڑیوں کو اپنے ماضی کے کارنامے سنائے گا اور جب پاکستان ٹیم کی عالمی مقابلوں میں شکستوں کا سفر طویل ہوتا جائے گا تو یہ کہہ کر چلتا بنے گا کہ میں نے تو بڑی کوشش کی، کھلاڑیوں کو پروگرام بھی بناکر دیئے، اب پلیئرز ہی اس پر عمل نہ کریں تو میں کیاکر سکتا ہوں، ایسی صورت حال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیارایک بار پھر نئے کوچ کی تلاش شروع کریں گے، نئی کوچ کمیٹیاں بنیں گی اور نئے کوچ کا اعلان ایک، دو روز تک، آئندہ ہفتے تک کے بیانات دے کر شائقین کھیل کے جذبات سے کھیلنے کی پریکٹس کی جائے گی۔

قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر18 لاکھ روپے ماہانہ وصول کریں گے

آرتھر نے پاکستان میں قیام پر آمادگی ظاہر کر دی ہے،اورفی الحال وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں رہائش پذیر ہوں گے۔ فوٹو: فائل
 کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے نومنتخب کوچ مکی آرتھر پی سی بی سے ماہانہ18 لاکھ روپے کا چیک سال میں  30 دن کی چھٹیاں اور ٹریول الائونس بھی حاصل کریں گے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر کو کوچنگ کے عوض 18 لاکھ روپے تنخواہ دی جائے گی انھیں سال میں  30 دن کی چھٹیاں اور ٹریول الائونس بھی دیا جائے گا۔  پی سی بی نے گذشتہ روز سابق جنوبی افریقی فرسٹ کلاس کرکٹر مکی آرتھر کو قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سونپی ہے، آرتھر نے پاکستان میں قیام پر آمادگی ظاہر کر دی ہے،اورفی الحال وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں رہائش پذیر ہوں گے۔ البتہ اگر بعد میں چاہا تو انھیں کوئی گھر کرائے پر لے کر دے دیا جائے گا، ان کو  سال میں 30 چھٹیاں ملیں گی، یہ انہی پر منحصر ہوگا کہ وہ کتنی بار اپنے آبائی وطن جاتے ہیں، پی سی بی انھیں ٹریول الائونس بھی دینے کا پابند ہوگا۔
واضح  رہے کہ سابق کوچ وقاریونس کو ماہانہ 15 لاکھ روپے ملتے تھے، بعض دیگر الائونسز ملا کر یہ رقم اور زیادہ ہوجاتی تھی، وقار یونس  ہر سیریز کے بعد اپنے سسرال آسٹریلیا چلے جاتے تھے جس پر انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

شاہد آفریدی، عمراکمل اور احمد شہزاد فٹنس ٹیسٹ کیلئے کیمپ میں طلب

دورہ انگلینڈ کے لئے کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ 13 مئی سے ایبٹ آباد میں لگے گا۔ فوٹو: فائل
لاہور: پی سی بی نے دورہ انگلینڈ سے قبل لگائے جانے والے فٹنس کیمپ کے لئے شاہد آفریدی، عمر اکمل اور احمد شہزاد کو طلب کر لیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ سے قبل لگائے جانے والے فٹنس کیمپ کے لئے آل راؤنڈر شاہد آفریدی، مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل اور اوپنر احمد شہزاد کو بھی طلب کر لیا ہے۔
دورہ انگلینڈ کی تیاری کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ سے  قبل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لینے کا باقاعدہ سلسلہ 13 مئی سے 5 جون تک ایبٹ آباد میں شروع ہو گا جب کہ پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کل سے شروع ہوں گے۔
یاد رہے کہ قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے دورہ انگلینڈ کے لئے ایبٹ آباد میں لگنے والے تربیتی کیمپ کے لئے 35 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا جس میں شاہد آفریدی، عمراکمل، احمد شہزاد اور فاسٹ بولر محمد عرفان کو ڈراپ کردیا گیا تھا جب کہ محمد حفیظ کی شرکت کو بھی فٹنس سے مشروط کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم رواں برس جولائی میں انگلینڈ کا دورہ کرے گی جہاں قومی ٹیم 4 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔

برمودا تکون کی پراسراریت کی بنیادی وجہ

برمودا تکون کی پراسراریت کی بنیادی وجہ؟ ۔ فوٹو : فائل
کائنات بے شمار اسرار اور عجوبوں سے بھری پڑی ہے اور انسان راز ہائے قدرت کو بے نقاب کرنے کی سعی کررہا ہے۔ علوم بالخصوص سائنس سے کام لیتے ہوئے ابن آدم ابتدا سے لے کر اب تک کائنات کے ان گنت رازوں سے پردہ اٹھا چکا ہے۔
اس کے باوجود نہ جانے کتنی گتھیاں اس کی منتظر ہیں۔ اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کی رسائی نظام شمسی کے چند ہی سیاروں تک ہوسکی ہے۔ نیز کرۂ ارض پر بھی کئی مظاہر اس کے لیے ہنوز معما ہیں۔ ان میں سے ایک برمودا تکون یا برمودا ٹرائی اینگل ہے۔ یہ دراصل مثلث نما سمندری علاقہ ہے جو برٹش اوورسیز ٹریٹری سے لے کر شمالی بحر اوقیانوس اور فلوریڈا کے ساحل سے لے کر پورٹوریکو کی بندرگاہ تک پھیلا ہوا ہے۔ برمودا مثلث کی پراسراریت کا سبب اس علاقے میں لاپتا ہوجانے والے ہوائی اور بحری جہاز ہیں۔
1945ء سے 1965 تک برمودا مثلث میں درجن سے زائد بحری اور ہوائی جہاز لاپتا ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آج تک ان جہازوں کا کوئی ٹکڑا نہیں ملا اور نہ ہی ان میں سوار مسافروں کی کوئی نشانی دنیا کے سامنے آسکی۔
جہازوں اور ان کے بدقسمت مسافروں کو سمندر نگل گیا یا آسمان، سائنس داں اب تک نہیں جان سکے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 1965ء کے بعد سے اب تک اس علاقے سے ان گنت جہاز صحیح سلامت گزر چکے ہیں۔
اب سائنس دانوں نے برمودا تکون میں جہازوں کے غائب ہونے کی وجہ جان لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ناروے کی آرکٹک یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بحیرۂ اوقیانوس کی تہ میں وسیع و عریض گڑھے دریافت کیے ہیں۔ ان میں سے بعض نصف میل چوڑے اور 150 فٹ گہرے ہیں۔
ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہوائی اور بحری جہازوں کے غائب ہونے کا راز ان گڑھوں میں پوشیدہ ہوسکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ یہ گڑھے میتھین گیس کے ذخائر کی وجہ سے بنے ہیں۔ ناروے کا یہ ساحل قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہ کے نیچے میتھین گیس ذخیرہ ہوتی رہتی ہے، جب اسے اخراج کا راستہ نہ ملے تو وہ جگہ دھماکے سے پھٹ جاتی ہے اور تہ میں گڑھا پڑ جاتا ہے۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سطح زمین پر طاقت ور بم کے دھماکے کے نتیجے میں گڑھا پڑ جاتا ہے۔ سمندر کی تہ میں نصف میل چوڑے اور ڈیڑھ سو فٹ گہرے گڑھوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ہونے والے دھماکے ایٹم بم کے دھماکے جیسے ہوں گے۔
ان دھماکوں کے نتیجے میں سمندر اور اس سے اوپر فضا میں پیدا ہونے والا زبردست ارتعاش بڑے بڑے جہازوں کو بھی تنکے کی طرح بکھیر دینے کے لیے کافی ہوگا۔ گذشتہ برس ایک روسی سائنس داں نے بھی میتھین گیس کے تعاملات ہی کو جہازوں کے غائب ہونے کا سبب قرار دیا تھا۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے درست ہونے کی تصدیق برمودا مثلث میں کسی جہاز کے دوبارہ غائب ہونے کے واقعے کے بعد ہی ہوسکتی ہے۔

پانامہ لیکس کا دوسرا بم پھٹ گیا، عمران خان کے فنانسر اور علیم خان بھی آف شور کمپنیوں کے مالک

آف شور کمپنیوں کے ذریعے 12 کھرب ڈالر سے زائد سرمایا بیرون ممالک منتقل کیا گیا، رپورٹ۔ فوٹو؛ فائل
پاناما: دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خفیہ اکاؤنٹس اور کمپنیوں سے متعلق دستاویزات شائع کر کے تہلکہ مچانے والی پاناما لیکس کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آ گیا ہے جس میں تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے فنانسر اور علیم خان سمیت سیکڑوں پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔
پاناما لیکس کی جانب سے جو نئی دستاویزات شائع کی گئی ہیں ان میں مزید 400 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، آئی سی آئی جے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آف شور کمپنیوں کے ذریعے 12 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ بیرون ممالک منتقل کیا گیا جس میں سے زیادہ ترسرمایہ ابھرتی ہوئی معیشت والے ممالک میں منتقل کیا گیا۔ بیرون ملک سرمایہ بھیجنے والے ممالک میں چین، روس، ملائشیا، تھائی لینڈ، انگولا اور نائیجیریا بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے فنانسر اور قریبی دوست ذوالفقار عباس بخاری عرف زلفی 6 آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جب کہ پی ٹی آئی رہنماعلیم خان کا نام بھی آف شور کمپنیاں بنانے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔
سابق وزیراعظم شوکت عزیزدور کے وزیر صحت نصیر خان کے بھائی ظفراللہ خان اور بیٹے محمد جبران کی بھی آف شورکمپنی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور سے تعلق رکھنے والے سیٹھ عابد کے بیٹے ساجد محمود ورجن آئی لینڈ میں کمپنی کے مالک نکلے، سیٹھ عابد کے خاندان کی 30 آف شورکمپنیاں منظرعام پر آئی ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے دوست عرفان اقبال بھی 3 آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق ایم ڈی عبدالستار ڈیروکی بھی غیرملکی کمپنیاں ہیں، کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدرشوکت احمد کے نام کمپنی رجسٹرڈ، بیٹا اور بہو شیئر ہولڈرز میں شامل ہیں۔ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کی والدہ صباعبید بھی 3 غیر ملکی کمپنیاں رکھتی ہیں۔
ایڈمرل ریٹائرڈ مظفرحسین کے صاحبزادے اظہرحسین بھی ایک غیرملکی کمپنی میں شیئر ہولڈرہیں، پیپلزپارٹی کی سابق سینیٹر رخسانہ زبیری نے بھی غیرملکی کمپنی میں سرمایہ کاری کی جب کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے کزن طارق اسلام بھی آف شور کمپنی رکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیٹر رخسانہ ذبیری نے آف شور کمپنی میں اپنا نام شامل کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں، تمام اثاثے اپنی رقم سے خریدے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاناما لیکس نے اپنے پہلے ایڈیشن میں آف شور کمپنیاں یا پھر خفیہ اکاؤنٹس رکھنے والے 250 پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 10 لاکھ سے زائد شخصیات کے نام شائع کئے تھے، پانامالیکس کی پہلی قسط میں وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادوں کے نام سامنے آنے پر وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کے ٹی او آرز کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا تھا جب کہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں باورچیوں کا کال؛ ریستوراں بند ہونے لگے

ریستوراں مالکان حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ باورچیوں کی طلب پوری کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی کی جائے:فوٹو : فائل
برطانیہ میں جنوبی ایشیائی باشندے لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی، بھارتی اور بنگلادیشی ثقافتیں، برطانوی ثقافت کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس ادغام کی ایک جھلک دیسی کھانوں کی صورت میں مقامی ریستورانوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جنوبی ایشیائی باشندوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر دیسی ریستورانوں کے علاوہ انگریز مالکان کے ریستورانوں میں بھی دیسی کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ روایتی مسالے دار اور شوربے والے کھانے انگریز بھی شوق سے کھاتے ہیں۔ اور تو اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ بھی دیسی کھانوں کی شوقین ہیں۔
دیسی پکوانوں کی صنعت جسے کری انڈسٹری ( curry industry) کہا جاتا ہے، برطانوی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ تین سال قبل اس صنعت کا حجم 4.2 ارب پاؤنڈ تھا اور اس وقت یہ صنعت ایک لاکھ افراد کو روزگار مہیا کررہی تھی۔ ان میں بڑی تعداد پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلادیشی کھانے پکانے کے ماہر باورچیوں کی تھی۔
برطانیہ کی یہ اہم صنعت ان دنوں شدید مشکلات کا شکار ہے، کیوں کہ اسے ماہر باورچیوں ( شیف) کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ باورچیوں کا کال پڑجانے کے باعث ڈیڑھ سال کے دوران 600 ریستوراں بند ہوچکے ہیں! 2013ء میں برٹش کری ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک میں ماہر باورچیوں کی ضرورت پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا جو ہنوز وفا نہ ہوسکا۔ تین سال کے دوران ماہرباورچیوں کی ضرورت انتہا کو چُھونے لگی ہے اور یہ صنعت بحرانی صورت حال سے دوچار ہوچکی ہے۔
باورچیوں کی عدم دستیابی کا سبب امیگریشن کے قوانین ہیں جو بہ تدریج سخت ہوتے جارہے ہیں۔ امیگریشن قوانین کی یہ سختی ریستورانوں کو بھاری پڑ رہی ہے، جو ضرورت کے مطابق ماہر باورچی تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ کھانے پکانے کے ماہرین کی قلت کے باعث گذشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران چھے سو سے زائد ریستوراں بند ہوچکے ہیں اور مزید چار ہزار ریستورانوں کی بندش کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

بنگلادیشی ریستورانوں کے مالکان کی تنظیم کے صدر امام الدین نے مقامی روزنامے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ مڈلینڈز میں ہر ہفتے ایک یا دو ہندوستانی ریستوراں بند ہورہے ہیں۔ متعدد ریستوراں برائے فروخت ہیں مگر خریدار کوئی نہیں۔ سبب وہی ہے کہ جب کاری گر نہیں ہوں گے تو کاروبار کیسے چلے گا۔
ریستوراں مالکان حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ باورچیوں کی طلب پوری کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی کی جائے۔ برٹش کری ایوارڈز کے بانی انعام علی کی سربراہی میں ریستوراں مالکان نے وزیراعظم کو پچھتر صفحات پر مشتمل درخواست بھجوائی ہے جس میں کری انڈسٹری کو درپیش اس سنگین مسئلے کا حل پیش کیا گیا ہے۔
اس صورت حال میں برطانیہ میں مقیم باورچیوں کی چاندی ہوگئی ہے، اور اب وہ منھ مانگا معاوضہ طلب کررہے ہیں۔ دو برس قبل باورچیوں کا فی ہفتہ معاوضہ 350 سے 400 پاؤنڈ تھا جو اب 700 سے 800 پاؤنڈ تک پہنچ گیا ہے۔

کراچی کے علاقے لیاری میں دستی بم حملہ، 14 افراد زخمی

زیادہ تر زخمیوں کو سر اور سینے میں زخم آئے ہیں جن میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک ہے، طبی عملہ۔ فوٹو: فائل
 کراچی: لیاری میں دستی بم حملے میں 2 بچوں اور خاتون سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں لیاری کے علاقے سنگولین میں ایک ہوٹل کے قریب دستی بم حملے میں 2 بچوں اور خاتون سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے۔ ایس پی لیاری آفتاب نظامانی کا کہنا ہے کہ سنگولین میں کریکر حملہ لیاری گینگ وار کے گرفتار سرغنہ عزیر بلوچ کے گھر کے عقب میں ہوا، 2 ملزمان کریکر لے کر بیٹھے تھے جو ان کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا، دونوں ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔
ریسکیو اہلکاروں نے دستی بم حملے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا جہاں طبی عملے کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو سر اور سینے میں چوٹیں آئی ہیں جن میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates