ایوب کی بیماری کے دوران یحییٰ خان نے اقتدارپر قبضے کا منصوبہ بنالیا تھا

حکمرانوں کی بیماری کے دوران جنم لینے والی قیاس آرا ئیوں اور محلاتی سازشوں کا بیان ۔ فوٹو : فائل
حکمران بیمار پڑجائے تو افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے، جس کے جو جی میں آئے بول دیتا ہے۔ عوام کے اندیشہ ہائے دوردراز اپنی جگہ ، سرکاری عمال میں سے بھی کئیوں کے دل میں اقتدار پر تصرف جمانے کی تمنا جاگ اٹھتی ہے۔
ہمارے ہاں پہلے حکمران کو بیماری آلیتی تواس کا علاج ملک میں ہوتا، دوسرے وہ کسی سیاسی بحران کے بیچ بستر سے نہ لگتا، اس لیے کم سے کم مخالفین کے حوالے سے، اس نوع کی خبریں نہیں چلتی تھیں کہ اب موصوف کبھی سرزمین پاک پر قدم رنجہ نہیں فرمائیں گے، جیسا کہ 2011ء میں میمو گیٹ اسکینڈل کے دوران بعض سیاستدانوں ، صحافیوں اور اینکروں نے بڑے یقین سے کہا کہ صدر آصف علی زرداری وطن نہیں لوٹیں گے۔
پر وہ پلٹ آئے ۔ پاکستان میں حکمران جب جب علیل ہوئے اوراس باعث امور مملکت میں رخنہ پڑا تو طرح طرح کی کہانیوں نے جنم لیا ۔ اس سلسلے کا آغاز بانیٔ پاکستان کی علالت سے ہوا۔ وہ جون 48ء میں زیارت چلے گئے، جہاں ڈاکٹر ان کی صحت یابی کے لیے سرگرم رہے۔ فاطمہ جناح ، بھائی کی تیمار داری کے لیے ہمہ وقت موجود رہیں۔ ان دنوں ایک روز اچانک وزیراعظم لیاقت علی خان نے مرکزی حکومت کے سیکرٹری جنرل، چودھری محمد علی کو اپنے ساتھ کیا ، اور بغیرکسی پیشگی اطلاع کے، قائداعظم کی خیریت دریافت کرنے زیارت جا پہنچے ۔
وزیر اعظم نے معالج سے بیماری کی تشخیص سے متعلق جاننا چاہا توکرنل الٰہی بخش نے صاف انکار کر دیا ۔ چودھری محمد علی نے ان سے کہا ’’آپ کا فرض ہے کہ وزیراعظم کو ٹھیک ٹھیک بتائیں کہ قائد اعظم کس مرض میں مبتلا ہیں۔‘‘ اس پر الٰہی بخش نے جواب دیا کہ وہ مریض کی اجازت کے بغیر، ان کے مرض سے متعلق کچھ نہیں بتا سکتے۔ اگلے دن قائد اعظم کے علم میں یہ بات آئی تو انھوں نے اپنے معالج سے کہا کہ ’آپ نے بہت اچھا کیا، میں مملکت کا سربراہ ہوں ، اور جب میں مناسب سمجھوں گا تو خود قوم کو اپنی بیماری کی نوعیت سے مطلع کروں گا ۔‘
لیاقت علی خان کے دورے میں ایک اہم بات یہ ہوئی کہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم کو وزیر اعظم کی آمد کی اطلاع دی تو وہ بولے: ’’ تم جانتی ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میری علالت کتنی شدید ہے، میں کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہوں۔ ‘‘ فاطمہ جناح کی بات یہیں ختم نہیں ہوتی ، انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ایسے عالم میں جب انھیں بھائی کی بیماری نے پریشان کر رکھا تھا ، کھانے کی میز پر وزیر اعظم خوشگوار موڈ میں خوش گپیاں کرتے رہے ۔
مادر ملت نے تو یہ باتیں لکھ دیں، لیکن سچائی سے کد رکھنے والوں کو پسند نہ آئیں، اس لیے فاطمہ جناح کی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ کی اشاعت کا معاملہ التوا کا شکار رہا اور جب قائد اعظم اکیڈمی نے اسے شائع کیا تو اس میں لیاقت علی خان سے متعلق کتاب کا وہ حصہ ،جس سے ہم نے، ان کی آمد پر قائداعظم اور فاطمہ جناح کے تاثرات نقل کئے ہیں، حذف کر دیا ،وہ تو خدا بھلا کرے قدرت اللہ شہاب کا ،جنھوں نے اسے ’’شہاب نامہ‘‘ کا حصہ بنا دیا ۔ لیاقت علی خان کے دور میں فاطمہ جناح کی ریڈیو تقریر سنسرکے عمل سے گزری ، جب وہ دنیا میں نہ رہیں تو ان کی کتاب کے اس حصے سے،جس میں لیاقت علی خان کا ذکر تھا ،وہی سلوک ہوا ۔
جمہوریت کش گورنرجنرل غلام محمد کی بیماری کا کیا ذکر ہوکہ موصوف جب تک اقتدار سے چمٹے رہے، ملک اور ان کی صحت کے معاملات بگڑے ہی رہے۔ گفتگو ان کی پلے نہ پڑتی۔ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے سے وہ عاجز۔ ذہنی طور پر چوکس نہ تھے۔ ایوب خان نے اپنی کتاب ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں جس کا نہایت عمدہ ترجمہ ممتاز ادیب غلام عباس نے ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ‘‘ کے عنوان سے کیا،لکھا ۔:
اسکندرمرزا ، چودھری محمد علی اور میں ، ہم تینوں گورنر جنرل کی کوٹھی پر پہنچے ۔ گورنر جنرل اوپرکی منزل پر اپنی خواب گاہ میں لیٹے ہوئے تھے۔ ان کے خون کا دباؤبہت بڑھ گیا تھا اور پیٹھ میں بڑی سخت تکلیف تھی ۔ جس کی وجہ سے وہ سیدھے ایک تختے پر چاروں شانے چت لیٹنے پر مجبور تھے ۔وہ غصے سے آگ بگولا ہو رہے تھے ، اور گالیوں کی بوچھاڑ تھی کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھی ۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ گالیاں کسی کی سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ چودھری محمد علی نے جرات کر کے کچھ کہا ،اس کے جواب میں ان پر بھی بوچھاڑ پڑی۔ ہم ان کی خدمت میں یہ گزارش کرنا چاہتے تھے کہ آپ محمد علی (بوگرہ)کو ایک موقع اور دیں۔ اس کے جواب میں انھوں نے غصے میں غراکر کہا ’’جاؤ۔ جاؤ دور ہو جاؤ، ان کی زبان سے بار بار ’’نہیں ،نہیں ‘‘کے الفاظ نکلتے ، وہ بس ہم کوبھگا دینا چاہتے تھے۔‘‘
خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمیٰ سے اور پھر ہنگامی حالات کا اعلان کر کے قانون ساز اسمبلی کو فارغ کرنے والے غلام محمد لگتا ہے پیدا ہی جمہوریت کی ایسی تیسی کرنے کے لیے ہوئے تھے ۔
اور تو اپنے دور میں انھوں نے کوئی تیر نہیں مارا۔ ایک دفعہ جب وہ بستر علالت پر تھے، معالج نے پیغام بجھوایا کہ اب وہ کوئی دم کے مہمان ہیں،اس لیے جس نے ملنا ہو مل لے، ایسے میں وزیراعظم ، کابینہ اور فوج کے کمانڈر انچیف ، زندہ حالت میں ان کا آخری دیدار کرنے بھاگم بھاگ آئے ،ایوب خان نے ان کے سرہانے کھڑے ہو کر کچھ تعریف کی۔ یہی کچھ دوسرے حاضرین بھی کرنے کو پر تول رہے تھے کہ غلام محمد کے جسم میں جنبش پیدا ہوئی ۔
انھوں نے ہاتھ ہلائے اور اپنے ہوش میں آنے کا اعلان کیا تو سب حاضرین رفو چکر ہو گئے، اور بیچارے گورنرجنرل صاحب اسٹاف سے پوچھتے پھرے کہ جب وہ بے ہوش تھے کون کیا فرما رہا تھا ۔ فالج کے حملے کے بعد وہ کسی جوگے نہ رہے تو ان کی سبکدوشی مسئلہ بن گیا، جسے اس زمانے کے جینئس حضرات نے حل کرلیا کہ وہ توجسمانی طور پر توانا بندوں سے استعفا لے سکتے تھے ، یہ تو لاچار غلام محمد تھے ،جن کے نزار بدن میں لہو ہی کتنا تھا ۔
ایوب خان وہ حکمران تھے، جن کی بیماری نے سب سے زیادہ افواہوں اور وسوسوں کوجنم دیا اور وہ جب تک موت کے منہ سے واپس نہیں آگئے، یحییٰ خان اقتدار پر قبضے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اس تقریب کا احوال لکھا ہے، جس میں بیماری ان پر حملہ آور ہوئی :
29جنوری 1968ء کے روز اردن کے شاہ حسین کراچی آئے ہوئے تھے ۔ اسی شام راولپنڈی کے انٹرکونٹی نینٹل میں ان کا عشائیہ تھا ۔ صدر ایوب جب ہوٹل پہنچے تو ان کا رکھ رکھاؤ اور چہرہ مہرہ ان کے معمول کے حساب سے نارمل نظر نہ آتا تھا ۔ دعوت کے ہال میں داخل ہونے سے پہلے وہ سیدھے بار(شراب خانہ) گئے۔ اور ایک گلاس میں بہت سی وہسکی ڈلوا کرپانی ۔۔۔یا سوڈا واٹرملائے بغیر اسے ایک ہی سانس میں غٹا غٹ چڑھا گئے ۔ اس کے بعد یہی عمل انھوں نے چند بار دہرایا ۔ وہ شراب پیتے ضرور تھے لیکن اس طرح کھڑے کھڑے ندیدوں کی طرح نیٹ وہسکی کے گلاس پر گلاس چڑھانا ان کا دستور نہ تھا ۔ ہوٹل کی بار میں میں اسی طرح کئی گلاس پینے کے بعد ان کی آواز کس قدر خمار آلود ہو گئی۔
کھانے کے بعد جب وہ پہلے سے تیار کردہ لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو غالباً ان کا عارضۂ قلب ان کے رگ وپے میں کسی نہ کسی صورت میں رینگنا شروع ہوچکا تھا ۔ ان کی طبیعت ہرگز ٹھکانے نہ تھی۔ یہاں تک کہ اپنی تقریر پڑھتے پڑھتے وہ بیک بار اس کے دو ورق الٹ گئے ۔ اور انھیں اپنی اس غلطی اور بے ربطی کا احساس تک نہ ہوا ۔ اور و ہ بدستور آگے پڑھتے چلے گئے ۔ دعوت ختم ہونے کے بعد جب وہ ایوان صدر واپس گئے تو اسی رات ان پر نہایت شدید ہارٹ اٹیک ہوا ۔‘‘
اس صورت حال میں یحییٰ خان فوراً حرکت میں آگئے۔ ایوان صدر پر قبضہ جمالیا اور بیرونی دنیا سے اپنے باس کا رابطہ کاٹ دیا ۔ چند بندوں کے سوا ایوان صدرمیں کسی کوآنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ سنیئر وزیرخواجہ شہاب الدین کو گیٹ سے لوٹا دیا گیا، جس سے انھیں شک گزرا کہ شاید نیا انقلاب ہو گیا ہے اور ایوب خان مقید ہیں۔ اور تو اور ایوب خان کی ناک کا بال سمجھے جانے والے الطاف گوہر کو بھی اذن حضوری نہ ملا۔ ایک میڈیکل بلیٹین صدر کی صحت کے بارے میں جاری کیا جاتا ، جس کے متن کی صحت پرکوئی یقین نہ کرتا ۔ نامور براڈ کاسٹربرہان الدین حسن کے بقول’’ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی نے سرکاری ہدایات کے مطابق پہلے خبر دی کہ صدر کو انفلوئنزا ہوگیا ہے چند دن بعد وائرس سے ہونے والے نمونیہ کی خبر دی گئی جب وہ کئی ہفتے بستر علالت سے نہ اٹھ سکے توکہا گیا کہ وہ Pulmonary embolismکے عارضہ میں مبتلا ہیں ۔ یہ انتہائی خطرناک مرض ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے ۔
جب عارضہ کی بابت خبر ریڈیو پاکستان کے نیوز ڈیسک پرپہنچی توسوال پیدا ہوا کہ اس بیماری کا اردو میں کیا ترجمہ کیا جائے ۔ وزارت اطلاعات سے مشورہ کرنے کے بعد طے پایا کہ اس کا اردو میں ترجمہ نہ کیا جائے اور انگریزی لفظ ہی استعمال کیا جائے تاکہ سامعین کی اکثریت اس مہلک بیماری کی ماہیت کوقطعاً نہ سمجھ سکے۔ ‘‘
ایوب خان پر بیماری کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ خود انھیں جانبر ہونے کا یقین نہ تھا ،اس لیے انھوں نے اپنے بیٹے گوہر ایوب سے کاغذقلم مانگا اور کہا’’میں بچ نہیں سکوں گا۔ تم مجھ سے وعدہ کروکہ مرنے کے بعد مجھے ریحانہ میں میری والدہ کی قبرکے پہلو میں دفن کرو گے۔ ‘‘یحییٰ خان کی ہوس اقتدار کے باب میں گوہر ایوب نے اپنی کتاب ’’ایوان اقتدار کے مشاہدات ‘‘میں بتایا ہے کہ ہانگ کانگ کے دورے کے دوران جب یحییٰ خان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا آیندہ صدر کون ہو گا تو موصوف نے اپنی طرف اشارہ کیا۔ یحییٰ خان کو لگتا تھا کہ ایوب خان نہیں بچیں گے مگر ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ،فیلڈ مارشل کی طبیعت رفتہ رفتہ سنبھلنے لگی۔
مغربی پاکستان کے گورنر جنرل موسیٰ سے ملاقات کی تصویراخبارات کو جاری کی گئی، لیکن لوگوں کے ذہنوں سے شکوک رفع نہ ہوئے۔ اس کے بعد ٹی وی پر بھی صدرکی مہورت ہوئی لیکن بات بنی نہیں۔ صدرکی بحالیٔ صحت کا یقین لوگوں کواسی وقت آیا جب انھوں نے قوم سے خطاب کیا ،بقول الطاف گوہر ’’یحییٰ خان اور ان کا سازشی ٹولہ اقتدار کی غلام گردش میں جس خاموشی سے داخل ہوا تھا اسی طرح چپکے سے نکل گیا۔
لیلائے اقتدار ان کے پہلو سے آنکھ بچا کر نکل گئی تھی مگر وہ پر امید تھے کہ اقتدار کی منزل اب بہت دور نہیں ہے۔‘‘ صحت یابی کے بعد ایوب خان نے سرکاری فرائض انجام دینے شروع کر دیے، لیکن بقول اصغرخان ،ان میں پہلی سی توانائی نہ رہی اور وہ اپنے ان مشیروں پرزیادہ انحصار کرنے لگے ، جن کی اپنی حیثیت مشکوک تھی۔ ایوب خان نے اپنی ڈائریوں میں بیماری کا ذکر ضرور کیا لیکن سیاسی ریشہ دوانیوں کا حوالہ نہیں دیا ۔
قائد اعظم، غلام محمد اور ایوب خان اس اعتبار سے خوش قسمت تھے کہ وہ زمانہ الیکٹرانک میڈیا اور اینکروں کا نہ تھا وگرنہ ان کی بیماری کی خبریں خوب مرچ مسالہ لگا کر پیش کی جاتیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو آصف علی زرداری اور نوازشریف نے اپنی بیماری کے دوران خوب بھگتا۔ خاص طور سے اول الذکر نے۔ دونوں کی بیماری میں یہ قدر مشترک رہی کہ دونوں سیاسی بحران کے دنوں میں علاج کرانے بیرون ملک گئے،اس واسطے قیاس آرائیوں کا سر اٹھانا لازمی تھا ۔
آصف زرداری میمو گیٹ اسیکنڈل کی وجہ سے شدید دباؤ میں آکر بیرون ملک سدھارے ۔ کسی نے کہا کہ انھیں فالج ہو گیا توکوئی لقوہ کی بات کرنے لگا۔ امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین نے دعویٰ کیا کہ زرداری میمو سیکنڈل کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہیں اور طبی بنیادوں پر صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں جب بڑے بڑے صحافی لوگ کہہ رہے تھے کہ آصف علی زرداری وطن واپس نہیں آئیں گے تو معروف صحافیوں میں غالبا ً حامد میر ہی تھے جن کا خیال تھا کہ و ہ ضرور واپس آئیں گے، اور پھر ان کی بات درست ثابت ہوئی ۔
وزیر اعظم نوازشریف کے بیٹوں کا نام پانامہ لیکس میں آنا ،ان کے لیے پریشانی اور خفت کا باعث بنا ۔ قوم سے خطاب میں انھوں نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی، ساتھ میں ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان کیا ،جسے اپوزیشن نے مسترد کر دیا۔ ان پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا تھا کہ ایسی خبریں آنی شروع ہوئیں کہ ان کی طبیعت ناساز ہے، جس کی وجہ پانامہ لیکس کو قرار دیا گیا۔ قیاس آرائیوں کو اس وقت بڑھاوا ملا جب یہ خبر نکلی کہ وزیر اعظم اپنے چیک اپ کے لیے لندن جائیں گے۔ اس پر کسی نے کہا کہ وہ آصف علی زرداری کے دربار میں حاضری دینے گئے ہیں، تو کسی نے فرمایا، اس دورے کا تعلق پانامہ لیکس سے ہے۔ مائنس ون فارمولے کی بات بھی اڑی۔متبادل وزرائے اعظم کے نام بھی پیش کئے جانے لگے۔
شہباز شریف کی پانامہ لیکس کے معاملے میں خاموشی اور نواز شریف کا دفاع نہ کرنے کو دونوں بھائیوں میں اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔ یہ افواہ بھی پھیلی کہ شریف خاندان میں سیاسی وراثت کا تنازع پیدا ہوگیا ہے ۔ ایک صاحب نے نواز شریف کی وطن واپسی سے ایک دن پہلے پیش گوئی کی کہ وہ وطن واپس نہیں آئیں گے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ نوازشریف کے باہر جانے کی ٹائمنگ ایسی تھی کہ اس پر سوالات اٹھنے ہی تھے ۔ دوسرے یہ کہ جس ملک میں لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں وہاں حکمرانوں کا باہر جا کر علاج کرانا مستحسن عمل نہیں، کاش ہمارے حکمران اس ملک میں صحت کا ایک ہی ایسا مرکز بنا دیں، جہاں اوروں کا نہیں تو کم سے کم ان کا اپنا تسلی بخش علاج تو ہو سکے۔

پاکستانی خاتون کو امریکی صدر کی جانب سے عالمی کانفرنس میں خطاب کی دعوت

جہاں آرا پاکستان میں ایک بڑے سافٹ ویئرہاؤس کی سربراہ اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے پہچان رکھتی ہیں۔ فوٹو:فائل
ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی ممتاز شخصیت جہاں آرا کو امریکی صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاؤس مدعو کیا ہے جہاں وہ اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کیلی فورنیا میں منعقد ہونے والی ساتویں گلوبل انٹرپرنیئرشپ کانفرنس سے خطاب کریں گی۔
جہاں آرا پاکستان کے ایک بڑے سافٹ ویئر ہاؤس کی سربراہ اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ملک میں انتہائی سرگرم شخصیت کے حوالے سے پہچان رکھتی ہیں۔ انہیں اس کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ امریکی صدر باراک اوباما کے توسط سے موصول ہوا جو 23 اور 24 جون کو منعقد ہوگی۔ کانفرنس میں جہاں آراء ’’جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری، بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش میں کاروباری تنظیم کاروں کے لیے کیا مواقع ہیں‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کریں گی۔
ایکسپریس ٹریبون  سے بات کرتے ہوئے جہاں آرا کا کہنا تھا کہ ’’میں ہمیشہ ایسے مواقعوں کی تلاش میں رہتی ہوں جہاں دنیا کو میں یہ بتا سکوں کہ ہمارے ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں کیا ہورہا ہے،عالمی کانفرنس کے دوران دنیا کو پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی اور جدت کے بارے میں بتانا ایک زبردست تجربہ ہوگا کیونکہ جب دنیا کو پتا چلے گا کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم اقدام ہورہے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں اور پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔
ملک میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے کے علاوہ جہاں آرا کئی سماجی مسائل جیسے کہ اظہار رائے کی آزادی اور خاص طور پر انٹرنیٹ پراظہاررائے کی آزادی کے حق میں ’’بول بھی‘‘ جیسی مہم شروع کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ عالمی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہونے پر جہاں آرا نے کہا کہ شاندار تقریب کا دعوت نامہ ملنے پر امریکی صدر اور کانفرنس کے منتظمین کی مشکور ہوں۔
واضح رہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے حوالے سے جہاں آرا  کولمبیا یونی ورسٹی، نیویارک سے بھی خطاب کر چکی ہیں۔

میری آف شور کمپنی قانونی ہیں جس کی تمام دستاویزات موجود ہیں، علیم خان

وزیراعظم ہاؤس میں میرےکےخلاف میڈیا سیل بناہوا ہےلیکن کوئی کچھ بھی کرلےعمران خان کاساتھ نہیں چھوڑوں گا،رہنما پی ٹی آئی، فوٹو؛ فائل
لاہور: تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان نے شریف برادران  کو بیرون ملک اثاثے وطن واپس لانے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں جب کہ کچھ بھی کرلیں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علیم خان نے کہا کہ میری آف شور کمپنی قانونی ہے اور میرا ایک ایک اثاثہ ڈکلیئر ہے جس کے تمام دستاویزات موجود ہیں اور ریکارڈ ایف بی آر کے پاس موجود ہے جو عوام کے سامنے بھی پیش کررہا ہوں جب کہ این اے 122 کے کاغذات میں بھی کمپنی کا نام درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ کا جوابدہ ہوں جب کہ ایک ہی کمپنی میں 3 بار میرا نام آیا، اگر میری کوئی اور کمپنی ہے تو اس کے بارے میں بتائیں۔
علیم خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ان کےخلاف میڈیا سیل بنا ہوا ہے لیکن کوئی کچھ بھی کرلے کسی بھی حالت میں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ انہوں نے وزیراعظم کے خاندان کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران اپنے اثاثے ملک میں لائیں جب کہ دوسرے نمبر پر میرا احتساب کرلیں۔
واضح رہے پاناما لیکس کے انکشافات کی دوسری قسط میں پی ٹی آئی رہنما علیم خان کا نام بھی شامل ہے۔

مکی آرتھر پی سی بی حکام کو بھا گیا

گورا کوچ کرکٹرز کی پرانی بیماریوں کا علاج کرسکے گا؟۔ فوٹو: گیٹی/فائل
دو ہفتے قبل گگلی ماسٹر عبدالقادرکے انٹرویو کی غرض سے ان کی رہائشگاہ پر موجود تھا، باتوں باتوں میں عبدالقادر نے جب یہ بات کہی کہ کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی محض پیسے کا ضیاع ہے۔
کوچ کے اختیارات بھی کپتان کو سونپ دینے چاہیے، ماضی کے عظیم لیگ سپنر کی یہ بات سن کر میں یک دم چونک گیا، دفتر پہنچ کرروٹین کے مطابق یہ نیوز فائل تو کر دی لیکن اس خبر کی بازگشت ایک ہفتے تک سنائی دیتی رہی،ایک بھارتی اخبار نے انگلش میں ترجمہ کر اسے شائع کیا، بعد ازاں ہماری نیوز ایجنیسوں، مختلف ویب سائیٹس اور قومی اخبارات میں بھی یہ خبرچھپتی رہی،انٹرویو کے دوران عبدالقادر نے کچھ اور بھی ایسی باتیں کیں جو دل کو لگیں۔
غور کیا تو عظیم بیٹسمین جاوید میانداد کی باتیں بھی یاد آنا شروع ہو گئیں جوکہتے آئے ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کوچنگ کی ضرورت نہیں ہوتی،اگر اچھے کھلاڑی کوچز پیدا کرتے تو میرے تمام بچے بھی میری طرح عظیم کرکٹر ہوتے،کوچز کے حامیوں سے میرا سوال ہے کہ کیا انہیں کوچز نے سکھایا تھا، اچھے کھلاڑی اپنے کوچ خود ہوتے ہیں، حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ بات سچ بھی ہے کہ کیا50 سے100 ٹیسٹ کھیلنے والوںکو کوچ اب یہ بتائے گا کہ انہوں نے بیٹ کس طرح پکڑنا ہے اور گیند کس طرح پھینکنی ہے، بات قومی ٹیم کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی کوچ رکھنے کی نہیں بلکہ ہم تو بس کوچنگ کے نام پر تجربات کرنا اور اپنوں کو نوازنا جانتے ہیں۔
ہماری ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ کمزوربیٹنگ ہے، کیا غیرملکی بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے آنے سے یہ مسئلہ حل ہو گیا، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 میںشکستوں کا ذمہ دار کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس کو ہی قرار دیا گیا، کسی نے بھی گرانٹ فلاور سے یہ تک نہ پوچھا کہ بھئی تم بھی تو بیٹنگ کوچ تھے، بیٹسمین پرفارمنس کیوں نہ دے سکے؟ اسی طرح مختصر طرز کے عالمی ایونٹ سے کچھ دن قبل مشتاق احمد کو کوچنگ سے ہٹا دیا گیا، ان کی جگہ اظہر محمود کو بولنگ کوچ بنا دیا گیا، سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سپن کوچ کی جگہ یہ ذمہ داری سپنر کوچ کو ہی کیوں نہ سونپی گئی، اگر فاسٹ بولنگ کوچ ہی ضروری تھا تو کیا وقاریونس کے ہوتے ہوئے کوچنگ پینل میں اظہر محمود کی جگہ بنتی تھی؟
ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہی ہے کہ وقار یونس کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے تھے کہ قومی ٹیم کا اگلا کوچ کون ہوگا، ملکی ہو گا یا گرین شرٹس کی باگ ڈور کسی غیر ملکی کے سپرد کر دی جائے گی، چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے بھی اس موضوع پر طویل اننگزکھیلی، نئے کوچ کااعلان ایک، دو روزمیں ہو گا، پیر کو ہوگا، منگل یا بدھ کو ہو گا، آئندہ ہفتے ہو گا، وغیرہ وغیرہ کے اس چکر میں پورے 2 ماہ گزر گئے،4 مئی کو لاہور میں شیڈول پی سی بی کی گورننگ باڈی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں صحافیوں کو نئے کوچ کی خبر کا شدت سے انتظار تھا لیکن شہریار خان ایک بار پھر ’’ایک،دو روز میں کوچ کا اعلان ہوگا‘‘ کہہ کر بات گول مول کر گئے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے بارے میں مشہور ہے کہ کسی عام اور آسان سی بات کا بھی حل تلاش کرنا ہو تو ارباب اختیار اسے اتنا پیچیدہ اور مشکل بنا دیتے ہیں کہ خدا کی پناہ ، قومی ٹیم کے نئے کوچ کا معاملہ ہی دیکھ لیں،اس کی تعیناتی کو رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا، کوچ کمیٹی میں شامل وسیم اکرم اور رمیز راجہ کچھ بیانات دیتے رہے اور چیئرمین پی سی بی کچھ اور طرح کی باتیں کرتے رہے، فیصلے سے قبل ہی محسن خان کا کوچ بننے کا خواب چکنا چور کر دیاگیا، عاقب جاوید کو بھی ابتداء میں امید کی کرن ضرور نظر آئی لیکن بورڈ کے بدلتے تیور دیکھتے ہوئے انہوں نے درخواست ہی جمع نہ کروائی۔
انضمام الحق کے دل میں بھی کوچ بننے کی خواہش مچل رہی تھی لیکن انہیں چیف سلیکٹر بنا کریہ شمع کی گل کر دی گئی۔ پیٹر مورس اور سیٹورٹ لاء کے انکار کے بعد پی سی بی نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا قرعہ اس امیدوار کے نام نکالا جو ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم پرہی میچ فکسنگ کے الزامات بھی لگا چکا ہے، ایشیز سیریز سے صرف 2 ہفتے قبل آسٹریلوی بورڈ نے نہ صرف انہیں برطرف کیا، اس سے قبل جنوبی افریقی کپتان گریم سمتھ کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے کوچنگ سے مستعفی بھی ہونا پڑا، انہوں نے امپائرز پر جانبدارانہ امپائرنگ کے الزامات بھی لگائے۔
تاریخ شاہد ہے کہ پی سی بی نے جب بھی قومی ٹیم کی کوچنگ کا تاج ملکی کوچ کے سر پر سجایا تو عالمی سطح پر کامیابیاں وکامرانیاں ہمارا مقدر بنیں، گورے کوچز نے ہمیں ناکامیوں، مایوسیوں، رسوائیوں اور طعنوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ شائقین ابھی تک کرکٹ کے وہ حسین لمحات نہیں بھولے جب عمران خان کی قیادت اور انتخاب عالم کی کوچنگ میں قومی ٹیم نے آسٹریلیا کی سرزمین پر 1992ء کا ورلڈ کپ جیت کا گوروں کا غرور خاک میں ملایا تھا، ہماری نگاہوں میں ابھی تک وہ مناظر گھوم رہے ہیں جبکہ گرین شرٹس نے یونس خان کی کپتانی اور انتخاب عالم ہی کی کوچنگ میں 2009ء میں انگلینڈ میں ٹوئنٹی20 کا عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان کے بارے میں پراپیگنڈا کیا گیا کہ وہ ڈمی کوچ تھے، تربیتی کیمپوں یا میچز کے دوران کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنے یا ان کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے ان کی ٹانگوں میں مسلسل کھڑا ہونے کی سکت نہیں رہتی تھی، چلو مان لیتے ہیں وہ ڈمی کوچ تھے لیکن پھر بھی وہ امپورٹڈ کوچ سے تو کہیں بہتر تھے کیونکہ ان کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم کم از کم جیت تو رہی تھی، کیا محسن خان کا یہ کارنامہ کوئی بھلا سکتا ہے جب ان کی ہی کوچنگ میںمصباح الحق الیون نے متحدہ عرب امارات کے صحراؤں میں اس وقت کی کرکٹ کی سپر پاور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کیا تھا۔
مکی آرتھر سے پہلے 4 غیر ملکی کوچز کو قومی ٹیم کی کوچنگ کا موقع ملا، ان میں رچرڈ پائی بس، باب وولمر، جیف لاسن اور موجودہ ڈیو واٹمور شامل ہیں۔ان میں ایک بھی گورا کوچ ایسا نہیں ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر کوئی بڑی کامیابی دلائی ہو، اگر غیر ملکی کوچز کے پاس ہی فتوحات کے لیے جادو کی چھڑی ہے تو وہ اس کو گھما کر کینیا، زمبابوے، افغانستان یا متحدہ عرب امارات کو عالمی چیمپئن کیوں نہیں بنوا دیتے۔ رچرڈ پائی بس کو ایک نہیں 2 بار پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کرنے کا موقع ملا لیکن وہ ٹیم کو فتوحات کی راہوں پر گامزن کرنے کی بجائے کھلاڑیوںکو شر پسندی، اختلافات اور گروپ بندی کا سبق دے کر چلتے بنے۔
باب وولمر آئے تو انہوں نے ٹیم کے بیٹنگ آرڈر کے ساتھ اس قدر چھیڑ خوانی کی کہ ایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی ہم مستند اوپننگ جوڑی تلاش نہیں کر سکے ہیں، یہ وولمر کی مہربانیوں کا ہی نتیجہ تھا کہ گرین شرٹس ورلڈ کپ2007 کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئے اورجب باب وولمر جمیکا کے ہوٹل میں مردہ پائے گئے توابتداء میں اس کا ذمہ داربھی پاکستانی کھلاڑیوں کو قرار دیا گیا اور کپتان سمیت پلیئرز سے ملزمان کی طرح پوچھ گچھ کی جاتی رہی، جیف لاسن بھی گرین شرٹس کو بڑی کامیابی نہ دلا سکے، چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے انہیں بیکار کوچ قرار دے کر عہدے سے فارغ کر دیا۔ ڈیو واٹمور نے بھی قومی ٹیم کی کامیابیوں کو بریک لگائے رکھی۔
ڈیو واٹمور ہو،جولین فاؤنٹین، جیف لاسن ہو یا باب وولمر، یا دنیا کا بڑے سے بڑا کوچ، یہ کوچز مل کر بھی پاکستانی ٹیم کا قبلہ درست نہیں کر سکتے، ہمارے اورگوروں کے کلچر، رہن سہن، سوچ اور زبان میں زمین آسمان کا فرق ہے اور سب سے بڑا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ کھلاڑیوں میں حب الوطنی کا جذبہ اجاگر ہی نہیں کر سکتا جو ملکی کوچ پیدا کر سکتا ہے۔
جیت کا جذبہ لاکھوں روپے ماہانہ معاوضہ لینے والے غیر ملکیوں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔فضل محمود، حنیف محمد، ماجد خان، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، جاوید میانداد، سرفراز نواز اور عبدالقادر سمیت دوسرے ان گنت کھلاڑی کبھی بھی گریٹ کرکٹرز نہ بن پاتے، اگر ان میں آگے بڑھنے اور اپنے کھیل سے دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرانے کا جذبہ پیدا نہ ہوتا، گوروں کی بجائے اپنوں پر ہی انحصار کر کے اوج ثریا کی بلندیوں کو چھوا جا سکتا ہے لیکن پی سی بی نے ایک بار پھرمکی آرتھر کی صورت میں غیر ملکی کوچ کو ترجیح دی ہے۔
گوروں کا اصول ہے کہ اگر اس نے کمزور، ناتوا اور غلام قوموں پر حکمرانی کرنی ہے تو انہیں کسی بھی صورت سکھ، چین اور آرام سے نہ بیٹھنے دو،کسی نہ کسی مسئلے میں الجھائے رکھو، نیا گوراکوچ مکی آرتھر بھی پی سی بی کے’’بڑوں‘‘ کی نظروں میں جگہ بنانے کے لیے نت نئے تجربات کرے گا، ٹیم کی بیٹنگ آرڈر کے ساتھ چھیڑ خانی کرے گا، فٹنس کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ جم کرنے، مرغن غذاؤں سے پرہیز کرنے سمیت متعدد پروگرام ترتیب دے گا، بیٹ ہاتھ میں تھامے کھلاڑیوں کو ڈائیو لگا کر کیچز پکڑنے کی پریکٹس کروائے گا۔
ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر نہ سمجھ آنے والے آسٹریلوی لہجے میں کھلاڑیوں کو اپنے ماضی کے کارنامے سنائے گا اور جب پاکستان ٹیم کی عالمی مقابلوں میں شکستوں کا سفر طویل ہوتا جائے گا تو یہ کہہ کر چلتا بنے گا کہ میں نے تو بڑی کوشش کی، کھلاڑیوں کو پروگرام بھی بناکر دیئے، اب پلیئرز ہی اس پر عمل نہ کریں تو میں کیاکر سکتا ہوں، ایسی صورت حال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیارایک بار پھر نئے کوچ کی تلاش شروع کریں گے، نئی کوچ کمیٹیاں بنیں گی اور نئے کوچ کا اعلان ایک، دو روز تک، آئندہ ہفتے تک کے بیانات دے کر شائقین کھیل کے جذبات سے کھیلنے کی پریکٹس کی جائے گی۔

قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر18 لاکھ روپے ماہانہ وصول کریں گے

آرتھر نے پاکستان میں قیام پر آمادگی ظاہر کر دی ہے،اورفی الحال وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں رہائش پذیر ہوں گے۔ فوٹو: فائل
 کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے نومنتخب کوچ مکی آرتھر پی سی بی سے ماہانہ18 لاکھ روپے کا چیک سال میں  30 دن کی چھٹیاں اور ٹریول الائونس بھی حاصل کریں گے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر کو کوچنگ کے عوض 18 لاکھ روپے تنخواہ دی جائے گی انھیں سال میں  30 دن کی چھٹیاں اور ٹریول الائونس بھی دیا جائے گا۔  پی سی بی نے گذشتہ روز سابق جنوبی افریقی فرسٹ کلاس کرکٹر مکی آرتھر کو قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سونپی ہے، آرتھر نے پاکستان میں قیام پر آمادگی ظاہر کر دی ہے،اورفی الحال وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں رہائش پذیر ہوں گے۔ البتہ اگر بعد میں چاہا تو انھیں کوئی گھر کرائے پر لے کر دے دیا جائے گا، ان کو  سال میں 30 چھٹیاں ملیں گی، یہ انہی پر منحصر ہوگا کہ وہ کتنی بار اپنے آبائی وطن جاتے ہیں، پی سی بی انھیں ٹریول الائونس بھی دینے کا پابند ہوگا۔
واضح  رہے کہ سابق کوچ وقاریونس کو ماہانہ 15 لاکھ روپے ملتے تھے، بعض دیگر الائونسز ملا کر یہ رقم اور زیادہ ہوجاتی تھی، وقار یونس  ہر سیریز کے بعد اپنے سسرال آسٹریلیا چلے جاتے تھے جس پر انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

شاہد آفریدی، عمراکمل اور احمد شہزاد فٹنس ٹیسٹ کیلئے کیمپ میں طلب

دورہ انگلینڈ کے لئے کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ 13 مئی سے ایبٹ آباد میں لگے گا۔ فوٹو: فائل
لاہور: پی سی بی نے دورہ انگلینڈ سے قبل لگائے جانے والے فٹنس کیمپ کے لئے شاہد آفریدی، عمر اکمل اور احمد شہزاد کو طلب کر لیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ سے قبل لگائے جانے والے فٹنس کیمپ کے لئے آل راؤنڈر شاہد آفریدی، مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل اور اوپنر احمد شہزاد کو بھی طلب کر لیا ہے۔
دورہ انگلینڈ کی تیاری کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ سے  قبل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لینے کا باقاعدہ سلسلہ 13 مئی سے 5 جون تک ایبٹ آباد میں شروع ہو گا جب کہ پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کل سے شروع ہوں گے۔
یاد رہے کہ قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے دورہ انگلینڈ کے لئے ایبٹ آباد میں لگنے والے تربیتی کیمپ کے لئے 35 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا جس میں شاہد آفریدی، عمراکمل، احمد شہزاد اور فاسٹ بولر محمد عرفان کو ڈراپ کردیا گیا تھا جب کہ محمد حفیظ کی شرکت کو بھی فٹنس سے مشروط کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم رواں برس جولائی میں انگلینڈ کا دورہ کرے گی جہاں قومی ٹیم 4 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔

برمودا تکون کی پراسراریت کی بنیادی وجہ

برمودا تکون کی پراسراریت کی بنیادی وجہ؟ ۔ فوٹو : فائل
کائنات بے شمار اسرار اور عجوبوں سے بھری پڑی ہے اور انسان راز ہائے قدرت کو بے نقاب کرنے کی سعی کررہا ہے۔ علوم بالخصوص سائنس سے کام لیتے ہوئے ابن آدم ابتدا سے لے کر اب تک کائنات کے ان گنت رازوں سے پردہ اٹھا چکا ہے۔
اس کے باوجود نہ جانے کتنی گتھیاں اس کی منتظر ہیں۔ اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کی رسائی نظام شمسی کے چند ہی سیاروں تک ہوسکی ہے۔ نیز کرۂ ارض پر بھی کئی مظاہر اس کے لیے ہنوز معما ہیں۔ ان میں سے ایک برمودا تکون یا برمودا ٹرائی اینگل ہے۔ یہ دراصل مثلث نما سمندری علاقہ ہے جو برٹش اوورسیز ٹریٹری سے لے کر شمالی بحر اوقیانوس اور فلوریڈا کے ساحل سے لے کر پورٹوریکو کی بندرگاہ تک پھیلا ہوا ہے۔ برمودا مثلث کی پراسراریت کا سبب اس علاقے میں لاپتا ہوجانے والے ہوائی اور بحری جہاز ہیں۔
1945ء سے 1965 تک برمودا مثلث میں درجن سے زائد بحری اور ہوائی جہاز لاپتا ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آج تک ان جہازوں کا کوئی ٹکڑا نہیں ملا اور نہ ہی ان میں سوار مسافروں کی کوئی نشانی دنیا کے سامنے آسکی۔
جہازوں اور ان کے بدقسمت مسافروں کو سمندر نگل گیا یا آسمان، سائنس داں اب تک نہیں جان سکے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 1965ء کے بعد سے اب تک اس علاقے سے ان گنت جہاز صحیح سلامت گزر چکے ہیں۔
اب سائنس دانوں نے برمودا تکون میں جہازوں کے غائب ہونے کی وجہ جان لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ناروے کی آرکٹک یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بحیرۂ اوقیانوس کی تہ میں وسیع و عریض گڑھے دریافت کیے ہیں۔ ان میں سے بعض نصف میل چوڑے اور 150 فٹ گہرے ہیں۔
ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہوائی اور بحری جہازوں کے غائب ہونے کا راز ان گڑھوں میں پوشیدہ ہوسکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ یہ گڑھے میتھین گیس کے ذخائر کی وجہ سے بنے ہیں۔ ناروے کا یہ ساحل قدرتی گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہ کے نیچے میتھین گیس ذخیرہ ہوتی رہتی ہے، جب اسے اخراج کا راستہ نہ ملے تو وہ جگہ دھماکے سے پھٹ جاتی ہے اور تہ میں گڑھا پڑ جاتا ہے۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سطح زمین پر طاقت ور بم کے دھماکے کے نتیجے میں گڑھا پڑ جاتا ہے۔ سمندر کی تہ میں نصف میل چوڑے اور ڈیڑھ سو فٹ گہرے گڑھوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ہونے والے دھماکے ایٹم بم کے دھماکے جیسے ہوں گے۔
ان دھماکوں کے نتیجے میں سمندر اور اس سے اوپر فضا میں پیدا ہونے والا زبردست ارتعاش بڑے بڑے جہازوں کو بھی تنکے کی طرح بکھیر دینے کے لیے کافی ہوگا۔ گذشتہ برس ایک روسی سائنس داں نے بھی میتھین گیس کے تعاملات ہی کو جہازوں کے غائب ہونے کا سبب قرار دیا تھا۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے درست ہونے کی تصدیق برمودا مثلث میں کسی جہاز کے دوبارہ غائب ہونے کے واقعے کے بعد ہی ہوسکتی ہے۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates