ایڈولف ہٹلر کا مجسمہ 17.2 ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں نیلام

بچے کی جسامت کے اس متنازعہ مجسمے میں ہٹلر گھٹنوں پر بیٹھا ہے۔ فوٹو؛ اے پی
نیویارک: امریکی شہر نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں ہٹلر کا مجسمہ 17.2 ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں فروخت ہوا جسے اطالوی مجسمہ ساز ماؤریزیو کیتلان نے بنایا۔
بچے کی جسامت کے اس متنازعہ مجسمے میں ہٹلر گھٹنوں پر بیٹھا ہے، موم اور چیڑ سے بنے اس مجسمے کا نام HIM ہے جس کے بارے میں امید تھی کہ یہ 10 سے 15  ملین ڈالر میں فروخت ہو جائے گا۔ مجسمے کے خالق کا اس سے پہلے بڑی سے بڑی رقم حاصل کرنے کا ریکارڈ 7.9 ملین ڈالر تھا جو کہ اس مجسمے نے توڑ دیا ہے۔
اس مجسمے میں ہٹلر کا جسم ایک کم سن لڑکے جتنا ہے جو کہ اپنے گھٹنوں پر بیٹھا ہے، مجسمے میں ہٹلر نے اپنا روایتی سرمئی اونی سوٹ پہنا ہوا ہے اور ہاتھ سامنے کی جانب باندھے ہیں۔ یہ مجسمہ سن 2001 میں مکمل کیا گیا تھا اس کے خالق 55 سالہ کیتلان کا کہنا ہےکہ ہٹلر ایک خوف کی علامت ہے اس کی تصویر دیکھنا ایک دردناک عمل ہے حتیٰ کہ اس کا نام لینا بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مجسمے کو بنانے کے پیچھے ان کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں اور نہ ہی وہ کسی قسم کی شہرت کی طلب رکھتے ہیں

ایران کا 2 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

امریکی اور یورپی ممالک نے ایران کے میزائل تجربے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا۔ فوٹو: بشکریہ تسنیم نیوز ایجنسی
تہران: ایران نے درمیانے درجے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو 2 ہزار کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق عسکری حکام کا کہنا ہے کہ درمیانی رینج کا یہ میزائل 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر مار کرسکتا ہے اور تجربے میں اس نے انتہائی کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے بریگیدڈیئر جنرل علی عبدولاہی نے بتایا کہ اس میزائل کی درست ہدف تک رسائی کے کئی تجربات 2 ہفتے قبل کیے گئے تھے جس کی حد 2 ہزار کلو میٹر رکھی گئی اور میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔
ادھر اس تجربے پر امریکی اور یورپی ممالک کے ترجمان نے اپنا ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائلوں کے حالیہ ٹیسٹ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں کیونکہ یہ قوانین ایران کو ایٹمی ہتھیاروں لے جانے والے میزائلوں کی تیاری سے روکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے نیو کلیئر وار ہیڈ لانے جانے والے میزائل کے تجربے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ ہی ایران نیوکلیائی ہتھیار رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے میزائل ایٹمی وارہ ہیڈ لے جانے کے اہل ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں نے ایران پر ایٹمی معاملات سے وابستہ بعض پابندیاں اٹھالی تھیں لیکن تازہ میزائل ٹیسٹ کے بعد امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں ایران نے 2 بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے جس پر عالمی رد عمل سامنے آیا تھا۔

لاہورپولیس جلاد بن گئی، زیرحراست 2 افراد پرانسانیت سوز تشدد

حکام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے 4 اہلکاروں کو معطل کردیا جن میں انچارج انویسٹی گیشن اوراے ایس آئی بھی شامل ہیں۔ فوٹو:ایکسپریس نیوز
 لاہور: تھانہ شالیمار پولیس کے تفتیشی اہلکار 2 افراد کو الٹکا لٹکا کر ان پر بہیمانہ تشدد کرتے رہے اور جب ایکسپریس نیوز نے معاملے کو اٹھایا تو اعلی پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 4 اہلکاروں کو معطل کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے تھانہ شالیمار پولیس نے 6 روز قبل 2 افراد کو حراست میں لیا جس کے بعد انہیں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناتے رہے، تفتیشی ٹیم کے اہلکار دونوں افراد کو چارپائی سے باندھ کر الٹا لٹکا کر ان پر ڈنڈے برساتے رہے جب کہ دونوں افراد کو برہنہ کرکے ان کی چھترول بھی کی گئی اور جب ان کی حالت غیر ہونے لگی تو انہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا۔
دوسری جانب پولیس کے وحشیانہ تشدد کی خبر ایکسپریس نیوز پر چلنے کے بعد اعلی پولیس حکام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے 4 اہلکاروں کو معطل کردیا جن میں انچارج انویسٹی گیشن حماد بٹ اور اے ایس آئی طارق بھی شامل ہیں۔

توشۂ خاص ؛ اُردو کیوں ناگزیر ہے؟ ایک فکر انگیز تحریر

ہر گزرتا عشرہ کنفیوژڈ لبرلز (CONFUSED LIBERALS) یا مذہبی و نسلی انتہا پسندوں کا ایسا گروہ پیدا کررہا ہے:فوٹو : فائل
اگرکوئی درد مند پاکستانی ملک کو درپیش مسائل کی فہرست بنانا شروع کردے تو فوری توجہ طلب مسائل میں ناقابل رشک شرح خواندگی کے ساتھ ساتھ زبوں حال نظام تعلیم یقیناً فوری توجہ کے مستحق قرار پائیں گے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جہالت اور لاعلمی سے پیدا ہونے والی متوقع صورت حال کی پیش بینی تو کسی حد تک کی جاسکتی ہے مگر بظاہر سند یافتہ افراد میں پائی جانے والی لاعلمی اور بعض اوقات قومی زبان میں پڑھنے لکھنے سے معذوری ہمیں تیزی سے ایک ان جانے مگر مہیب مستقبل کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ایک وسیع تناظر میں دیکھیں تو کراچی سے گلگت تک پھیلے ہوئے بے شمار تعلیمی اداروں سے ہر سال ہزارہا طلبہ و طالبات فارغ التحصیل ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ کی مادری زبان بھی اردو ہے، کچھ دیگر زبانیں بولتے ہیں مگر اکثریت کو نصابی کتب کے علاوہ کچھ پڑھنے یا لکھنے کو دیا جائے تو ان کی استعداد پرائمری میں زیرتعلیم بچے جیسی ہوتی ہے۔
حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نوجوان بے قصور نظر آتے ہیں، کیوں کہ ان کو شروع سے تعلیم کے نام پر ایک ایسی دوڑ کا حصہ بنادیا گیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف کاغذ کا وہ ٹکڑا لے کر نکلنا ہے جس کے ذریعے کاغذی کارروائی کی خانہ پری کرکے ملازمت یا سماج میں سر اٹھاکر رہنے کے لیے درکار لیبل کا حصول ممکن ہوسکے۔
اس صورت حال پر میرا بھی دل ڈوب جاتا ہے جب میں یہ دیکھتی ہوں کہ علامہ اقبالؒ کے نام سے تو ملک کا بچہ بچہ واقف ہے لیکن ان کی شاعری میں نوجوانوں کے لیے موجود پیغامات سے کسی کی آشنائی ہی نہیں۔ قائداعظمؒ کے معمار پاکستان ہونے سے سب واقف ہیں لیکن انھوں نے قوم کے سامنے امانت، صداقت، دیانت اور بلا کی ذہانت کا جو معیار پیش کیا اس پر اس قوم کی علمی کم مائیگی کی وجہ سے دھند چھائی ہوئی ہے۔ چناںچہ موقع شناس، قائداعظم کو اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اسلام کے سچے سپاہی سے لے کر مکمل لبرل سیکولر لیڈر تک کچھ بھی بناکر پیش کردیتے ہیں۔
مذہبی معاملات میں منافرت کو فروغ دینا اور بھی آسان ہوجاتا ہے جب مطالعے سے نابلد افراد خود کسی قسم کی علمی استعداد کے بغیر تحقیق شدہ مسائل تک کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ آج کے دور میں یہ قابل عمل نہیں اور پھر یہ کہ اس امر پر تو سب متفق ہیں کہ قرآن کریم ہدایت و راہ نمائی کا حتمی سرچشمہ ہے، تاہم اس کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کے لیے جس علمی قابلیت اور زبان و بیان سے واقفیت کی ضرورت ہے اس تک ہمارے نظام تعلیم نے ہماری رسائی ہی نہیں رہنے دی۔ تاریخ سے حاصل اسباق کو بھی اسی طرح رد کرنے کا ’’فیشن‘‘ فروغ پارہا ہے۔
چناںچہ اپنی تاریخ سے گریز کی ایک راہ یہ بھی نکلی ہے کہ عربوں سے بالخصوص اور دیگر اہل عجم سے بالعموم صدیوں کے تاریخی، اتفاقی اور مذہبی رشتے توڑ کر خود کو سو فی صد راجا پورس یا موئن جو داڑو والوں کی باقیات ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے، مگر پھر ایسا سوچنے والوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو کس مذہبی و تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے علیحدہ وطن بنانے کی ضرورت پڑی؟ ساتھ ہی وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہی رہتے ہیں کہ برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں سے ہجرت کرکے یہاں آنے والے کسی راجہ پورس، موئن جو داڑو اور ہڑپہ کی کشش میں نہیں بل کہ برصغیر کی ہزار سالہ مسلم تاریخ کے تسلسل اور فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے یہاں آئے تھے۔
یہ تمام فکری مسائل صرف زبوں حال نظام تعلیم سے نکلنے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ ہی نہیں ہیں بل کہ انگلش میڈیم طرز تعلیم میں پروان چڑھتے نوجوان بھی اسی قدر تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔
موجودہ زبوں حال نظام تعلیم سے نکلنے والے افراد انگریزی سے تو نابلد ہوتے ہی ہیں اور قومی زبان پر بھی علمی گرفت نہیں رکھتے۔ اس طرح چوں کہ علم حاصل کرنے کے لیے درکار میڈیم یعنی زبان تک ان کی رسائی ہی نہیں رہتی چناںچہ وہ علم و دانش کے موتی چننے کے قابل ہی نہیں ہوپاتے ہیں۔ دوسری طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی جو پاکستان اور بیرون ملک کے قابل فخر اداروں سے سندیں لے کر آتے ہیں وہ اکثر سوچ اور فکر کے ایسے ڈھانچے میں ڈھل جاتے ہیں جو ان کو عوام الناس کے لیے اجنبی سا بنادیتا ہے۔ ان کی عمومی فکر اور سوچ اپنے ملک کے سماجی ڈھانچے سے مکمل عدم مطابقت رکھے ہوئے ناقابل عمل سی نظر آتی ہے کہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی قوم کو یہ بتانے کے قابل ہی نہیں ہوتے کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں فلاحی مملکت کیسے تشکیل دی جاسکتی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کا کون سا ماڈل قابل عمل ہوسکتا ہے۔
اسی صورت حال کا غیر جانب داری سے جائزہ لیں تو یہ دل خراش حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ عوام الناس اور ملک و بیرون ملک کے اعلیٰ اداروں سے فارغ التحصیل افراد میں فرق صرف تعلیم یافتہ اور ان پڑھ ہونے کا نہیں ہے، نہ ہی یہ معمول کا طبقاتی فرق ہے یہ تو سیدھا سادھا فکری محور کا فرق ہے کہ دونوں نے اپنی سوچ اور تجربے کو الگ الگ ماخذ سے لیا ہے۔ ساتھ ہی عوام الناس میں عام ملکی اداروں سے تعلیم یافتہ افراد بالخصوص اردو میں کم زور ہونے کو لیاقت کی ایک دلیل سمجھتے ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں جو وہ روایتی نظام تعلیم سے اخذ کرسکتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ صرف جہالت اور ناخواندگی ہی ہمارا مسئلہ نہیں ہے بل کہ ہم کم زور تعلیمی نظام کے خنجر سے بھی قتل ہورہے ہیں۔
ہر گزرتا عشرہ کنفیوژڈ لبرلز (CONFUSED LIBERALS) یا مذہبی و نسلی انتہا پسندوں کا ایسا گروہ پیدا کررہا ہے جو فلم اور ٹی وی ٹاک شوز سے لے کر ہتھیاروں تک کے ذریعے اپنے من پسند نظریات زبردستی دوسروں پر مسلط کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ تاہم نہ تو اس طرح قومی یک جہتی کے کسی تصور کو فروغ مل رہا ہے نہ ہی سوچ اور منطقی فکر کے دائرے وسیع ہورہے ہیں۔
اگر اس مہیب صورت حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے تو یقیناً ہمیں قائداعظمؒ کے اس فرمان سے مدد ملے گی کہ ’’پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی‘‘ قائد کی اصول پسندی، غیر جانب داری اور قوم کے لیے صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔
ان کی اپنی مادری زبان تو اردو بھی نہیں تھی، نہ ہی وہ کسی طور اردو داں تھے۔ اپنے بنائے ہوئے پاکستان کے لیے قومی زبان کا انتخاب کرتے ہوئے دیگر زبانیں ان کے پیش نظر رہی ہوں گی۔
ان میں یقیناً انگریزی، عربی، فارسی اور بنگالی اپنی وسعت اور ترقی کے لحاظ سے اس ملک کی قومی زبان بننے کی دعوے دار ہوسکتی تھیں، مگر اردو کی غالباً ایک ہی خوبی تھی جو وسعت اور ترقی پذیری میں ان زبانوں سے کم تر ہونے کے باوجود سب پر بازی لے گئی اور وہ تھی اردو کی وہ اعلیٰ ظرفی جس کے ذریعے یہ ہر فکر اور خیال کو خود میں جذب کرتے ہوئے ملک کے کسی ایک حصے میں رہنے والوں کے خیالات کو نہ صرف دوسرے حصے تک بہ آسانی پہنچاسکی ہے بل کہ اس میں برصغیر کی مسلم تاریخ کی سوندھی خوشبو، فکر عرب کی گونج اور تہذیب عجم کی دل آویزی بھی پوری توانائی سے پنہاں ہے۔ اردو کی ہمہ گیریت نے اسے یہ صلاحیت عطا کردی ہے کہ ایک طرف اس کے دامن میں اپنے بولنے اور سیکھنے والوں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے، دوسری طرف اسے کسی بھی مقامی یا بین الاقوامی زبان سے کسی بھی لفظ اور خیال کو لینے، اپنانے اور اپنا بنالینے میں کسی قسم کی جھجک نہیں ہے۔
اردو کو قومی زبان کا درجہ دیے جانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہاں کے باسیوں کو وہ فکری اساس میسر آجائے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے ایک مربوط سوچ رکھنے والی مضبوط نظریاتی قوم کو جنم دے۔ قومی زبان یقیناً ایک ایسی زبان ہی ہوسکتی ہے جس میں بیش بہا علمی، ادبی، تاریخی اور سب سے بڑھ کر نظریاتی ورثہ موجود ہو اور جو رابطے کی مضبوط زنجیر کے طور پر ہر علاقائی زبان کے آہنگ کو ملک کے دیگر حصوں تک لے جاسکے۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس قدر توانائی اور ہمہ گیریت کے ہوتے ہوئے بھی جب قومی زبان کو نظر انداز کرتے ہوئے ذریعہ تعلیم انگریزی یا کسی علاقائی زبان کو بنایا جائے تو ایسی قابل رحم قوم وجود میں آتی ہے جو نہ گھر کی رہتی ہے نہ گھاٹ کی۔
بھٹائی کے ترانوں سے لے کر بلھے شاہ کے صوفیانہ کلام تک اور عمر خیام کی رباعیوں سے لے کر سعدی شیرازی کی گلستان و بوستان تک عقل و دانش کا وسیع ذخیرہ اردو کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کی گرفت میں رہتا ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ انگریزی کے مقابلے میں ہماری علاقائی زبانوں سے اخذ شدہ خیالات و تجربات ہمارے ماحول اور سماجی ڈھانچے کی عملی ضروریات کو پورا کرنے کی کہیں زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں سیاق و سباق کے مطابق راہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔
اپنے سیاق و سباق سے ہٹ کر تعلیم حاصل کرنے والی پریشان فکر قومیں اغیار کا تر نوالہ بن جاتی ہیں اور اس صورت حال کی سنگینی ہمارے معاملے میں اس لیے کئی گنا زیادہ ہے کہ ہم ایک نظریاتی قوم ہیں اگر نظریے سے محروم ہوگئے تو صرف ہجوم ہی رہ جائیںگے جس کا ہر فرد دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہوئے ان جانی سمتوں میں دوڑتا نظر آئے گا اور سچ پوچھیں تو ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہو بھی رہا ہے۔
یہ والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور پوری پاکستانی قوم کے لیے بھی کہ صرف حکومت یا رویہ زوال نظام تعلیم کے آلۂ کار تعلیمی اداروں پر ہی تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائیں خود ناگزیر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے بچے کی لسانی اور تہذیبی تربیت کی فکر کریں۔ اردو زبان میں کم زور بچے صرف زبان میں کم زور نہیں رہ جائیں گے وہ فکر، شعور، تہذیب اور نظریاتی ورثے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔
ہمیں بلاشبہہ کُھلے ذہن کے حامل افراد چاہییں، جو علم کو مومن کی گم شدہ میراث سمجھتے ہوئے دنیا کے ہر ملک اور ہر زبان سے اکتساب علم کے لیے تیار رہیں، لیکن اگر یہ افراد خود اپنی قومی زبان اور اقدار سے ناآشنا رہ گئے تو آخر وہ یہ فیصلہ کیسے کرسکیں گے کہ دوسروں سے انھیں کیا سیکھنا ہے اور کیا نہیں سیکھنا۔ ہماری قومی زبان میں صرف تعلیم ہی نہیں بل کہ ذہنی تربیت کا بھی پورا سامان موجود ہے۔ تہذیبی اقدار اور فکر کو مہمیز دینے کے لیے اردو کے پاس صدیوں کا ورثہ اور برصغیر سمیت پورے وسطی ایشیا کی زبانوں سے اخذ کردہ تجربات کا خزانہ موجود ہے۔
اگرچہ اردو کی عمر کم ہے، تاہم اس کی جنیاتی ساخت کا کمال ہے کہ اس نے فارسی، عربی، ترکی جیسی ترقی یافتہ زبانیں بولنے والوں کے میل ملاپ سے جنم لیا ہے اور جب اسے دہلی، لکھنؤ، دکن، پنجاب ہر جگہ ہی محبت کے جھولوں میں جھلایا گیا تو یہ ایک پیدائشی استحقاق کے ساتھ ان عظیم تجربات و خیالات کی وارث ٹھہری جو اس سے پہلے انفرادی زبانوں کی ملکیت تھے۔
اس خوش قسمت اتفاق سے بہرہ مند نہ ہونا بدنصیبی کے سوا کیا کہلاسکتا ہے۔ ہمارے سامنے شاعر مشرق کی مثال موجود ہے، جنھوں نے ترقی یافتہ زبانوں اور علوم پر عبور حاصل کیا اور پھر برطانیہ اور جرمنی کے قابل رشک تعلیمی اداروں تک پہنچے تو پروفیسر آرنلڈ سے عقیدت اور نتشے کے فلسفے سے خوشہ چینی کے بعد بھی وہ بڑے اعتماد سے یہ کہہ سکے کہ:
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے، میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
یہ ایک سچی علمی تحقیق اور اپنے شجر سے پیوستہ رہنے ہی کا کمال تھا کہ اقبالؒ ہمیں برصغیر کے مسلم مسئلے کے حل کا ایک ایسا نظریاتی سانچہ دے گئے ہیں جس میں آج پاکستان، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے عوام بہ آسانی سمائے ہوئے ہیں۔
آج یقیناً ہمیں اپنی صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے زبوں حال مروجہ نظام تعلیم سے نمٹنے کی ذمے داری اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہے، ورنہ اقبالؒ ہی کی یہ تنبیہ کہیں حقیقت نہ بن جائے کہ:
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایوب کی بیماری کے دوران یحییٰ خان نے اقتدارپر قبضے کا منصوبہ بنالیا تھا

حکمرانوں کی بیماری کے دوران جنم لینے والی قیاس آرا ئیوں اور محلاتی سازشوں کا بیان ۔ فوٹو : فائل
حکمران بیمار پڑجائے تو افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے، جس کے جو جی میں آئے بول دیتا ہے۔ عوام کے اندیشہ ہائے دوردراز اپنی جگہ ، سرکاری عمال میں سے بھی کئیوں کے دل میں اقتدار پر تصرف جمانے کی تمنا جاگ اٹھتی ہے۔
ہمارے ہاں پہلے حکمران کو بیماری آلیتی تواس کا علاج ملک میں ہوتا، دوسرے وہ کسی سیاسی بحران کے بیچ بستر سے نہ لگتا، اس لیے کم سے کم مخالفین کے حوالے سے، اس نوع کی خبریں نہیں چلتی تھیں کہ اب موصوف کبھی سرزمین پاک پر قدم رنجہ نہیں فرمائیں گے، جیسا کہ 2011ء میں میمو گیٹ اسکینڈل کے دوران بعض سیاستدانوں ، صحافیوں اور اینکروں نے بڑے یقین سے کہا کہ صدر آصف علی زرداری وطن نہیں لوٹیں گے۔
پر وہ پلٹ آئے ۔ پاکستان میں حکمران جب جب علیل ہوئے اوراس باعث امور مملکت میں رخنہ پڑا تو طرح طرح کی کہانیوں نے جنم لیا ۔ اس سلسلے کا آغاز بانیٔ پاکستان کی علالت سے ہوا۔ وہ جون 48ء میں زیارت چلے گئے، جہاں ڈاکٹر ان کی صحت یابی کے لیے سرگرم رہے۔ فاطمہ جناح ، بھائی کی تیمار داری کے لیے ہمہ وقت موجود رہیں۔ ان دنوں ایک روز اچانک وزیراعظم لیاقت علی خان نے مرکزی حکومت کے سیکرٹری جنرل، چودھری محمد علی کو اپنے ساتھ کیا ، اور بغیرکسی پیشگی اطلاع کے، قائداعظم کی خیریت دریافت کرنے زیارت جا پہنچے ۔
وزیر اعظم نے معالج سے بیماری کی تشخیص سے متعلق جاننا چاہا توکرنل الٰہی بخش نے صاف انکار کر دیا ۔ چودھری محمد علی نے ان سے کہا ’’آپ کا فرض ہے کہ وزیراعظم کو ٹھیک ٹھیک بتائیں کہ قائد اعظم کس مرض میں مبتلا ہیں۔‘‘ اس پر الٰہی بخش نے جواب دیا کہ وہ مریض کی اجازت کے بغیر، ان کے مرض سے متعلق کچھ نہیں بتا سکتے۔ اگلے دن قائد اعظم کے علم میں یہ بات آئی تو انھوں نے اپنے معالج سے کہا کہ ’آپ نے بہت اچھا کیا، میں مملکت کا سربراہ ہوں ، اور جب میں مناسب سمجھوں گا تو خود قوم کو اپنی بیماری کی نوعیت سے مطلع کروں گا ۔‘
لیاقت علی خان کے دورے میں ایک اہم بات یہ ہوئی کہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم کو وزیر اعظم کی آمد کی اطلاع دی تو وہ بولے: ’’ تم جانتی ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میری علالت کتنی شدید ہے، میں کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہوں۔ ‘‘ فاطمہ جناح کی بات یہیں ختم نہیں ہوتی ، انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ایسے عالم میں جب انھیں بھائی کی بیماری نے پریشان کر رکھا تھا ، کھانے کی میز پر وزیر اعظم خوشگوار موڈ میں خوش گپیاں کرتے رہے ۔
مادر ملت نے تو یہ باتیں لکھ دیں، لیکن سچائی سے کد رکھنے والوں کو پسند نہ آئیں، اس لیے فاطمہ جناح کی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ کی اشاعت کا معاملہ التوا کا شکار رہا اور جب قائد اعظم اکیڈمی نے اسے شائع کیا تو اس میں لیاقت علی خان سے متعلق کتاب کا وہ حصہ ،جس سے ہم نے، ان کی آمد پر قائداعظم اور فاطمہ جناح کے تاثرات نقل کئے ہیں، حذف کر دیا ،وہ تو خدا بھلا کرے قدرت اللہ شہاب کا ،جنھوں نے اسے ’’شہاب نامہ‘‘ کا حصہ بنا دیا ۔ لیاقت علی خان کے دور میں فاطمہ جناح کی ریڈیو تقریر سنسرکے عمل سے گزری ، جب وہ دنیا میں نہ رہیں تو ان کی کتاب کے اس حصے سے،جس میں لیاقت علی خان کا ذکر تھا ،وہی سلوک ہوا ۔
جمہوریت کش گورنرجنرل غلام محمد کی بیماری کا کیا ذکر ہوکہ موصوف جب تک اقتدار سے چمٹے رہے، ملک اور ان کی صحت کے معاملات بگڑے ہی رہے۔ گفتگو ان کی پلے نہ پڑتی۔ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے سے وہ عاجز۔ ذہنی طور پر چوکس نہ تھے۔ ایوب خان نے اپنی کتاب ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں جس کا نہایت عمدہ ترجمہ ممتاز ادیب غلام عباس نے ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ‘‘ کے عنوان سے کیا،لکھا ۔:
اسکندرمرزا ، چودھری محمد علی اور میں ، ہم تینوں گورنر جنرل کی کوٹھی پر پہنچے ۔ گورنر جنرل اوپرکی منزل پر اپنی خواب گاہ میں لیٹے ہوئے تھے۔ ان کے خون کا دباؤبہت بڑھ گیا تھا اور پیٹھ میں بڑی سخت تکلیف تھی ۔ جس کی وجہ سے وہ سیدھے ایک تختے پر چاروں شانے چت لیٹنے پر مجبور تھے ۔وہ غصے سے آگ بگولا ہو رہے تھے ، اور گالیوں کی بوچھاڑ تھی کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھی ۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ گالیاں کسی کی سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ چودھری محمد علی نے جرات کر کے کچھ کہا ،اس کے جواب میں ان پر بھی بوچھاڑ پڑی۔ ہم ان کی خدمت میں یہ گزارش کرنا چاہتے تھے کہ آپ محمد علی (بوگرہ)کو ایک موقع اور دیں۔ اس کے جواب میں انھوں نے غصے میں غراکر کہا ’’جاؤ۔ جاؤ دور ہو جاؤ، ان کی زبان سے بار بار ’’نہیں ،نہیں ‘‘کے الفاظ نکلتے ، وہ بس ہم کوبھگا دینا چاہتے تھے۔‘‘
خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمیٰ سے اور پھر ہنگامی حالات کا اعلان کر کے قانون ساز اسمبلی کو فارغ کرنے والے غلام محمد لگتا ہے پیدا ہی جمہوریت کی ایسی تیسی کرنے کے لیے ہوئے تھے ۔
اور تو اپنے دور میں انھوں نے کوئی تیر نہیں مارا۔ ایک دفعہ جب وہ بستر علالت پر تھے، معالج نے پیغام بجھوایا کہ اب وہ کوئی دم کے مہمان ہیں،اس لیے جس نے ملنا ہو مل لے، ایسے میں وزیراعظم ، کابینہ اور فوج کے کمانڈر انچیف ، زندہ حالت میں ان کا آخری دیدار کرنے بھاگم بھاگ آئے ،ایوب خان نے ان کے سرہانے کھڑے ہو کر کچھ تعریف کی۔ یہی کچھ دوسرے حاضرین بھی کرنے کو پر تول رہے تھے کہ غلام محمد کے جسم میں جنبش پیدا ہوئی ۔
انھوں نے ہاتھ ہلائے اور اپنے ہوش میں آنے کا اعلان کیا تو سب حاضرین رفو چکر ہو گئے، اور بیچارے گورنرجنرل صاحب اسٹاف سے پوچھتے پھرے کہ جب وہ بے ہوش تھے کون کیا فرما رہا تھا ۔ فالج کے حملے کے بعد وہ کسی جوگے نہ رہے تو ان کی سبکدوشی مسئلہ بن گیا، جسے اس زمانے کے جینئس حضرات نے حل کرلیا کہ وہ توجسمانی طور پر توانا بندوں سے استعفا لے سکتے تھے ، یہ تو لاچار غلام محمد تھے ،جن کے نزار بدن میں لہو ہی کتنا تھا ۔
ایوب خان وہ حکمران تھے، جن کی بیماری نے سب سے زیادہ افواہوں اور وسوسوں کوجنم دیا اور وہ جب تک موت کے منہ سے واپس نہیں آگئے، یحییٰ خان اقتدار پر قبضے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اس تقریب کا احوال لکھا ہے، جس میں بیماری ان پر حملہ آور ہوئی :
29جنوری 1968ء کے روز اردن کے شاہ حسین کراچی آئے ہوئے تھے ۔ اسی شام راولپنڈی کے انٹرکونٹی نینٹل میں ان کا عشائیہ تھا ۔ صدر ایوب جب ہوٹل پہنچے تو ان کا رکھ رکھاؤ اور چہرہ مہرہ ان کے معمول کے حساب سے نارمل نظر نہ آتا تھا ۔ دعوت کے ہال میں داخل ہونے سے پہلے وہ سیدھے بار(شراب خانہ) گئے۔ اور ایک گلاس میں بہت سی وہسکی ڈلوا کرپانی ۔۔۔یا سوڈا واٹرملائے بغیر اسے ایک ہی سانس میں غٹا غٹ چڑھا گئے ۔ اس کے بعد یہی عمل انھوں نے چند بار دہرایا ۔ وہ شراب پیتے ضرور تھے لیکن اس طرح کھڑے کھڑے ندیدوں کی طرح نیٹ وہسکی کے گلاس پر گلاس چڑھانا ان کا دستور نہ تھا ۔ ہوٹل کی بار میں میں اسی طرح کئی گلاس پینے کے بعد ان کی آواز کس قدر خمار آلود ہو گئی۔
کھانے کے بعد جب وہ پہلے سے تیار کردہ لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو غالباً ان کا عارضۂ قلب ان کے رگ وپے میں کسی نہ کسی صورت میں رینگنا شروع ہوچکا تھا ۔ ان کی طبیعت ہرگز ٹھکانے نہ تھی۔ یہاں تک کہ اپنی تقریر پڑھتے پڑھتے وہ بیک بار اس کے دو ورق الٹ گئے ۔ اور انھیں اپنی اس غلطی اور بے ربطی کا احساس تک نہ ہوا ۔ اور و ہ بدستور آگے پڑھتے چلے گئے ۔ دعوت ختم ہونے کے بعد جب وہ ایوان صدر واپس گئے تو اسی رات ان پر نہایت شدید ہارٹ اٹیک ہوا ۔‘‘
اس صورت حال میں یحییٰ خان فوراً حرکت میں آگئے۔ ایوان صدر پر قبضہ جمالیا اور بیرونی دنیا سے اپنے باس کا رابطہ کاٹ دیا ۔ چند بندوں کے سوا ایوان صدرمیں کسی کوآنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ سنیئر وزیرخواجہ شہاب الدین کو گیٹ سے لوٹا دیا گیا، جس سے انھیں شک گزرا کہ شاید نیا انقلاب ہو گیا ہے اور ایوب خان مقید ہیں۔ اور تو اور ایوب خان کی ناک کا بال سمجھے جانے والے الطاف گوہر کو بھی اذن حضوری نہ ملا۔ ایک میڈیکل بلیٹین صدر کی صحت کے بارے میں جاری کیا جاتا ، جس کے متن کی صحت پرکوئی یقین نہ کرتا ۔ نامور براڈ کاسٹربرہان الدین حسن کے بقول’’ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی نے سرکاری ہدایات کے مطابق پہلے خبر دی کہ صدر کو انفلوئنزا ہوگیا ہے چند دن بعد وائرس سے ہونے والے نمونیہ کی خبر دی گئی جب وہ کئی ہفتے بستر علالت سے نہ اٹھ سکے توکہا گیا کہ وہ Pulmonary embolismکے عارضہ میں مبتلا ہیں ۔ یہ انتہائی خطرناک مرض ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے ۔
جب عارضہ کی بابت خبر ریڈیو پاکستان کے نیوز ڈیسک پرپہنچی توسوال پیدا ہوا کہ اس بیماری کا اردو میں کیا ترجمہ کیا جائے ۔ وزارت اطلاعات سے مشورہ کرنے کے بعد طے پایا کہ اس کا اردو میں ترجمہ نہ کیا جائے اور انگریزی لفظ ہی استعمال کیا جائے تاکہ سامعین کی اکثریت اس مہلک بیماری کی ماہیت کوقطعاً نہ سمجھ سکے۔ ‘‘
ایوب خان پر بیماری کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ خود انھیں جانبر ہونے کا یقین نہ تھا ،اس لیے انھوں نے اپنے بیٹے گوہر ایوب سے کاغذقلم مانگا اور کہا’’میں بچ نہیں سکوں گا۔ تم مجھ سے وعدہ کروکہ مرنے کے بعد مجھے ریحانہ میں میری والدہ کی قبرکے پہلو میں دفن کرو گے۔ ‘‘یحییٰ خان کی ہوس اقتدار کے باب میں گوہر ایوب نے اپنی کتاب ’’ایوان اقتدار کے مشاہدات ‘‘میں بتایا ہے کہ ہانگ کانگ کے دورے کے دوران جب یحییٰ خان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا آیندہ صدر کون ہو گا تو موصوف نے اپنی طرف اشارہ کیا۔ یحییٰ خان کو لگتا تھا کہ ایوب خان نہیں بچیں گے مگر ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ،فیلڈ مارشل کی طبیعت رفتہ رفتہ سنبھلنے لگی۔
مغربی پاکستان کے گورنر جنرل موسیٰ سے ملاقات کی تصویراخبارات کو جاری کی گئی، لیکن لوگوں کے ذہنوں سے شکوک رفع نہ ہوئے۔ اس کے بعد ٹی وی پر بھی صدرکی مہورت ہوئی لیکن بات بنی نہیں۔ صدرکی بحالیٔ صحت کا یقین لوگوں کواسی وقت آیا جب انھوں نے قوم سے خطاب کیا ،بقول الطاف گوہر ’’یحییٰ خان اور ان کا سازشی ٹولہ اقتدار کی غلام گردش میں جس خاموشی سے داخل ہوا تھا اسی طرح چپکے سے نکل گیا۔
لیلائے اقتدار ان کے پہلو سے آنکھ بچا کر نکل گئی تھی مگر وہ پر امید تھے کہ اقتدار کی منزل اب بہت دور نہیں ہے۔‘‘ صحت یابی کے بعد ایوب خان نے سرکاری فرائض انجام دینے شروع کر دیے، لیکن بقول اصغرخان ،ان میں پہلی سی توانائی نہ رہی اور وہ اپنے ان مشیروں پرزیادہ انحصار کرنے لگے ، جن کی اپنی حیثیت مشکوک تھی۔ ایوب خان نے اپنی ڈائریوں میں بیماری کا ذکر ضرور کیا لیکن سیاسی ریشہ دوانیوں کا حوالہ نہیں دیا ۔
قائد اعظم، غلام محمد اور ایوب خان اس اعتبار سے خوش قسمت تھے کہ وہ زمانہ الیکٹرانک میڈیا اور اینکروں کا نہ تھا وگرنہ ان کی بیماری کی خبریں خوب مرچ مسالہ لگا کر پیش کی جاتیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو آصف علی زرداری اور نوازشریف نے اپنی بیماری کے دوران خوب بھگتا۔ خاص طور سے اول الذکر نے۔ دونوں کی بیماری میں یہ قدر مشترک رہی کہ دونوں سیاسی بحران کے دنوں میں علاج کرانے بیرون ملک گئے،اس واسطے قیاس آرائیوں کا سر اٹھانا لازمی تھا ۔
آصف زرداری میمو گیٹ اسیکنڈل کی وجہ سے شدید دباؤ میں آکر بیرون ملک سدھارے ۔ کسی نے کہا کہ انھیں فالج ہو گیا توکوئی لقوہ کی بات کرنے لگا۔ امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین نے دعویٰ کیا کہ زرداری میمو سیکنڈل کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہیں اور طبی بنیادوں پر صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں جب بڑے بڑے صحافی لوگ کہہ رہے تھے کہ آصف علی زرداری وطن واپس نہیں آئیں گے تو معروف صحافیوں میں غالبا ً حامد میر ہی تھے جن کا خیال تھا کہ و ہ ضرور واپس آئیں گے، اور پھر ان کی بات درست ثابت ہوئی ۔
وزیر اعظم نوازشریف کے بیٹوں کا نام پانامہ لیکس میں آنا ،ان کے لیے پریشانی اور خفت کا باعث بنا ۔ قوم سے خطاب میں انھوں نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی، ساتھ میں ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان کیا ،جسے اپوزیشن نے مسترد کر دیا۔ ان پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا تھا کہ ایسی خبریں آنی شروع ہوئیں کہ ان کی طبیعت ناساز ہے، جس کی وجہ پانامہ لیکس کو قرار دیا گیا۔ قیاس آرائیوں کو اس وقت بڑھاوا ملا جب یہ خبر نکلی کہ وزیر اعظم اپنے چیک اپ کے لیے لندن جائیں گے۔ اس پر کسی نے کہا کہ وہ آصف علی زرداری کے دربار میں حاضری دینے گئے ہیں، تو کسی نے فرمایا، اس دورے کا تعلق پانامہ لیکس سے ہے۔ مائنس ون فارمولے کی بات بھی اڑی۔متبادل وزرائے اعظم کے نام بھی پیش کئے جانے لگے۔
شہباز شریف کی پانامہ لیکس کے معاملے میں خاموشی اور نواز شریف کا دفاع نہ کرنے کو دونوں بھائیوں میں اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔ یہ افواہ بھی پھیلی کہ شریف خاندان میں سیاسی وراثت کا تنازع پیدا ہوگیا ہے ۔ ایک صاحب نے نواز شریف کی وطن واپسی سے ایک دن پہلے پیش گوئی کی کہ وہ وطن واپس نہیں آئیں گے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ نوازشریف کے باہر جانے کی ٹائمنگ ایسی تھی کہ اس پر سوالات اٹھنے ہی تھے ۔ دوسرے یہ کہ جس ملک میں لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں وہاں حکمرانوں کا باہر جا کر علاج کرانا مستحسن عمل نہیں، کاش ہمارے حکمران اس ملک میں صحت کا ایک ہی ایسا مرکز بنا دیں، جہاں اوروں کا نہیں تو کم سے کم ان کا اپنا تسلی بخش علاج تو ہو سکے۔

پاکستانی خاتون کو امریکی صدر کی جانب سے عالمی کانفرنس میں خطاب کی دعوت

جہاں آرا پاکستان میں ایک بڑے سافٹ ویئرہاؤس کی سربراہ اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے پہچان رکھتی ہیں۔ فوٹو:فائل
ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی ممتاز شخصیت جہاں آرا کو امریکی صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاؤس مدعو کیا ہے جہاں وہ اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کیلی فورنیا میں منعقد ہونے والی ساتویں گلوبل انٹرپرنیئرشپ کانفرنس سے خطاب کریں گی۔
جہاں آرا پاکستان کے ایک بڑے سافٹ ویئر ہاؤس کی سربراہ اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ملک میں انتہائی سرگرم شخصیت کے حوالے سے پہچان رکھتی ہیں۔ انہیں اس کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ امریکی صدر باراک اوباما کے توسط سے موصول ہوا جو 23 اور 24 جون کو منعقد ہوگی۔ کانفرنس میں جہاں آراء ’’جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری، بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش میں کاروباری تنظیم کاروں کے لیے کیا مواقع ہیں‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کریں گی۔
ایکسپریس ٹریبون  سے بات کرتے ہوئے جہاں آرا کا کہنا تھا کہ ’’میں ہمیشہ ایسے مواقعوں کی تلاش میں رہتی ہوں جہاں دنیا کو میں یہ بتا سکوں کہ ہمارے ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں کیا ہورہا ہے،عالمی کانفرنس کے دوران دنیا کو پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی اور جدت کے بارے میں بتانا ایک زبردست تجربہ ہوگا کیونکہ جب دنیا کو پتا چلے گا کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم اقدام ہورہے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں اور پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔
ملک میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے کے علاوہ جہاں آرا کئی سماجی مسائل جیسے کہ اظہار رائے کی آزادی اور خاص طور پر انٹرنیٹ پراظہاررائے کی آزادی کے حق میں ’’بول بھی‘‘ جیسی مہم شروع کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ عالمی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہونے پر جہاں آرا نے کہا کہ شاندار تقریب کا دعوت نامہ ملنے پر امریکی صدر اور کانفرنس کے منتظمین کی مشکور ہوں۔
واضح رہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے حوالے سے جہاں آرا  کولمبیا یونی ورسٹی، نیویارک سے بھی خطاب کر چکی ہیں۔

میری آف شور کمپنی قانونی ہیں جس کی تمام دستاویزات موجود ہیں، علیم خان

وزیراعظم ہاؤس میں میرےکےخلاف میڈیا سیل بناہوا ہےلیکن کوئی کچھ بھی کرلےعمران خان کاساتھ نہیں چھوڑوں گا،رہنما پی ٹی آئی، فوٹو؛ فائل
لاہور: تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان نے شریف برادران  کو بیرون ملک اثاثے وطن واپس لانے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ میرے تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں جب کہ کچھ بھی کرلیں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علیم خان نے کہا کہ میری آف شور کمپنی قانونی ہے اور میرا ایک ایک اثاثہ ڈکلیئر ہے جس کے تمام دستاویزات موجود ہیں اور ریکارڈ ایف بی آر کے پاس موجود ہے جو عوام کے سامنے بھی پیش کررہا ہوں جب کہ این اے 122 کے کاغذات میں بھی کمپنی کا نام درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ کا جوابدہ ہوں جب کہ ایک ہی کمپنی میں 3 بار میرا نام آیا، اگر میری کوئی اور کمپنی ہے تو اس کے بارے میں بتائیں۔
علیم خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ان کےخلاف میڈیا سیل بنا ہوا ہے لیکن کوئی کچھ بھی کرلے کسی بھی حالت میں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ انہوں نے وزیراعظم کے خاندان کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران اپنے اثاثے ملک میں لائیں جب کہ دوسرے نمبر پر میرا احتساب کرلیں۔
واضح رہے پاناما لیکس کے انکشافات کی دوسری قسط میں پی ٹی آئی رہنما علیم خان کا نام بھی شامل ہے۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates