شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر ہلاک

مصطفیٰ بدرالدین حزب اللہ کے لیڈرحسن نصراللہ کے بعد دوسرے اعلی عہدیدار سمجھے جاتے تھے۔ فوٹو:رائٹرز
دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے اہم کمانڈرمصطفیٰ بدرالدین ہلاک ہوگئے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق مصطفیٰ بدرالدین کو دمشق ایئرپورٹ کے قریب واقع لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے مرکزمیں نشانہ بنایا گیا جب کہ کارروائی میں مصطفیٰ بدالدین ہلاک اور ان کے ساتھیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اس اطلاع پرکوئی رد عمل جاری نہیں کیا گیا تاہم حزب اللہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک عظیم جہادی رہنما تھے جب کہ اس حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں کہ یہ حملہ  فضائی تھا یا انہیں میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی  میڈیا کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ بدرالدین حزب اللہ کے لیڈرحسن نصراللہ کے بعد دوسرے اعلی عہدیدارسمجھے جاتے تھے اوروہ 1982 کے بعد سے ہونے والے حزب اللہ کے اہم آپریشنز کا حصہ رہے تھے جس میں زیادہ تر اسرائیل کو ہدف بنایا گیا تھا جب کہ ان پر 2005 میں لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کو 2008 میں عماد مغنیہ کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ کا سب سے بڑا نقصان قراردیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ لبنان کی عسکریت پسند ایران نواز تنظیم حزب اللہ  کے ہزاروں جنگجو شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں اور عسکریت پسندوں سے لڑائی میں مصروف ہیں جب کہ اب تک سینکڑوں جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

پانامالیکس پر ٹی او آرز کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکتا، چیف جسٹس

اگرپاناما لیکس کی تحقیقات کیلئےکمیشن بنایاجانا ہےتواس کیلئےباقاعدہ قانون سازی کی جائے،چیف جسٹس کا حکومتی خط پر جواب . فوٹو:فائل
 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے جوابی خط وزارت قانون کو ارسال کردیا جس میں چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکومتی خط پراعتراضات لگاتے ہوئے اس کا جواب وزارت قانون کو ارسال کردیا۔ چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے بادی النظر میں حکومتی ٹرمز آف ریفرنس کے تحت پاناما لیکس کی تحقیقات میں کئی سال لگ سکتے ہیں کیوں کہ حکومتی ٹی او آرز وسیع ہیں جس میں کمپنیوں کی فہرست اورشخصیات کے نام نہیں دیئے گئے۔
چیف جسٹس نے جوابی خط میں واضح کیا ہے کہ انکوائری کمیشن ایکٹ 1956 کا دائرہ کار محدود ہے جب کہ حکومتی خط میں آف شور کمپنیاں رکھنے والے خاندانوں، شخصیات اور کمپنیوں کا ذکر نہیں کیا گیا اس لئے کمیشن کی تشکیل کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔
دوسری جانب وزارت قانون نے چیف جسٹس آف پاکستان کا خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے انکوائری کمیشن تشکیل دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ حکومت سے چند وضاحتیں مانگی ہیں، امید ہے حکومت کی جانب سے وضاحتیں پیش کئے جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت نے 22 اپریل 2016 کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو پاناما لیکس کے معاملے پر 3 رکنی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ انیس سو چھپن کےتحت تین رکنی کمیشن تشکیل دیکر اس کی سربراہی ترجیحی بنیاد پر چیف جسٹس خود کریں۔ حکومت کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے قرضے معاف کرانے والوں، کرپشن، کمیشن اور کک بیک کے ذریعے بیرون ملک فنڈز کی منتقلی سے متعلق امور کی تحقیقات کی جائیں۔  حکومت نے خط کے ساتھ کمیشن کے ٹرمزآف ریفرنس بھی منسلک کئے گئے جس کے مطابق کمیشن کسی بھی فرد، ٹیکس ماہرین، اکاؤنٹنٹس کو طلب کرنے سمیت کسی بھی قسم کے دستاویزات کے حصول کے لئے تمام عدالتوں، سرکاری افسران یا سرکاری دفاترسے ریکارڈ طلب کرنے کا مجازہوگا۔

پانامالیکس پر ٹی او آرز کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکتا، چیف جسٹس

اگرپاناما لیکس کی تحقیقات کیلئےکمیشن بنایاجانا ہےتواس کیلئےباقاعدہ قانون سازی کی جائے،چیف جسٹس کا حکومتی خط پر جواب . فوٹو:فائل
 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے جوابی خط وزارت قانون کو ارسال کردیا جس میں چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکومتی خط پراعتراضات لگاتے ہوئے اس کا جواب وزارت قانون کو ارسال کردیا۔ چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے بادی النظر میں حکومتی ٹرمز آف ریفرنس کے تحت پاناما لیکس کی تحقیقات میں کئی سال لگ سکتے ہیں کیوں کہ حکومتی ٹی او آرز وسیع ہیں جس میں کمپنیوں کی فہرست اورشخصیات کے نام نہیں دیئے گئے۔
چیف جسٹس نے جوابی خط میں واضح کیا ہے کہ انکوائری کمیشن ایکٹ 1956 کا دائرہ کار محدود ہے جب کہ حکومتی خط میں آف شور کمپنیاں رکھنے والے خاندانوں، شخصیات اور کمپنیوں کا ذکر نہیں کیا گیا اس لئے کمیشن کی تشکیل کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔
دوسری جانب وزارت قانون نے چیف جسٹس آف پاکستان کا خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے انکوائری کمیشن تشکیل دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ حکومت سے چند وضاحتیں مانگی ہیں، امید ہے حکومت کی جانب سے وضاحتیں پیش کئے جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت نے 22 اپریل 2016 کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو پاناما لیکس کے معاملے پر 3 رکنی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ انیس سو چھپن کےتحت تین رکنی کمیشن تشکیل دیکر اس کی سربراہی ترجیحی بنیاد پر چیف جسٹس خود کریں۔ حکومت کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے قرضے معاف کرانے والوں، کرپشن، کمیشن اور کک بیک کے ذریعے بیرون ملک فنڈز کی منتقلی سے متعلق امور کی تحقیقات کی جائیں۔  حکومت نے خط کے ساتھ کمیشن کے ٹرمزآف ریفرنس بھی منسلک کئے گئے جس کے مطابق کمیشن کسی بھی فرد، ٹیکس ماہرین، اکاؤنٹنٹس کو طلب کرنے سمیت کسی بھی قسم کے دستاویزات کے حصول کے لئے تمام عدالتوں، سرکاری افسران یا سرکاری دفاترسے ریکارڈ طلب کرنے کا مجازہوگا۔

پس پردہ رابطوں کے بعدوزیراعظم نے پارلیمنٹ میں آنے کاشیڈول تبدیل کیا

وزیراعظم کے خطاب سے یہ واضح ہوگا کہ احتساب صرف ان کے خاندان کا نہیں بلکہ سب کا ہوگا، ذرائع۔فوٹو: فائل
 کراچی: حکمراں مسلم لیگ اور اپوزیشن کے درمیان پس پردہ رابطوں میں اتفاق رائے کے بعدوزیراعظم نے اپنے پارلیمنٹ سے جمعہ کو کیے جانے والے خطاب کے شیڈول کو تبدیل کیا ہے۔
اس تبدیلی کامقصد یہ ہے کہ وزیراعظم کے خطاب سے قبل حکومت اوراپوزیشن کے درمیان متوقع عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز کے معاملے پر معاملات طے کیے جاسکیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمراں مسلم لیگ کی قیادت کی ہدایت پر اہم وفاقی وزرا نے اپوزیشن کے اہم رہنماؤں سے رابطے کیے اور ان رابطوں میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں پانامہ لیکس اسکینڈل پر اپنے خاندان کے افراد کے آنے والے ناموں ،اپنے اثاثوں ،ٹیکس گوشواروں اور دیگر امور سے متعلق پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے اور وزیراعظم کا یہ خطاب ہی اپوزیشن کے سوال نامے کا جواب ہوگا۔
وزیراعظم اپنے خطاب میں یہ واضح کریں گے کہ وہ خود اور ان کا خاندان سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ متوقع کمیشن کے سامنے احتساب کے لیے تیار ہے تاہم وزیراعظم کے خطاب سے یہ واضح ہوگا کہ احتساب صرف ان کے خاندان کا نہیں بلکہ سب کا ہوگا ۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں یہ طے کیا گیا ہے کہ عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز کے لیے مذاکرات جلد سے جلد مکمل کیے جائیں گے ۔حکومت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ احکام جاری کرے گی تو پانامہ لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے ایک ی کمیٹی بھی قائم کردی جائے گی اور اگر عدالت نے احکام دیے تواس معاملے کا فارنسک آڈٹ بھی کرایاجائے گا ۔

سی پیک پر کام کرنیوالے چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کیلیے خصوصی فورس تشکیل دی جائے گی، ایپکس کمیٹی سندھ

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 20 ہزار نئے پولیس اہلکاروں کی بھرتی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ فوٹو؛ فائل
 کراچی: سندھ ایپکس کمیٹی نے سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کےلیے 2 ہزار اہلکاروں پر مشتمل خصوصی فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس کے بعد وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں گورنرسندھ  ڈاکٹرعشرت العباد، وزیرداخلہ سہیل سیال، نثارکھوڑو مراد علی شاہ بھی شریک ہوئے جب کہ آئی جی سندھ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ساڑھے 3 گھنٹے جاری رہا جس میں کراچی سمیت صوبے بھر میں امن وامان کی صورت حال، ٹارگیٹڈ آپریشن، قومی ایکشن پلان اوردیگراہم امورپر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں 200 زائد پراسیکیوٹرز کی بھرتیوں، مدارس اورغیرملکی تارکین وطن کی رجسٹریشن سمیت دیگراہم معاملات پربھی تفصیلی غورکیا گیا۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 20 ہزار نئے پولیس اہلکاروں کی بھرتی کا فیصلہ کیا گیا جن کی ٹریننگ پاک فوج کی معاونت سے کی جائے گی جب کہ صوبے میں سی پیک منصوبے پر کام کے لیے آنے والی چینی انجینئرز کی سیکیورٹی کےلیے 2 ہزاراہلکاروں پر مشتمل خصوصی فورس بھی تشکیل دی جائے گی۔

پاکستان کو ایف 16 کی فروخت میں بھارتی لابی نے رکاوٹیں کھڑی کیں، سرتاج عزیز

امریکا، بھارت تعلقات ایسے ہی بڑھتے رہے تو ہمارے پاس اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا، مشیرخارجہ، فوٹو؛ فائل
اسلام آباد: مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت ایف 16 طیاروں کی فروخت پر آمادہ ہے مگر دفاعی کمیٹی میں رکاوٹیں ہیں جب کہ پاکستان کو ایف ان طیاروں کی فروخت میں بھارتی لابی نے رکاوٹیں کھڑی کیں۔
سینیٹ کا اجلاس چیرمین رضاربانی کی زیر صدارت ہوا جس میں ایف 16 طیاروں کی خریداری پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا تھا امریکا یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت ضروری ہے اور امریکی کانگریس نے طیارے فروخت کرنے کی منظوری دے دی لیکن دفاعی کمیٹی میں رکاوٹیں ہیں اور اسی وجہ سے 3 ماہ سے امریکا سے تعلقات تعطل کا شکار ہیں تاہم امریکا میں پاکستانی سفیر اس معاملے پر کانگریس سے رابطے میں ہیں۔
سرتاج عزیزکا کہنا تھا مئی سے 3 جون تک واشنگٹن میں پاک امریکا دفاعی گروپ کی میٹنگ ہے جس میں ایف 16 طیاروں کی فراہمی کا معاملہ زیربحث آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی لابی نے کوشش کی پاکستان کوایف 16 طیارے نہ مل سکیں اور اگر امریکا، بھارت تعلقات ایسے ہی بڑھتے رہے تو ہمارے پاس بھی اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کی رہائی پر امریکا سے کوئی حامی نہیں بھری۔
ادھرچیرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی امریکی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دی گئی دعوت پر نظرثانی کا اعلان کردیا۔

این اے 176 مظفر گڑھ میں دوبارہ انتخاب کا فیصلہ کالعدم، (ن) لیگی رہنما کی رکنیت بحال

الیکشن ٹریبونل نے 18 جولائی 2014 کو حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔ فوٹو: فائل
 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 176 مظفر گڑھ میں دوبارہ انتخابات کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلطان ہنجروا کی رکنیت بحال کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق این اے 176 مظفر گڑھ میں دوبارہ انتخاب کے فیصلے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ اس موقع پر جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلطان ہنجروا کی رکنیت بحال کردی۔
واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں این اے 176 سے مسلم لیگ (ن) کے سلطان ہنجروا کامیاب قرار پائے تھے جسے فنکشنل لیگ کے مصطفی کھر نے چیلنج کیا تھا۔ الیکشن ٹریبونل نے مصطفیٰ کھر کی درخواست پر 18 جولائی 2014 کو (ن) لیگی رہنما کی رکنیت معطل کرتے ہوئے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے 21 اپریل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates