پاناما لیکس کے ٹی او آرز طے کرنے کیلئے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

12 رکنی پارلیمانی کمیٹی پاناما لیکس کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ضوابط کار طے کرے گی فوٹو: فائل
اسلام آباد: پاناما لیکس کی تحقیقات کا ضابطہ کارطے کرنے کے لئے 12 پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں حکومت اوراپوزیشن کے 6،6 ارکان شامل ہیں جب کہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاناما لیکس سے متعلق حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے دیے گئے 12 ناموں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے  بجھوائے گئے ناموں میں اسحاق ڈار،  خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، انوشہ رحمان، اکرم درانی اور میر حاصل بزنجو شامل ہیں جب کہ اپوزیشن کی طرف سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ ، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور اور  متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف   شامل ہیں۔
کمیٹی پاناما لیکس کے  معاملات کی تحقیقات کے لیے ٹرمز آف ریفرنس طے کرے گی جب کہ پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج 4 بجے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہوگا،کمیٹی  دو ہفتوں  کے دوران معاملات کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز طے کرے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے چیف جسٹس سے معاملے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے جوابی خط وزارت قانون کو ارسال کیا تھا جس میں چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی  کا کہنا تھا کہ ٹرمز آف ریفرنس کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا جب کہ اپوزیشن کی جانب سے بھی حکومتی ٹی اوآرز کو مسترد کردیا گیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سے معاملے کی تحقیقات کے لئے ضابطہ کار طے کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی درخواست کی تھی۔

پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ’’ڈومور‘‘ کی ضرورت ہے، امریکی محکمہ خارجہ

ملامنصور کے معاملے پر ایران سے کوئی وضاحت نہیں مانگی، فوٹو : فائل
واشنگٹن: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مارک ٹونر کا کہنا ہے پاکستانی حکام سے کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں لہٰذا پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ’’ڈومور‘‘ کی ضرورت ہے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ پاکستانی حکام سے کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں کیونکہ پاکستان کو دہشت گرد حملوں سے نقصان پہنچ چکا ہے اس لیے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ’ڈومور‘ کی ضرورت ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ بھی کی جاتی ہے جب کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی صلاحیتوں کو بڑھانےمیں تعاون بھی کر رہے ہیں۔
ترجمان محکمہ خارجہ مارک ٹونر نے کہا کہ طالبان کو افغان مفاہمتی عمل کا حصہ بننا چاہیے جب کہ ملامنصور کے معاملے پر ایران سے کوئی وضاحت نہیں مانگی تاہم جعلی پاکستانی پاسپورٹ کی خبروں کا علم ہے۔

پشاورمیں سیکیورٹی فورسزکی گاڑی پرفائرنگ سے 3 اہلکارشہید

فائرنگ سے زخمی ایک اہلکار کی حالت تشویش ناک ہے، پولیس فوٹو: فائل
پشاور: رنگ روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی گاری پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 اہلکار شہید ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور کے رنگ روڈ پر موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے، فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم زخمیوں میں سے 2 راستے میں ہی دم توڑگئے جب کہ تیسرا اہلکار دوران علاج شہید ہوگیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔

بیلٹ پیپر پر کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا آپشن شامل کرنے کی تجویز مسترد

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز لوگوں کی اکثریت انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنتی فوٹو: فائل
 اسلام آباد: انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے بیلٹ پیپر پر کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا آپشن شامل کرنے کی تجویز مسترد کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں اصلاحات کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تجویز دی تھی کہ دنیا بھر کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی بیلٹ پیپرز پر رائے دہندگان کے لیے انتخابی عمل میں تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کے لیے خصوصی خانہ شامل کیا جائے ۔ اگر کسی بھی حلقے میں اس خانے پر نشان لگانے والے ووٹرز کی تعداد کل ووٹوں سے زائد ہوجائے تو اس حلقے کے نتائج کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔
الیکشن کمیشن نے تصدیق کردی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے اس تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں رائج انتخابی نظام اس ترمیم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز لوگوں کی اکثریت انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنتی۔ 2013 کے عام انتخابات میں بھی 45 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال ہی نہیں کیا تھا۔

افغان طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نئےامیر مقرر

ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اس سے قبل ملا اختر منصور کے نائب تھے فوٹو: فائل
کابل: افغان طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو نیا امیر مقرر کرنے کاا اعلان کردیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق افغان طالبان نے اپنے امیر ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے نئے امیرہوں گے جب کہ سراج الدین حقانی اور ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو ڈپٹی سپریم لیڈر مقررکیا گیا ہے۔
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اس سے قبل ملا اختر منصور کے نائب تھے اور طالبان میں ان کی شہرت جنگجو کے بجائے ایک عالم دین کی ہے۔
واضح رہے کہ 21 مئی کو بلوچستان میں پاک ایران سرحد کے قریب امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس میں 2 افراد ہلاک ہوگئے تھے ، ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد اعظم اور ولی محمد کے نام سے ہوئی تھی ، امریکی اور افغان حکام کا کہنا تھاکہ حملے میں ہلاک ہونے والا ایک شخص افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور تھے تاہم طالبان اور پاکستان نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

ٹیكس نہ دینے والوں كی زندگی اجیرن بنا دیں گے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار

3 سال كے مختصر عرصے میں پاكستان كی معیشت كو درست سمت پر لے آئے ہیں، پری بجٹ سیمینار سے خطاب، فوٹو؛ ایکسپریس/ مدثر راجہ
 اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ٹیكس گزاروں  پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے جب كہ ٹیكس نہ دینے والوں  كی زندگی كو اجیرن بنا دیں گے۔
ایكسپریس میڈیا گروپ كے زیر اہتمام امیدیں، توقعات اور خدشات کے عنوان سے پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جس وقت مسلم لیگ (ن) برسراقتدار میں  آئی تھی تب ملك كی معاشی حالت بہت خراب تھی اور پاكستان دیوالیہ ہونے كے قریب تھا، اس وقت ماہرین كہتے تھے كہ پاكستان كی حالت درست ہونے میں 4 سے 5 سال كا عرصہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایك مشكل چیلنج تھا مگر ہم نے معیشت كی بہتری کے لیے روڈ میپ تیار كركے ایك نئے سفر كا آغاز كیا اور محض 3 سال كے مختصر عرصے میں پاكستان كی معیشت كو درست سمت پر لے آئے ہیں۔
اسحاق ڈارنے كہا كہ ملك میں توانائی كے بحران كی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بے حد اضافہ ہوگیا تھا، ملك كی صنعتیں  بجلی اور گیس بحران كی وجہ سے مشكلات كا شكار تھیں، ملك میں ٹیكس ادا كرنے كی شرح شرمناك حد تك كم تھی، ہم نے ان مشكلات سے نبردآزما ہونے کے لیے كوششیں شروع كر دیں اور مالیاتی نظم و ضبط كے تحت اپنے اخرجات میں  كمی كی جس كے تحت وزیر اعظم كے صوابدیدی فنڈ جو 4 ارب روپے تھا اس كو زیرو كر دیا، اس كے ساتھ 3 کے قریب اداروں  كے سیكرٹ فنڈزكو ختم كردیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملك میں كپاس كی كم پیداوار لمحہ فكریہ ہے، 18 ویں ترمیم كے بعد ملك كے زیادہ تر وسائل صوبوں  كے پاس چلے گئے ہیں اور یہ صوبوں  كی ذمہ داری ہے كہ وہ زراعت كے شعبے كو توجہ دیں۔ انہوں نے كہا كہ پہلے ملك میں كپاس كی پیداوار ہندوستان كے مقابلے میں زیادہ ہوتی تھی مگر بدقسمتی سے صوبے زراعت كی جانب پوری توجہ نہیں  دے رہے ہیں اور موجودہ حالات كے پیش نظر وفاق صوبوں كے ساتھ زراعت كی بہتری كے لیے مكمل تعاون كرے گا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملك كو توانائی بحران كے بعد پانی كے بحران كا سامنا ہے، اگر كالا باغ ڈیم كی تعمیر پر صوبے متفق نہیں ہو رہے ہیں تو ہمیں دیگر ذرائع كے جانب دیكھنا ہوگا، ہمیں دیامر بھاشا ڈیم اورداسو ڈیم پر توجہ دینی ہوگی تاكہ ملك میں  پانی كے ذخائر كو محفوظ بنا سكیں۔
اسحاق ڈار نے كہا كہ پانی سے بجلی بنانا سستا ترین ہے تاہم اس میں كئی سال لگ سكتے ہیں  جس كی وجہ سے ہم نے توانائی بحران سے نمٹنے كے لیے گیس اور كوئلے سے بجلی بنانے كی جانب توجہ دی ہے اور 2018 تك 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل كرنے كے قابل ہوجائیں گے جو كہ مسلم لیگ کے لیے اگلی حكومت بنانے كا سبب ہوگا۔ انہوں نے كہا كہ مسلم لیگ (ن) نے ملك كی معیشت كو مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی منصوبے تیار كیے ہیں  جو كہ ہر آنے والی حكومت كے دور میں  بھی جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری كا منصوبہ پاكستان كی معاشی ترقی كا آغاز ہے، دنیا كے دیگر ممالك بھی پاكستان میں سرمایہ كاری كی جانب راغب ہو رہے ہیں اور ایك وقت ایسا ائے گا جب پاكستان میں  لوگ روزگار كی تلاش میں آئیں  گے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جاری ہونے والی رپورٹ كے  مطابق 2050 تك پاكستان كی معیشت دنیا كی 18 ویں كامیاب معیشت ہوگی، ہماری كوشش ہوگی كہ 2030 تك پاكستان كو اس صف میں لاسكیں۔ انہوں نے کہا کہ ملك كی معاشی ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں  كو مل كر كام كرنا ہوگا، ملك میں زراعت كے شعبے كی بہتری کے لیے اقدامات كرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے بجٹ میں ٹیكس گزاروں  پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے جب كہ ٹیكس نہ دینے والوں  كی زندگی كو اجیرن بنا دیں گے، ترقیاتی بجٹ اور دفاعی بجٹ میں اضافہ كریں  گے، اخراجات كم كركے ترقی كی شرح میں اضافہ كریں گے۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates