مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے اجلاس پشاور میں طلب کرلیا

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس صوبائی دارالحکومت پشاور میں 6 جون کو ہوگا۔ فوٹو : فائل
پشاور: رمضان المبارک 1437ھ کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں 6 جون کواجلاس طلب کرلیا ہے۔
زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس عید گاہ میں ہوگا جس میں رمضان المبارک کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کے حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو آگاہ کیا جائیگا جبکہ مرکزی کمیٹی پشاورمیں غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی سے بھی رابطہ رکھے گی اور آنے والے گواہوں کے بارے میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھی آگاہ کردیا جائیگا ۔ پیر6 جون 29 شعبان کو چاند نظر آنے کے امکانات ہیں۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے اجلاس پشاور میں طلب کرلیا

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس صوبائی دارالحکومت پشاور میں 6 جون کو ہوگا۔ فوٹو : فائل
پشاور: رمضان المبارک 1437ھ کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں 6 جون کواجلاس طلب کرلیا ہے۔
زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس عید گاہ میں ہوگا جس میں رمضان المبارک کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کے حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو آگاہ کیا جائیگا جبکہ مرکزی کمیٹی پشاورمیں غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی سے بھی رابطہ رکھے گی اور آنے والے گواہوں کے بارے میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھی آگاہ کردیا جائیگا ۔ پیر6 جون 29 شعبان کو چاند نظر آنے کے امکانات ہیں۔

آپریشن ضرب عضب کے مثبت نتائج؛ دہشتگردی سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات میں 40 فیصد کمی

ضرب عضب کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی،کاروباراورسرمایہ کاری کیلیے بھی فضاسازگارہورہی ہے،رپورٹ فوٹو: فائل
 کراچی: آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردی سے معیشت کوپہنچنے والے نقصانات میں نمایاں کمی ہوئی ہے،رواں مالی سال کے پہلے9ماہ کے دوران دہشت گردی سے نقصانات کی مالیت40فیصدکمی سے 5.55 ارب ڈالررہی،دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کوناقابل تلافی نقصان پہنچا،تجارتی سرگرمیاں درہم برہم ہوگئیں ۔
جس کے نتیجے میں کاروباری لاگت میں اضافے کاسامنا کرنا پڑا،ان عوامل کی وجہ سے پاکستان کیلیے برآمدی سودوںکی بروقت ترسیل ممکن نہ رہی نتیجتاًپاکستانی مصنوعات کیلیے عالمی منڈی میں تجارتی حریف ملکوں کے مقابلے میں اپنامارکیٹ شیئربرقراررکھنا دشوار ہوگیااورپاکستان کوایکسپورٹ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اقتصادی جائزہ رپورٹ برائے سال2015-16کے مطابق پاکستان کواب بھی دہشت گردی کے خدشات بالخصوص اورپڑوسی ملکوں کی مداخلت کی وجہ سے نامساعدسیکیورٹی چیلنجزکاسامناہے تاہم ملک میں جاری ضرب عضب کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کی وجہ سے کاروباراورسرمایہ کاری کیلیے بھی فضاسازگارہورہی ہے،ضرب عضب کی وجہ سے معیشت کودہشتگردی کی وجہ سے پہنچنے والے براہ راست اوربالواسطہ نقصانات میں بھی نمایاں کمی آرہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردی سے معیشت کوپہنچنے والے نقصانات میںگزشتہ سال کی نسبت40فیصدتک کمی ہوئی ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران معیشت کو دہشت گردی اور سیکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے 9.24ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرناپڑا تھا تاہم ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران معیشت کو دہشت گردی سے پہنچنے والے نقصان میں نمایاں کمی ہوئی ہے ۔رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران برآمدات کو 80کروڑ ڈالرکانقصان پہنچا،متاثرین کومعاوضے کی ادائیگیوںکی مدمیں ایک کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کی گئی۔
انفرااسٹرکچر کو 7کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا، غیرملکی سرمایہ کاری کی مدمیں2ارب 4کروڑ ڈالر کے نقصان کاسامنا کرنا پڑا،صنعتی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ایک کروڑڈالر،ٹیکس وصولیوں کی مدمیں 2.32 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا،بے یقینی کے حالات کی وجہ سے معیشت کوپہنچنے والے نقصانات کاتخمینہ ایک کروڑ ڈالراورجاری اخراجات میں اضافے کی وجہ سے 28کروڑ ڈالرکے خرچ کاسامناکرنا پڑا، متفرق اخراجات2کروڑ ڈالر رہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران دہشت گردی کی وجہ سے ایکسپورٹ کوایک ارب ڈالر، غیرملکی سرمایہ کاری کو4.56ارب ڈالر، ٹیکس وصولیوں کو 2.94ارب ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں گزشتہ 14 سال کے دوران براہ راست اور بالواسطہ طور پر معیشت کو 118.32ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکاہے۔

ایران دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک قرار

پاکستان نےافغان طالبان اورحقانی نیٹ ورک کوبات چیت کیلئےراضی کرنےکی کوششوں میں مدد کی،امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ جاری فوٹو: فائل
واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں ایران کو دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2015 میں دہشت گردی کے واقعات میں 2014 کی نسبت 13 فیصد کمی دیکھی گئی لیکن اس کے خطرے میں کمی نہیں آئی جب کہ جنوبی ایشیا اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فرنٹ لائن بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری معاملات پر بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ معاہدہ ضرورکیا ہے لیکن اس نے حزب اللہ اور دوسری شدت پسند تنظیموں کو مالی مدد اور تربیت دینا جاری رکھا ہے اور 2015 کے دوران ایران دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک ابھرکرسامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق اورشام میں دولت اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کمی آئی ہے لیکن دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا خطرہ اب بھی اسی تنظیم سے ہے جب کہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنی پہنچ میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بنگلہ دیش میں بھی دہشت گردی کے معاملات میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں القاعدہ اور دولت اسلامیہ دونوں ہی نے غیر ملکیوں، اقلیتوں اور سیکولر بلاگروں پرحملوں کی ذمہ داری کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی سے القاعدہ کمزور ہوئی ہے لیکن رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں کئی حملے پاکستان میں موجود پناہ گاہوں سے کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو بات چیت کے لیے راضی کرنے کی کوششوں میں مدد کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 میں پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی لیکن اسکولوں اور دوسرے ایسے اہداف کو شدت پسندوں نے نشانہ بنانا جاری رکھا۔

ایران دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک قرار

پاکستان نےافغان طالبان اورحقانی نیٹ ورک کوبات چیت کیلئےراضی کرنےکی کوششوں میں مدد کی،امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ جاری فوٹو: فائل
واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں ایران کو دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2015 میں دہشت گردی کے واقعات میں 2014 کی نسبت 13 فیصد کمی دیکھی گئی لیکن اس کے خطرے میں کمی نہیں آئی جب کہ جنوبی ایشیا اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فرنٹ لائن بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری معاملات پر بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ معاہدہ ضرورکیا ہے لیکن اس نے حزب اللہ اور دوسری شدت پسند تنظیموں کو مالی مدد اور تربیت دینا جاری رکھا ہے اور 2015 کے دوران ایران دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک ابھرکرسامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق اورشام میں دولت اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کمی آئی ہے لیکن دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا خطرہ اب بھی اسی تنظیم سے ہے جب کہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنی پہنچ میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بنگلہ دیش میں بھی دہشت گردی کے معاملات میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں القاعدہ اور دولت اسلامیہ دونوں ہی نے غیر ملکیوں، اقلیتوں اور سیکولر بلاگروں پرحملوں کی ذمہ داری کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی سے القاعدہ کمزور ہوئی ہے لیکن رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں کئی حملے پاکستان میں موجود پناہ گاہوں سے کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو بات چیت کے لیے راضی کرنے کی کوششوں میں مدد کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 میں پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی لیکن اسکولوں اور دوسرے ایسے اہداف کو شدت پسندوں نے نشانہ بنانا جاری رکھا۔

خیبرایجنسی میں سیکیورٹی سے جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک

چاروں دہشت گردوں کی لاشیں جمرود اسپتال منتقل کردی گئیں۔ فوٹو: فائل
خیبرایجنسی: وادی تیراہ کے علاقے مستک میں سیکیورٹی فورسزاوردہشت گردوں کے دوران جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق  خیبرایجنسی میں وادی تیراہ کے علاقے مستک میں سیکیورٹی فورسز اوردہشت گردوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ چاروں دہشت گردوں کی لاشیں جمرود اسپتال منتقل کردی گئیں ہیں۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسزنے وادی تیراہ میں کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظرعلاقے میں حکومتی رٹ کی بحالی کے لئے آپریشن شروع کررکھا ہے جس میں اب تک درجنوں شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

لاہورمیں احتجاج کرنے والی نرسیں 2 دھڑوں میں تقسیم؛ ایک دھڑے کا احتجاج جاری

مطالبات تسلیم کئے بنا دھرنا ختم نہیں کریں گے، ناراض نرسزز۔ فوٹو:فائل
 لاہور: مال روڈ پرسرکاری اسپتالوں کی نرسوں نے احتجاج کے پانچویں روز رات گئے  حکومت سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا تو نرسیں دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئیں جس کے بعد ایک دھڑے کا اب بھی مال روڈ پر احتجاج جاری ہے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق لاہورمیں مال روڈ پر احتجاج کرنے والی نرسیں دو دھڑوں میں تقسیم ہوں گئیں جب کہ ایک دھڑے کا احتجاج جاری ہے اور دوسرے دھڑے نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ میو اسپتال سے تعلق رکھنے والی ناراض نرسزز دھڑے کی سربراہ راحیلہ کا کہنا ہے کہ ہم حکومت سے مذاکرات کو تسلیم نہیں کرتے، میواسپتال میں نرسزکی تعداد زیادہ ہے جب کہ ینگ نرسز کے ایک دھڑے نے حکومت کی ایما پر دھرنے سے علیحدگی کا اعلان کیا تاہم ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔
راحلیہ کا کہنا ہے کہ میواسپتال کی تمام نرسزدھرنے میں بیٹھی رہیں گی اور مطالبات تسلیم کئے بنا دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا جب کہ نرسوں کے ناراض دھڑے سے مذاکرات کے لئے میو اسپتال کے ایم ایس ڈاکڑ امجد حسین دھرنے میں پہنچے تاہم نرسوں نے ان سے مذاکرات سے صاف انکار کردیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نرسنگ ایسوسی ایشن اورپنجاب حکومت کے درمیان مذکرات کامیاب ہوگئے تھے  جس میں طے پایا تھا کہ نرسنگ اسٹاف کے لیے رسک الاؤنس 3 ماہ میں طے کرلیا جائے گا اور سروس اسٹرکچر کے لیے ایک ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے جسے ایک ماہ میں ہی بحال کردیا جائے گا۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates