کورنگی مہران ٹاؤن میں حساس اداروں کی کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک

ہلاک دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ سمیت جرائم کی سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے، سی ڈی ڈی حکام۔ فوٹو؛ فائل
 کراچی: کورنگی مہران ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں پولیس کو مطلوب 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی اور حساس ادارے نے رات گئے خفیہ اطلاع پر کورنگی انڈسٹریل ایریا کے علاقے مہران ٹاؤن میں ایک مکان پر چھاپہ مارا تو وہاں چھپے دہشت گردوں نے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی میں تینوں دہشت گردوں کو قریبی علاقے مہران ٹاؤن بند کے قریب گھیر لیا گیا جہاں دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں تینوں ملزمان ہلاک ہوگئے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور رائفل برآمد ہوئی ہے جب کہ تینوں ملزمان پولیس کو ٹارگٹ کلنگ سمیت جرائم کی سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔

اقتصادی راہداری کا خواب حقیقت میں بدلنے کیلیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں، سربراہ پاک فوج

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی سیکیورٹی پر بریفنگ دی گئی، فوٹو؛ آئی ایس پی آر
راولپنڈی: آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف تمام سازشوں سے آگاہ ہیں اور اقتصادی راہداری کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کورکمانڈرز، پرنسپل اسٹاف افسران سمیت تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی جب کہ کانفرنس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف نے آپریشن ضرب عضب میں فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سراہا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور قوم ایک دہائی سے دہشت گردی سے متاثر ہے، پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ افسروں اور جونواں کی کاوشوں سے ضرب عضب حتمی مرحلے میں ہے اور پاک فوج نے قوم کے عزم سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جب کہ  فوج قوم کی توقعات پر ہمیشہ پورا اترے گی۔
پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف تمام سازشوں سے آگاہ ہیں اور اقتصادی راہداری کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

ملا منصور کو رہائشی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا، ایف آئی اے

تحقیقات کے دوران ضلع قلعہ عبداللہ سے مذکورہ سرٹیفکیٹ ملاجس پر ولی محمدکانام درج ہے۔ فوٹو : فائل
کوئٹہ: ایف آئی اے حکام کے مطابق افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کو نہ صرف پاکستانی شناختی کارڈ اورپاسپورٹ بلکہ ولی محمدکے نام سے مقامی رہائشی سرٹیفکیٹ (لوکل ریزیڈنٹ سرٹیفکیٹ) بھی جاری کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران ضلع قلعہ عبداللہ سے مذکورہ سرٹیفکیٹ ملاجس پر ولی محمدکانام درج ہے اورتعلق کاکڑقبیلے سے ہے، افغان طالبان کے امیرکو 1999 میں پاکستانی دستاویزات جاری کی گئیں جس پرقلعہ عبداللہ کے ڈپٹی کمشنرحافظ محمد طاہرکے دستخط موجودہیں،حکام نے بتایاکہ سرٹیفکیٹ کے اجراپرمزیدتحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

شارٹ فال7 ہزارمیگاواٹ؛ نیپرا رپورٹ میں وزارت بجلی کے دعوؤں کی نفی

 60 فیصد ٹرانسفارمرز پر صلاحیت سے80 فیصد اضافی بوجھ ہے جس سے بھاری نقصان ہو رہا ہے فوٹو: فائل
 اسلام آباد:  نیپرا نے پاور سیکٹر پر اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2015 اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ارسال کر دی گئی۔
رپورٹ میں نیپرا نے بجلی کی طلب اور شارٹ فال کے حوالے سے وزارت پانی و بجلی کے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال 3 ہزار میگاواٹ نہیں بلکہ 7 ہزار میگاواٹ ہے اور بجلی کا موجودہ ٹرانسمیشن نظام نئے پاور پلانٹس کی بجلی تقسیم کرنے کے قابل نہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں بجلی کی طلب 2 ہزار میگاواٹ کے اضافے کے بعد 23 ہزار711میگاواٹ ہے۔ بجلی کی پیداواری صلاحیت 23 ہزار617 میگاواٹ جبکہ 16ہزار 700 میگاواٹ پیدا کی جاری ہے۔
ٹرانسمشن سسٹم کی حالت انتہائی کمزور ہونے کے باعث سستی بجلی پیدا کرنیوالے پلانٹس پوری صلاحیت پر نہیں چلائے جا رہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں 60 فیصد ٹرانسفارمرز پر صلاحیت سے80 فیصد اضافی بوجھ ہے جس کے باعث بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

خیبرایجنسی میں سیکیورٹی سے جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک

چاروں دہشت گردوں کی لاشیں جمرود اسپتال منتقل کردی گئیں۔ فوٹو: فائل
خیبرایجنسی: وادی تیراہ کے علاقے مستک میں سیکیورٹی فورسزاوردہشت گردوں کے دوران جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق  خیبرایجنسی میں وادی تیراہ کے علاقے مستک میں سیکیورٹی فورسز اوردہشت گردوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ چاروں دہشت گردوں کی لاشیں جمرود اسپتال منتقل کردی گئیں ہیں۔
واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسزنے وادی تیراہ میں کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظرعلاقے میں حکومتی رٹ کی بحالی کے لئے آپریشن شروع کررکھا ہے جس میں اب تک درجنوں شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

پٹھان کوٹ واقعہ پر بھارتی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کا بیان ہمارے مؤقف کی تصدیق ہے، دفترخارجہ

پٹھان کوٹ واقعہ پر فوری ایکشن پاکستان کے تعاون کا عکاس ہے۔ ترجمان، فوٹو؛ فائل
 اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے پٹھان کوٹ واقعے میں پاکستان کو کلین چٹ ملنے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ایجنسی این آئی اے کے سربراہ کا بیان پاکستانی مؤقف کی تصدیق ہے جب کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے امن پسندی پریقین رکھتا ہے۔
پٹھان کوٹ واقعہ پر بھارتی تحقیقاتی سربراہ کی جانب سے تحیقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری بیان پر رد عمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی ایجنسی این آئی اے کے سربراہ کا بیان پاکستانی مؤقف کی تصدیق ہے اور واقعہ پر فوری ایکشن پاکستان کے تعاون کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے امن پسندی پریقین رکھتا ہے اور جےآئی ٹی دورہ بھارت میں شیئرکی گئی معلومات کاجائزہ لے رہی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے پر ہمیں گہری تشویش ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ نے پٹھان کوٹ واقعہ پر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات میں پاکستان یا اس کے کسی ادارے کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

پٹھان کوٹ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، سربراہ بھارتی ایجنسی کا اعتراف

تحقیقات میں اب تک حملے میں بھارت کسی اندورنی ہاتھ یا گروہ کا پتا نہیں چل سکا ہے،شردکمار فوٹو: فائل
نئی دلی: پٹھان کوٹ واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی بھارتی کوشش ناکام ہوگئی ہے جس کا بھانڈا بھارتی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ نے پاکستان کو کلین چٹ دے کر پھوڑ دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) کے سربراہ شرد کمار نے مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جس میں کسی بھی طرح حملے میں پاکستان، اس کے ادارے یا اس سے وابستہ کسی تنظیم کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں حملے کے لیے کسی پاکستانی سرکاری ادارے کی جانب سے جیشِ محمد کو مدد کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔
ایک سوال کے جواب میں شرد کمار کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں اب تک حملے میں بھارت کسی اندورنی ہاتھ یا گروہ کا پتا نہیں چل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ واقعے پر بھارت نے اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں جس کے بعد پاکستان کی جانب سے ہمارے حکام کو اجازت دیئے جانے کا انتظار ہے، اگر پاکستانی بھارتی تحقیقاتی ادارے کو اپنے ملک تک رسائی نہیں دیتا تب بھی دہشت گرد حملے کی چارج شیٹ ضرور بنائی جائے گی۔
واضح رہے کہ رواں سال 2 جنوری کو بھارت کے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ کیا گیا اورحملے کی خبر ابھی صحیح طرح دنیا کے سامنے آنے بھی نہیں پائی تھی کہ بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف اپنی روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کردیا تھا، ایئر بیس حملے میں 5 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جب کہ مسلسل کئی روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں حملہ آور بھی مارے گئے۔
دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو حملے سے متعلق تفتیش کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے پٹھان کوٹ کا دورہ بھی کیاجب کہ پاکستان میں پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates