امیتابھ اورجیا بچن نے ازدواجی زندگی کے 43 سال مکمل کرلیے

امیتابھ اور جیا بچن 3 جون 1973 کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ فوٹو؛ فائل
ممبئی: بھارتی فلم انڈسٹری کے میگا اسٹار امیتابھ بچن اور جیا بچن آج اپنی شادی کی 43 ویں سالگرہ منائی۔
گلیمرس کی چکا چوند دنیا میں جہاں رشتے بنتے اور ٹوٹتے ہیں وہیں اداکار امیتابھ بچن اور جیا بچن کی جوڑی محبت اور پائیدار رشتے کی بڑی مثال ہے جو 43 سالہ رفاقت خوش و خرم گزار رہے ہیں۔
بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ اور جیا بچن کی جوڑی نے 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم’’ زنجیر‘‘ سے شہرت پائی جس کے بعد ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں اداکار 3 جو ن 1973 کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ماضی کی سپر اسٹارجوڑی نے بالی ووڈ کو کئی کامیاب فلمیں دیں جس میں ’’ابھیمان‘‘،’’چپکے چپکے‘‘، ’’شعلے‘‘ ،’’زنجیر‘‘ ،’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔
View image on TwitterView image on Twitter
T 2275 - It shall be impossible to thank all that wish us for our wedding Anniversary .. but thank you all ..

بالی ووڈ میگا اسٹارامیتابھ بچن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شادی کی سالگرہ پر نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ اداکیا۔

Fire erupts at PIA engineering facility in Karachi

ISLAMABAD: A spokesman for the Pakistan International Airline on Saturday said a fire had broken out at the precision engineering department near the Jinnah International Airport, Karachi, early morning and is likely to damage spare parts.
After hours of efforts, the fire was brought under control around 1pm, confirmed Danyal Gilani – the airline's spokesman in Islamabad, who said the situation was now “under control”.
Gilani said no one was injured and the incident had not affected flight operations. “Preliminary investigation suggests the fire was caused by short circuit,” he added. “Damage assessment would be possible after the site cools down.”
He said PIA Chairman Azam Saigol had ordered an inquiry into the incident.
The precision engineering department manufactures spare parts of airplanes and other industries.

شلپا شیٹی کے شوہر نے طلاق کی افواہیں رد کردیں

شلپا جتنا خیال رکھتی ہیں کوئی اور عورت نہیں رکھ سکتی، شلپا شیٹی فوٹو : فائل
ممبئی: بالی وڈ کی دراز قد اور خوبرو اداکارہ شلپا شیٹی اور راج کندرا کو ایک دوسرے کا لائف پارٹنر بنے سات سال ہوچکے ہیں اور دونوں کا یہ سفر انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔
گزشتہ دنوں اس افواہ نے شلپا شیٹی کے پرستاروں کو پریشان کر کے رکھ دیا تھا کہ ان کے اپنے شوہر راج کندرا سے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ راج کندرا شلپا کوطلاق دینے کا سوچ رہے ہیں۔لیکن راج کندرا نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپنے اور شلپا کے درمیان طلاق کی خبروں کو افواہ قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بہت مزے میں ہیں۔
شلپا ان کا جتنا خیال رکھتی ہیں کوئی اور عورت نہیں رکھ سکتی۔راج کندرا نے اعلان کیا کہ وہ 8جون کو شلپا شیٹی کی سالگرہ انوکھے طریقے سے منائیں گے اور ایک ایسا سرپرائز دیں گے کہ ہمارے درمیان فساد پھیلانے والوں کے منہ بند ہوجائیں گے۔

اب فیشن ڈیزائننگ اور ملبوسات کے شعبے میں نام پیدا کروں گی،مدیحہ شاہ

فلم کے میدان میں بھی 250سے زائد فلموں میں کام کر چکی ہوں،مدیحہ شاہ فوٹو: فائل
 لاہور:  اداکارہ مدیحہ شاہ نے کہا ہے کہ جس طرح میں نے شوبز کی دنیا میں کامیابیاں سمیٹی ہیں اسی طرح اب فیشن ڈیزائننگ اور ملبوسات کے شعبے میں بھی اپنا نام پیدا کروں گی ۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ میں نے فلم ، ٹی وی ، تھیٹر اور ریڈیو پر بھی کام کیا ہے اور میرے کریڈٹ پر پاکستان کا سب سے طویل عرصے تک جاری رہنے والا ڈرامہ جنم جنم کی میلی چادر ہے جس میں میں نے پانچ سال تک کام کیا اور اسی طرح فلم کے میدان میں بھی 250سے زائد فلموں میں کام کر چکی ہوں اور میری آخری فلم مجاجن تھی۔

برے وقت سے ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کی،ہما قریشی

زندگی کو سمجھنے کے لیے بعض اوقات تلخ تجربات بہت ضروری ہوتے ہیں،اداکارہ فوٹو: فائل
ممبئی: بالی وڈ کی بیک وقت تین فلموں ’دوبارہ‘،’وائسرائے ہاؤس‘ اور ’وائٹ‘ میں مصروف اداکارہ ہما قریشی کہتی ہیں کہ زندگی کو سمجھنے کے لیے بعض اوقات تلخ تجربات بہت ضروری ہوتے ہیں،انھوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں کہی۔
ہما قریشی کا مزید کہنا تھا کہ برا وقت بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جتنا اچھا وقت۔میری زندگی بھی مشکلات سے بھرپور رہی ہے اور میں نے برے وقت کو کبھی بھلایا نہیں۔انھوں نے کہا کہ تلخ اور نامساعد حالات سے ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کی۔
ناکامیوں سے دلبرداشتہ ہوکر گھر بیٹھ جاتی تو آج مجھے کوئی جانتا تک نہ ہوتا،انھوں نے کہا کہ ہرطرح کے حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہوں۔اپنے کیریئر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فلم نگری میں لڑکیوں کو قدم جمانے کے لیے کئی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اور میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔

جدید ٹیکنالوجی سے بننے والی فلموں نے انڈسٹری میں نئی روح پھونک دی، سارہ لورین

بالی وڈ میں سیکھنے کے بہت مواقع ملتے ہیں، سارہ لورین۔ فوٹو : فائل
 لاہور:  معروف اداکارہ و ماڈل سارہ لورین نے کہا ہے کہ بالی وڈ میں کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا جا رہا ہے۔ وہاں کام کرکے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ وہاں ایک فلم کو بنانے کے لیے جہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، وہیں اس کی پروموشن کے لیے بھی بھاری بجٹ مختص ہوتا ہے۔
پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی تو آچکی ہے لیکن پروموشن کے لیے کچھ خاص نہیں کیا جاتا۔ اس کے باوجود ہمارے فلم میکرز اچھی فلمیں بنا کر شائقین کو انٹرٹین کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’’ایکسپریس‘‘ سے بات کرتے ہوئے کیا۔ سارہ لورین نے کہا کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی سے بننے والی فلموں نے انڈسٹری میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اچھی اور معیاری فلمیں بنائی جا رہی ہیں لیکن ان فلموں کو مکمل انٹرٹیننگ فلمیں نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان میں بہت سی کمی دکھائی دیتی ہے جن کے بارے میں مجھ سمیت بہت سے تکنیکی لوگ سمجھتے اور جانتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اب پاکستانی سینما گھروں کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں اور فلمسازی میں بہتری آرہی ہے۔
فلموں کا معیار بہتر ہو رہا ہے اور فارمولا فلموں کی بجائے اب کچھ نئے موضوعات بھی فلموں کا حصہ بن رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فنون لطیفہ میں آنے کے خواہشمندوں کو صرف یہی پیغام دینا چاہوں گی کہ اس شعبے میں کامیابی، شہرت اور دولت انھی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو اپنا کام ایمانداری، محنت اور لگن سے کرنے کے علاوہ سینئرز کی عزت اور جونیئرز سے پیار کرتے ہیں۔
جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ تمام عمر ناکامی کے اندھیروں میں گم رہتے ہیں۔ وہ چاہے جتنے اچھے فنکار ہوں مگر کامیابی ان کا مقدر نہیں بن پاتی۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین نے کہا کہ بالی وڈ میں سیکھنے کے بہت مواقع ملتے ہیں۔ یہاں پر دنیا بھر کے قابل لوگ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے آتے ہیں اور مجھے یہاں کام کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے، جو میرے کیریئر کو آگے بڑھانے میں سپورٹ کرے گا۔

F-16 deal no longer a viable offer, says US

WASHINGTON: The F-16 deal was no longer a viable offer, a US State Department official told a Capitol Hill meeting on Thursday, as other speakers urged the United States to help improve Afghanistan-Pakistan ties.
“The drone strike that killed Mullah Mansour was an ice-breaker. There could be more strikes in Balochistan now. This is a very dangerous situation for Pakistan,” warned Marvin Weinbaum, a US scholar from the Middle East Institute, Washington.
A spokesman for the Pakistan Embassy, Ubaidur Rehman Nizami, however, urged members of the Quadrilateral Coordination Group to get together to consider the consequences of the May 21 drone strike that killed Mullah Mansour. The group includes the United States, China, Afghanistan and Pakistan, formed last year to seek a negotiated settlement to the Afghan dispute.
The Capitol Hill meeting was organised by the Pakistani American Congress, which holds this annual event to present Pakistan’s case before US lawmakers.
“Forever is a long time but the term of the offer has expired. So for now it is not a viable offer,” said State Department official David Ranz, when asked if the US offer to sell eight F-16 fighter jets to Pakistan was dead.
Mr Ranz pointed out that Congress did not approve the Obama administration’s request to use US funds for subsidising the deal and that was why it expired, on May 24.
Besides preventing the sale, Congress made “a significant portion” of the military assistance to Pakistan “conditional to taking action against the Haqqani network”, he added.
Pakistan has been receiving about a billion dollars from the US Coalition Support Fund as reimbursement for its efforts to combat terrorism.
“We are committed to this important relationship with Pakistan. We are committed to getting through the challenges, and to building a stronger relationship,” Mr Ranz said.
The official pointed out that Pakistan was the biggest beneficiary of the US education assistance and the United States was also working closely with Pakistan to help the country overcome its energy crisis.
But sometimes, “the cooperation is subsumed by the challenges, which get the lion’s share in the media”, he said.
Mr Ranz, however, acknowledged that the United States had concerns about Pakistan’s nuclear programme and about terrorist groups like the Haqqani network and Lashkar-e-Taiba.
Besides these two long-standing issues, recent short-term issues like imprisoning Dr Shakil Afridi, who allegedly helped the US trace Osama bin Laden, also strained bilateral relations, Mr Ranz said.
Steve Cohen, a scholar from the Brookings Institution, said that “roller-coaster” was an apt description for Pakistan-US relationship and warned that if this “roller-coaster” went on for too long, it could also break.
Mr Cohen said that the US Congress was “deeply concerned” about the possibility of a war between two nuclear-armed countries, India and Pakistan.
The renowned American scholar also urged Pakistanis not to blame outside powers like the US and India for their internal problems, like the insurgency in Balochistan but also to look at the mistakes they had made in that province.
Mr Weinbaum urged the United States to shift its focus from seeking reconciliation with the Taliban to “promoting reconciliation between Afghanistan and Pakistan”.
He argued that unless relations between the two neighbouring countries improved, there could be no peace in the region.

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates