Minister says $58bn power sector investment lined up

Minister says $58bn power sector investment lined up
ISLAMABAD: The government claimed on Thursday to have lined up $58 billion investment in the troubling power sector till 2022, but aired uncertainty over implementation of the Iran-Pakistan gas pipeline project.
This was the gist of a briefing the Prime Minister Office had arranged for Islamabad-based foreign diplomats, civil society members, academics and media persons on the eve of completion of three years of the Pakistan Muslim League-Nawaz government with focus on power projects, oil and gas and connectivity limited to roads.
At the outset, Minister for Petroleum and Natural Resources Shahid Khaqan Abbasi said the Iran-Pakistan gas pipeline project was still facing two major issues to take off. Explaining, he said international sanctions against Iran had eased but “dollar transactions are still not allowed”, making it difficult to have normal business transactions with Tehran. Secondly, the existence of snap-back clause in Iran’s agreement with the West was a problem for international financing of the project.
Responding to a question why such restrictions did not work against the European Union, Mr Abbasi said the EU had only a one-off transaction with Iran while the Iran-Pakistan pipeline project was a long-term arrangement for 20 years which could be affected in case of application of snap-back clause.
He said the discussions with Iran were in progress on these issues and hopefully the project would go through and be completed by June 2018. The project could start with 250mmcfd of gas flows in June 2018 and then gradually go up to 750mmcfd.
In reply to a question on the Turkmenistan-Afghanistan-Pakistan-India (Tapi) gas pipeline project, the minister said Turkmenistan had taken upon itself to deal with security of the pipeline in Afghanistan and the project envisaging 1,325mmcfd of gas to Pakistan could materialise in January 2020.
He said even if both the IP and Tapi projects materialised, Pakistan’s energy needs would not be overcome because domestic gas supplies were about 4,000mmcfd against a demand of about 8,000mmcfd.
Therefore, import of liquefied natural gas was “the only short- to medium-term solution of Pakistan’s energy crisis as it was sustainable, flexible and scalable”. He said the government had a target to inject 2,000mmcfd of LNG in the system by mid-2018 to “wipe out loadshedding”.
A total of 4,000MW of LNG-based power plants would become operational by mid-2017 while $2bn had been invested in LNG terminals and pipelines. Currently, 400mmcfd of LNG was being supplied to the system which would increase to 1200mmcfd in June next year.
By 2018, Pakistan will have surplus gas in the system and all consumers including power plants, fertilisers, industry, CNG, captive power plants and housing colonies would have gas available without any problem. To meet this challenge, Rs850bn worth of gas pipeline network and four LNG terminals at a cost of Rs120bn were in different stages of implementation, the minister said.
He said the country needed investments in oil storages, oil pipelines and deep conversion refining capacity in coastal areas. The “biggest need” is to have deep conversion 250,000-400,000 barrels per day of petrochemical complex worth $5bn in the coastal area.
ELECTRICITY: Minister for Water and Power Khwaja Asif said $58bn worth of investment in the power sector was expected for generation of 30,948MW by 2022 and the power crisis would completely wipe out in 2018 but declined to give a deadline.
Asked what gave him the confidence that $58bn investment would materialise, Mr Asif said the government had already lined up $36bn investment and added that agreements for 11,000MW had already been signed. Many projects were now achieving financial close, others were already in advanced stage with equity investment.
Power Secretary Younas Dagha said under the 10,400MW portfolio of the China-Pakistan Economic Corridor 8,630MW were currently under execution phases and promised zero loadshedding in 2018. He said the loadshedding to industry had been wiped out except for Ramazan when its one shift had been taken out for domestic consumers
Responding to a question on conservation, the minister said wastage of energy was a serious issue in Pakistan and the federal government was “getting absolutely no support from the provinces including from Punjab for energy conservation and closure of markets at sunset”.
He regretted that Pakistan was blessed with a lot of sunshine, but the nation was doing business in electric lights. “This is sad,” he said.
ROADS: Chairman of the National Highway Authority Shahid Ashraf Tarrar said his agency was currently implementing Rs850bn worth of road projects which would be completed in three years. He said work on various segments of the western route of the CPEC was in progress.

نیوکلیئرسپلائر گروپ میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت کا فیصلہ رواں ماہ کے آخر میں ہوگا

اگرپاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت نہ ملی تو چین بھارت کو بھی اس کا ممبر نہیں بننےدے گا،مبصرین۔ فوٹو:فائل
ویانا:  آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ممبران کا انتہائی اہم اجلاس ہوا جس میں اس گروپ کی رکنیت کے خواہشمند ممالک کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں پرغور کیا گیا جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں جب کہ اجلاس میں طے پایا کہ گروپ کی رکنیت سے متعلق فیصلہ رواں ماہ کی 23 اور 24 تاریخ کو سیئول میں ایس این جی کے اہم اجلاس میں کیا جائے گا۔ 
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے دارالحکومت ویانا میں نیوکلئیر سپلائرز گروپ کے ممبران اس گروپ کے رکن بننے کے خواہشمند ممالک کی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔  بھارت نے اس اہم ترین گروپ میں شمولیت کی درخواست 12 مئی کودی تھی جب کہ پاکستان کی جانب سے 21 مئی کو درخواست دی گئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرپاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت نہ ملی تو چین بھارت کو بھی اس کا ممبر نہیں بننے دے گا اوربھارت کی قرارداد کو ویٹو کردے گا، اجلاس میں ممکنہ طور پر امریکا بھارت کی حمایت کرے گا اوراگر امریکا نے بھارت کی حمایت کی تو اسے کئی بارسوچنا ہوگا۔ مبصرین کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اجلاس میں یا تو دونوں ممالک کو رکنیت ملے گی یا پھر کسی کوبھی نہیں جب کہ ایسا ہی معاملہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے حصول کے معاملے پربھی دیکھنے کو ملا تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لیے لابنگ کی اور جب رکنیت ملنے کا معاملہ آیا تو دونوں ممالک کو اس کی رکنیت دے دی گئی۔
نیوکلئیر سپلائرزگروپ کا ممبر بننے کے لیے بھارت کی جانب سے بڑے محاذ پر لابنگ کی گئی جب کہ پاکستان نے بھی کافی حد تک سفارتی محاذ پر اپنے تعلقات کو اچھے طریقے سے استعمال کیا۔ بھارتی وزیراعظم اس مقصد کے حصول کے لیے 5 ملکی دورے پر نکلے ہیں جس میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ، امریکا اور میکسیکو کے دورے کیے اور تینوں ممالک نے انہیں گرین سگنل دیا ہے۔
پاکستان نے بھی نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی ممبرشپ کے حصول کے لیے اپنے دوست ممالک اور مغربی ممالک سے رابطہ کیا جہاں سے پاکستان کو تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔ پاکستان نے جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ کو قائل کرلیا جب کہ سب سے اہم بات یہ کہ پہلی مرتبہ روس نے اپنا وزن پاکستان کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کے علاوہ نیوزی لینڈ، آسٹریا، ترکی اور جنوبی افریقا نے بھی بھارت کی ایس این جی میں شمولیت کی مخالفت کی اور اجلاس میں میکسکو نے بھارت کی تائید و حمایت کی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ضروریات میں جوہری ری ایکٹروں سے توانائی کے حصول میں اضافہ ہوگا جوکہ ایک بہت بڑی ابھرتی ہوئی منڈی ہے اوراسی سلسلے میں پاکستان اور بھارت اس گروپ کا حصہ بن کراس تجارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ این ایس جی یعنی نیوکلئیرسپلائیرز گروپ ایک ایسا گروپ ہے جو ایٹمی اور جوہری مواد کی قانونی خرید و فروخت کا مجاز ہے جس کا قیام 1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کرنے کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

بھاری اخراجات کا ڈر، بورڈانضمام کو انگلینڈ بھجوانے سے گریزاں

اگر چیف سلیکٹر چاہیں تو اے ٹیم کے مقابلے دیکھنے انگلینڈ جا سکتے ہیں، پی سی بی حکام۔ فوٹو: فائل
 کراچی:  پی سی بی چیف سلیکٹر انضمام الحق کو انگلینڈ بھیجنے کے موڈ میں نہیں لگتا، حکام کا خیال ہے کہ تمام میچز ٹیلی ویژن پر نشر ہوں گے، ایسے میں وہاں بھیج کر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اگر چیف سلیکٹر چاہیں تو اے ٹیم کے مقابلے دیکھنے انگلینڈ جا سکتے ہیں کیونکہ وہ ٹیلی کاسٹ نہیں ہوں گے، یوں انھیں نوجوان پلیئرز کی کارکردگی جانچنے کا موقع مل جائے گا۔ واضح رہے کہ شیڈول سے قبل انگلینڈ بھیج کر بورڈ  ویسے ہی 50 لاکھ روپے کے اضافی اخراجات برداشت کر رہا ہے ایسے میں وہ مزید فضول خرچی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں پرتگالی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سب سے آگے

امریکی میگزین فوربز کے مطابق رونالڈو رواں سال 88 ملین ڈالر کمائی کرنے والے دنیا کے امیر ترین کھلاڑی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
لاس اینجلس: عالمی شہرت یافتہ فٹبالر اور پرتگال کی ٹیم کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو رواں سال سب سے زیادہ کمائی کرنے والے دنیا کے امیرترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔
امریکی میگزین فوربز نے دنیا کے 100 امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست جاری کردی جس کے مطابق عالمی شہرت یافتہ فٹبالر اور پرتگال کی ٹیم کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو رواں سال 88 ملین ڈالر کمائی کرکے دنیا کے امیر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں جب کہ ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی 81.4 ملین ڈالر کے ساتھ اس فہرست میں دوسرے نمبرپر ہیں ۔
امریکی میگزین کے مطابق  امریکی باسکٹ بال ٹیم کے کھلاڑی لیبرون جیمز77.2 ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے اور سوئزرلینڈ کے ٹینس اسٹار راجر فیڈرر67.8 ملین ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر ہیں جب کہ  امریکی باسکٹ بال کھلاڑی 56.2 ملین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا کے 100 امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں کوئی کرکٹر جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

مسلسل نظر انداز کیے جانے پر جنید خان نے انگلینڈ منتقل ہونے پر غور شروع کردیا

جنید کا کہنا ہے کہ مجھے کسی قسم کے کوئی فٹنس مسائل لاحق نہیں، جنید خان۔ فوٹو: فائل
 کراچی: مسلسل نظر انداز کیے جانے پر جنید خان کا دل ٹوٹ گیا، فاسٹ بولر نے ہمیشہ کے لیے انگلینڈ منتقل ہونے پر غور شروع کردیا۔
تفصیلات کے مطابق جنید خان موجودہ فاسٹ بولرز کی کھیپ میں سب سے تجربہ کار ہیں تاہم انھیں نئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے دورئہ انگلینڈ کیلیے یکسر نظر انداز کردیا ہے، ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ برس گھٹنے کی انجری لاحق ہونے کے بعد سے جنید کے ردھم میں مسئلہ ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ حفیظ اور یاسر شاہ کو انضمام مکمل طور پر ان فٹ ہونے کے باوجود بھی منتخب کرچکے ہیں۔
جنید نے انجری سے واپسی کے بعد پاکستان سپر لیگ اور قومی ون ڈے میں بھی پرفارمنس دی مگر ایک بار پھر ٹھکرائے جانے کے بعد ان کا دل ٹوٹ چکا، اب وہ پاکستان کو خیرباد کہہ کر ہمیشہ کیلیے انگلینڈ منتقل ہونے پر غور کررہے ہیں جہاں پر ایک دن انھیں انگلش ٹیم کیلیے بھی کھیلنے کا موقع میسر آسکتا ہے۔ ان کے ایک فیملی ممبر نے ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنید سلیکٹرز کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے کافی مایوس اور مستقل طور پر انگلینڈ منتقل ہونے پر غور کررہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے غیرمنصفانہ سلوک ہورہا ہے، لہذا بہتر ہو گیاکہ انگلینڈ چلے جائیں جہاں ٹیلنٹ کا احترام کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ جنید اس سے پہلے لنکا شائر اور مڈل سیکس کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں، جنید نے اب تک 22 ٹیسٹ میچز میں 31.73 کی اوسط سے 71 وکٹیں لیں، اگرچہ ان اعدادوشمار کو شاندار نہیں کہا جاسکتا مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لیفٹ آرمر نے زیادہ تر میچز یو اے ای اور سری لنکا کی ڈیڈ پچز پر کھیلے ہیں۔
خود جنید کہتے ہیں کہ میں مکمل طور پر فٹ ہوں، تمام ایکسرسائز میں حصہ لیا، مجھے سمجھ نہیں آتاکہ نظر انداز کیوں کیا جارہا ہے، اس نہ صرف میری حوصلہ شکنی ہورہی بلکہ میرا دل بھی ٹوٹ چکا ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے اب تک کیریئر کے دوران غیرموزوں پچز پر پرفارم کیا،اب جب اپنی بولنگ کے لیے موزوں کنڈیشنز پر کھیلنے کا موقع آیا تو مجھے نظر انداز کردیا گیا۔ یاد رہے کہ جنید خان کی اہلیہ برطانوی شہری ہیں، ان کی وجہ سے انھیں بھی وہاں پر سیٹل ہونے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں پرتگالی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سب سے آگے

امریکی میگزین فوربز کے مطابق رونالڈو رواں سال 88 ملین ڈالر کمائی کرنے والے دنیا کے امیر ترین کھلاڑی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
لاس اینجلس: عالمی شہرت یافتہ فٹبالر اور پرتگال کی ٹیم کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو رواں سال سب سے زیادہ کمائی کرنے والے دنیا کے امیرترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔
امریکی میگزین فوربز نے دنیا کے 100 امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست جاری کردی جس کے مطابق عالمی شہرت یافتہ فٹبالر اور پرتگال کی ٹیم کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو رواں سال 88 ملین ڈالر کمائی کرکے دنیا کے امیر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں جب کہ ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی 81.4 ملین ڈالر کے ساتھ اس فہرست میں دوسرے نمبرپر ہیں ۔
امریکی میگزین کے مطابق  امریکی باسکٹ بال ٹیم کے کھلاڑی لیبرون جیمز77.2 ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے اور سوئزرلینڈ کے ٹینس اسٹار راجر فیڈرر67.8 ملین ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر ہیں جب کہ  امریکی باسکٹ بال کھلاڑی 56.2 ملین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا کے 100 امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں کوئی کرکٹر جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

نیوکلیئرسپلائر گروپ میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت کا فیصلہ رواں ماہ کے آخر میں ہوگا

اگرپاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت نہ ملی تو چین بھارت کو بھی اس کا ممبر نہیں بننےدے گا،مبصرین۔ فوٹو:فائل
ویانا:  آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ممبران کا انتہائی اہم اجلاس ہوا جس میں اس گروپ کی رکنیت کے خواہشمند ممالک کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں پرغور کیا گیا جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں جب کہ اجلاس میں طے پایا کہ گروپ کی رکنیت سے متعلق فیصلہ رواں ماہ کی 23 اور 24 تاریخ کو سیئول میں ایس این جی کے اہم اجلاس میں کیا جائے گا۔ 
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے دارالحکومت ویانا میں نیوکلئیر سپلائرز گروپ کے ممبران اس گروپ کے رکن بننے کے خواہشمند ممالک کی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔  بھارت نے اس اہم ترین گروپ میں شمولیت کی درخواست 12 مئی کودی تھی جب کہ پاکستان کی جانب سے 21 مئی کو درخواست دی گئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرپاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت نہ ملی تو چین بھارت کو بھی اس کا ممبر نہیں بننے دے گا اوربھارت کی قرارداد کو ویٹو کردے گا، اجلاس میں ممکنہ طور پر امریکا بھارت کی حمایت کرے گا اوراگر امریکا نے بھارت کی حمایت کی تو اسے کئی بارسوچنا ہوگا۔ مبصرین کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اجلاس میں یا تو دونوں ممالک کو رکنیت ملے گی یا پھر کسی کوبھی نہیں جب کہ ایسا ہی معاملہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے حصول کے معاملے پربھی دیکھنے کو ملا تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لیے لابنگ کی اور جب رکنیت ملنے کا معاملہ آیا تو دونوں ممالک کو اس کی رکنیت دے دی گئی۔
نیوکلئیر سپلائرزگروپ کا ممبر بننے کے لیے بھارت کی جانب سے بڑے محاذ پر لابنگ کی گئی جب کہ پاکستان نے بھی کافی حد تک سفارتی محاذ پر اپنے تعلقات کو اچھے طریقے سے استعمال کیا۔ بھارتی وزیراعظم اس مقصد کے حصول کے لیے 5 ملکی دورے پر نکلے ہیں جس میں انہوں نے سوئٹزرلینڈ، امریکا اور میکسیکو کے دورے کیے اور تینوں ممالک نے انہیں گرین سگنل دیا ہے۔
پاکستان نے بھی نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی ممبرشپ کے حصول کے لیے اپنے دوست ممالک اور مغربی ممالک سے رابطہ کیا جہاں سے پاکستان کو تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔ پاکستان نے جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ کو قائل کرلیا جب کہ سب سے اہم بات یہ کہ پہلی مرتبہ روس نے اپنا وزن پاکستان کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کے علاوہ نیوزی لینڈ، آسٹریا، ترکی اور جنوبی افریقا نے بھی بھارت کی ایس این جی میں شمولیت کی مخالفت کی اور اجلاس میں میکسکو نے بھارت کی تائید و حمایت کی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ضروریات میں جوہری ری ایکٹروں سے توانائی کے حصول میں اضافہ ہوگا جوکہ ایک بہت بڑی ابھرتی ہوئی منڈی ہے اوراسی سلسلے میں پاکستان اور بھارت اس گروپ کا حصہ بن کراس تجارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ این ایس جی یعنی نیوکلئیرسپلائیرز گروپ ایک ایسا گروپ ہے جو ایٹمی اور جوہری مواد کی قانونی خرید و فروخت کا مجاز ہے جس کا قیام 1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کرنے کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates