چیرمین نیپرا کا کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کا نوٹس، صارفین کیلیے بجلی 16 پیسے فی یونٹ سستی

این ٹی ڈی سی نے کے الیکٹرک کو معاہدہ ختم ہونے کے بعد موجودہ ریٹ پر 650 میگاواٹ بجلی دینے سے انکار کردیا۔ فوٹو؛ فائل
 کراچی: نیشنل الیكٹرك پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے كے الیكٹرك صارفین كے لیے بجلی 16 پیسے فی یونٹ سستی كردی جب کہ چیرمین نیپرا نے شہر میں طویل لوڈ شیڈنگ کا بھی نوٹس لے لیا۔
چیرمین نیپرا نے كراچی میں بجلی كی طویل لوڈشیڈنگ سے متعلق عوامی شكایات كا نوٹس لے لیتے ہوئے ٹیكنیكل ٹیم كو شہر كا دورہ كرنے كی ہدایت كر دی ہے۔ چیرمین نیپرا كے مطابق تكنیكی ماہرین كی ٹیم لوڈشیڈنگ كی صورتحال كا معائنہ كرے گی۔
ادھر نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ كمپنی (این ٹی ڈی سی) نے بجلی خریداری كا معاہدہ ختم ہونے پركے الیكٹرك كو موجودہ ریٹ پر650 میگاواٹ بجلی فراہم كرنے سے انكار كردیا ہے۔
این ٹی ڈی سی حکام کا کہنا ہے کہ كراچی میں  لوڈشیڈنگ 2017 میں نہیں 2020 میں ختم ہو گی، كے الیكٹرك كے ساتھ بجلی خریداری كا معاہدہ ختم  ہو چكا ہے اس لیے کمپنی کو سستے ریٹ پر 650 میگاواٹ كی فراہمی ممكن نہیں ہے۔
این  ٹی ڈی سی حكام كے مطابق حكومت یا نیپرا كہے تو كے الیكٹرك كو بجلی كی فراہمی فوری طور پر بند كردیں گے کیونکہ اس وقت مہنگے ترین پلانٹس چلا كركے الیكٹرك كو سستی بجلی دے رہے ہیں جب کہ معاہدے كے مطابق كے الیكٹرك نے 5 سال میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ كرنا تھا۔

مودی کے خطابات میں تاریخی غلطیاں، سوشل میڈیا پر خوب تنقید

2013 میں مودی نے پاکستانی شہر ٹیکسلا کو بھارتی ریاست بہار کا حصہ بتایا تھا فوٹو؛فائل
واشنگٹن:  بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکا کے حالیہ دورے کے دوران اڑیسہ کے شہر کونارک کے700سال پرانے سوریہ مندر کو2 ہزار سال پرانا کہہ ڈالا جس کے بعد سوشل میڈیا پر مودی کا خوب مذاق اڑایا گیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے حالیہ دورے میں انھوں نے اڑیسہ کے شہر کونارک کے 700 سال پرانے سوریہ مندر کو2 ہزار سال پرانا کہہ ڈالا جس کے بعد سوشل میڈیا پر مودی کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ 2013 میں مودی نے پاکستانی شہر ٹیکسلا کو بھارتی ریاست بہار کا حصہ بتایا تھا۔ 2014 میں مودی نے 1885 میں قائم ہونے والی کانگریس پارٹی پر الزام لگایا تھا کہ اس نے 1857 میں جنگِ آزادی کو نظرانداز کر دیا تھا۔ 2003 میں مودی نے تقسیم کے وقت ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر بتائی تھی جو کہ سراسر غلط ہے۔ یو پی اے حکومت کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی یہ بھول گئے تھے کہ اس وقت ایک روپے کی قیمت 30 سینٹ کے برابر تھی اور اس وقت ایک روپیہ ایک پاؤنڈ کے برابر تھا۔ احمد آباد میں اکتوبر2003  میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ احمد آباد میونسپل میں خواتین کے ریزرویشن کی تجویز سردار ولبھ بھائی پٹیل نے1919 میں پیش کی تھی۔
طویل مدت تک ریاست گجرات کے وزیراعلی رہنے والے نریندر مودی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ولبھ بھائی پٹیل نے یہ تجویز1926 میں دی تھی۔ نومبر 2003 میں بنگلور میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ 15 اگست کو ملک کا وزیر اعظم لال قلعے کے دروازے سے قوم سے خطاب کرتا ہے۔ سبھی کو معلوم ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر بھارت کا وزیراعظم لال قلعے کی فصیل پر کھڑا ہو کر خطاب کرتا ہے نہ کہ دروازے پر، یکم نومبر 2003 کو مودی نے مہاتما گاندھی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھیں موہن لال داس کرم چند گاندھی کہہ دیا تھا جب کہ مہاتما گاندھی کا مکمل نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔ پٹنہ میں ایک ریلی کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ سکندراعظم کی فوج نے پوری دنیا فتح کر لی تھی لیکن جب انھوں نے بہاریوں سے پنگا لیا تو ان کا کیا حشر ہوا۔ تاریخ گواہ ہے سکندراعظم کی فوج نے کبھی دریائے گنگا کو عبور ہی نہیں کیا۔

افطارکے فوری بعد سگریٹ نوشی سے امراض قلب کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے، ماہرین طب

افطارکے فوری بعد سگریٹ پینے والےافراد میں جسمانی جھٹکوں،ہاتھ اور پاؤں میں کپکپاہٹ بڑھنےکا خدشہ بڑھ جاتا ہے،ڈاکٹرقولان. فوٹو:فائل
استنبول: ترکی میں گیرسن یونی ورسٹی کے میڈیکل کالج میں شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر قاغان قولان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں افطار کے فوری بعد سگریٹ نوشی کرنے سے امراض قلب کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر قولان کے مطابق رمضان المبارک کے دوران افطار کے فوری بعد سگریٹ پینے والے افراد میں جسمانی جھٹکوں، ہاتھ اور پاؤں میں کپکپاہٹ بڑھنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے کیوں کہ طویل وقفے کے بعد سگریٹ پینے سے جسم کا تمام مدافعتی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے جب کہ ایسے افراد کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کے خطرات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے تاہم افطار کے تھوڑے وقفے سے سگریٹ پینے پرایسا نہیں ہوتا۔
ڈاکٹرقولان کا کہنا ہے کہ رمضان میں سگریٹ نوشی سے خون کی شریانوں کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جو باقی سال بھر پہنچنے والے نقصان سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جب کہ طبی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں دل کے امراض کے سبب اموات میں اضافہ ہوجاتا ہے اوراسی سلسلے میں سگریٹ نوشی بھی اچانک موت کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک کے مہینے سے فائدہ اٹھا کر سگریٹ نوشی ترک کی جاسکتی ہے، اگر جسم کو 12 سے 16 گھنٹے تک تمباکو نوشی سے دور رکھا جاسکتا ہے تو یہ عمل سال بھر بھی ہوسکتا ہے اس لئے رمضان المبارک کے دوران اگر تمباکو نوشی سے اجتناب کیا جائے تو اس سے مکمل جھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

گلگت میں قدرتی عجوبہ جہاں دو ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں

گلگت میں وہ اہم مقام جہاں دو ارضیاتی پلیٹیں باہم ملتی ہے اور ایک ارضیاتی عجوبہ بناتی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
گلگت:  پاکستان میں ایک حیرت انگیز ارضیاتی مقام ایسا بھی ہے جہاں دو انڈین اور یوریشیئن نامی دو پلیٹیں باہم ملتی ہیں اور ان کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے عظیم پہاڑی سلسلے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
گلگت سے 70 کلومیٹر دور چلت وادی میں ایک علاقہ ’بدرو کھا‘ ہے جہاں ایک علامتی بورڈ پر تحریر ہے Collision Point of Continental Plates جس کا مطلب ہے کہ یہاں دو اہم ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں جو یوریشیائی اور انڈین پلیٹیں کہلاتی ہیں اور اس مقام سے 40 کلومیٹر دور دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے ایک ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں جو قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش ( کے ایچ کے) سلسلے کہلاتے ہیں۔
اب سے 55 ملین ( ساڑھے پانچ کروڑ) سال قبل انڈین اور یوریشیائی پلیٹ کے تصادم سے ہمالیہ کا عظیم پہاڑی سلسلہ بننا شروع ہوا تھا جو آج بھی بلند ہورہا ہے۔ انڈین پلیٹ اندر دھنس رہی ہے اور ہمالیائی پہاڑی سلسلہ ہرسال ایک سینٹی میٹر بلند ہورہا ہے۔ دنیا میں بہت کم مقامات ایسے ہیں جہاں ارضیاتی پلیٹوں کا سنگم دیکھا جاسکتا ہے لیکن بدرو کھا کا یہ مقام نہ ہی کوئی آرام کی جگہ ہے اور نہ ہی یہاں کوئی معلوماتی مرکز ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اس مقام کو دیکھے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ جب یہاں غیرملکی سیاح آتے ہیں تو بورڈ پڑھ کر اس نایاب اور عجیب شاہکار کو دیکھ کر حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
ایک مقامی رہائشی مجاہد شاہ کے مطابق اس جگہ کو ایک پکنک مقام بنایا جاسکتا ہے۔ ایک اور مقامی شخص منور حسین کے مطابق یہاں سے قدیم شاہراہِ ریشم کا ایک راستہ بھی جڑا ہے جو بلاشبہ ایک خزانہ ہے۔ اگرچہ مقامی افراد اس راستے کو استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی سیاح ادھر نہیں جاتا لیکن یہ علاقہ دیومالائی کہانیوں سے بھی بھرا ہوا ہے۔ ماہرِ بشریات الطاف حسین کہتے ہیں کہ یہ مقام تین دنیاؤں کا سنگم ہے۔ اوپر کا جہاں، انسانی جہاں اور پاتال کی دنیا۔ اوپری جہاں میں روحیں رہتی ہیں، انسانی جہاں میں فانی لوگ بستے ہیں اور نیچے کی دنیا میں مردہ افراد کی روحیں رہتی ہیں۔
بدرکھا عین وہی جگہ ہے جہاں مقامی افراد روحوں کو خوش کرنےکے لیے جانوروں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ جب شادی کے بعد دلہا اور دلہن یہاں سے گزرتے ہیں تو ان کی راہ میں جانور قربان کئے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہماری زمین خشکی کے کئی ٹکڑوں سے بنی ہے جسے ارضیاتی پلیٹس کہا جاتا ہے اور پاکستان میں اس مقام پر اور گوادر کے قریب سمندر میں ارضیاتی پلیٹیں باہم ملتی ہیں۔

کراچی کے شہریوں کو بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیا جانے لگا، اموات کا خدشہ

نگلیریاکاجرثومہ گرمی میں تیزی سے نشوونماپاتاہے،پانی میں کلورین شامل کی جائے،ڈائریکٹرہیلتھ کاواٹربورڈکومکتوب فوٹو: فائل
 کراچی:  شہریوں کو بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیاجارہاہے جس کے باعث نگلیریاسے اموات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے ماہرین پر مشتمل انسداد نگلیریاکمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ جس میں مختلف ماہرین شامل ہوتے اورکراچی کے مختلف علاقوں میں جاکرپانی کے نمونوں حاصل کرکے کلورین کی مقدار بتاتے ہیں جس کی رپورٹ محکمہ صحت اورمتعلقہ حکام کوارسال کی جاتی ہے جس کی روشنی میں اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم امسال پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارکوچیک کرنے کے لیے کمیٹی ہی تشکیل نہیں دی جاسکی جس کے باعث نگلیریا سے اموات کا خدشہ پیدا ہوگیاہے۔ واضح رہے کہ ان دنوںشہرقائدمیں شدیدگرمی پڑرہی ہے جس میں نگلیریا کا جرثومہ نشوونماپاتاہے، گزشتہ سال نگلیریا نے 14 افراد کی جان لے لی تھی۔
ادھر کراچی کے ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر عبدالشکور عباسی نے واٹر بورڈ حکام کومکتوب لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے عوام کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ کراچی کاموسم گرم ہونے اور 36ڈگری سینٹی گریڈ ہونے پراس بات کے قومی امکانات ہوگئے کہ پانی میں نگلیریاکا جرثومہ تیزی سے اپنی نشوونما کرتاہے ، پانی میں کلورین کی مقدار کو شامل کرنا واٹربورڈ حکام کی ذمے داری ہوتی ہے تاہم مقدارکو چیک کرنا محکمہ صحت کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے ،ماہرین طب کاکہناہے کہ نگلیریاکاموسم مئی سے شروع ہوتاہے جو اگست تک جاری رہتاہے۔

آئی فون پر اینڈروئیڈ چلانے والا حیرت انگیز کور تیار

ڈیولپر نے آئی فون 6 پر اس کور کے ذریعے اینڈروئیڈ چلانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ فوٹو دی ورج
نیویارک سٹی: امریکا سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی ڈیویلپر نے ایک ایسا کور تیار کیا ہے جس کی مدد سے آئی فون پر اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس حیرت انگیز کور کو تیار کرنے کے لیے ڈیولپر نے سب سے پہلے اینڈروئیڈ مارش میلو کا ایک خاص ورژن تیار کیا اور اسے خصوصی طور پر تیار کردہ سرکٹ بورڈ میں منتقل کیا۔ اس بورڈ کو بیٹری، بوسٹ کنٹورٹر اور ریزیسٹر سمیت ایک تھری ڈی تکنیک سے تیار کردہ کور میں نصب کرنے کے بعد ایک عام دکھائی دینا والا کور تیار کیا۔ لیکن یہ کوئی عام کور نہیں تھا بلکہ اس سے جڑی تار کو آئی فون میں لگانے کے بعد آئی فون پر اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم چل جاتا ہے۔
ڈیولپرنے آئی فون 6 پراس کور کے ذریعے اینڈروئیڈ چلانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہی نہیں اس کور کے ذریعے آئی فون میں اضافی خوبیاں بھی شامل کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً اس میں یو ایس بی اور ایچ ڈی ایم آئی پورٹس کے علاوہ ایس ڈی کارڈ سلاٹ بھی موجود ہے۔
ڈیولپر ایپل کے لیے پہلے بھی کئی کامیاب ایپلی کیشن بنا چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ ایپل واچ پر ونڈوز95 چلا کر بھی دنیا کو حیران کر چکے ہیں۔

گلوکارہ حمیرا ارشد نے ایک بار پھرعدالت میں خلع کی درخواست دائرکردی

روزکے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکارہوں اورشوہرکے ساتھ رہنا اب محال ہوگیا، گلوکارہ۔ فوٹو:فائل
لاہور: گلوکارہ حمیرا ارشد نے اپنے شوہر اداکار احمد بٹ سے خلع کے لئے ایک بار پھر فیملی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گلوکارہ حمیرا ارشد نے فیملی کورٹ میں اداکار احمد بٹ سے خلع کی درخواست دائر کردی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوہراحمد بٹ کے ساتھ اب ان کے معاملات مزید خراب ہوچکے ہیں، بارہا منت سماجت کے باوجود شوہر لڑائی جھگڑے سے باز نہیں آتے، پہلے بھی بچے کی خاطر تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر تعلقات بہتربنانے اور ظلم سہہ کر بھی زندگی گزارنے کی کوشش کی لیکن اب روز روز کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے شوہرکے ساتھ رہنا محال ہوگیا ہے اوران جھگڑوں کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکی ہیں۔
گلوکارہ کا کہنا تھا کہ میں علیحدگی کے حصول کے لئے اپنا حق مہر بھی چھوڑنے کے لئے تیارہوں،عدالت احمد بٹ سے طلاق کی ڈگری جاری کرے۔ عدالت نے گلوکارہ حمیرا ارشد کی درخواست منظورکرتے ہوئے 10 مئی کو فریقین کو طلب کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ گلوکارہ حمیرا ارشد اور اداکاراحمد بٹ نے 2004 میں پسند کی شادی کی تھی جس کے بعد دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمات درج کرانے کے علاوہ پریس کانفرنس بھی کی تھی جب کہ گزشتہ برس مئی کے مہینے میں ہی گلوکارہ نے عدالت میں خلع کے لئے درخواست جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ شادی کے وقت 5 لاکھ روپے حق مہر مقرر ہوا تھا جو احمد بٹ نے ادا نہیں کیا تاہم اب بھی طلاق کے لئے اپنا حق مہر چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates