وی آئی پی کے دورے کے موقع پراسکول بند کرانےکی بدترین رسم کے خاتمے کا آغازخیبرپختونخوا سےکریں گے،چیرمین پی ٹی آئی۔ فوٹو:فائل
اسلام آباد: پاکستان تحریک
انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ تعلیم و تربیت کو سیاست کی بھینٹ
چڑھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،سیاست کے لئے طلبا کو تعلیم سے محروم
کرنے کا کلچر ختم کرنے کی ضرورت ہے.
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ
ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم کی بنوں آمد کے موقع پر تعلیمی اداروں کی
بندش پرشدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم و تربیت کو سیاست کی
بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی
آفتاب احمد کے انتقال کی تحقیقات کرائی جائیں اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، خواجہ اظہارالحسن : فوٹو : فائل
کراچی: انسداد دہشت گردی کی
عدالت کی جانب سے گزشتہ روز رینجرز کی تحویل میں دیئے گئے متحدہ قومی
موومنٹ کے کارکن اور فاروق ستار کے کوآرڈینیٹر آفتاب احمد انتقال کرگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق رینجرز نے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سے
گزشتہ روز ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کا 90 روزہ ریمانڈ حاصل کیا
تھا جو دوران علاج جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔ اسسٹنٹ پولیس سرجن
ڈاکٹرکلیم شیخ کا کہنا ہے کہ آفتاب احمد کو آج صبح 7 بجکر 55 منٹ پر جناح
اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 8 بجکر 20 منٹ پر دم توڑ گئے جب کہ جناح
اسپتال کی جوائنٹ ایگزیگٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ جس وقت
آفتاب احمد کا اسپتال لایا گیا اس وقت ان کا بلڈ پریشر لوتھا اور ان کے
دل کی دھڑکن بھی نارمل نہیں تھی جنہیں ڈاکٹروں نے تمام طبی سہولیات فراہم
کیں لیکن وہ دوران علاج چل بسے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے آفتاب احمد کی ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل قرار
دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ایم کیوایم کے 50 سے
زائد ذمہ داران وکارکنان ماورائے عدالت قتل کیے جا چکے ہیں جب کہ 42 سالہ
آفتاب احمد 2002ء سے ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے فرائض
انجام دے رہے تھے جنہیں رینجرز نے یکم مئی کو سہ پہر ان کی رہائش گاہ سے
گرفتارکیا اور گزشتہ روز عدالت نے انہیں 90 روزکے ریمانڈ پر رینجرز کی
تحویل میں دیا تھا جنہیں علی الصبح انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال
لایاگیا جہاں وہ جانبرنہ ہوسکے۔ ترجمان ایم کیو ایم کت مطابق خدشہ ہے کہ
آفتاب احمد کو حراست کے دوران تفتیش کے بہانے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا
گیا جس کے باعث وہ حراست کے دوران جاں بحق ہوگئے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے آفتاب احمد کی
موت کی تحقیقات کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے
سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آفتاب احمد کی
ہلاکت سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح کا واقعہ ہے کراچی کے امن کے دوران
پراسراراموات امن کے لئے خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کو اس
بات کا علم ہی نہیں کہ صوبے میں کیا کچھ ہورہا ہے جب کہ سندھ میں اپوزیشن
جماعتیں بھی عوام کی بات نہیں کرتیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آفتاب احمد کے
انتقال کی تحقیقات کرائی جائیں اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
واضح رہے کہ 40 سالہ آفتاب احمد کو رینجرز نے گزشتہ روز ایف بی ایریا سے
مختلف جرائم میں ملوث ہونے پر حراست میں لیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی
عدالت سے 90 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا۔
اٹلی میں سیاحت کے فروغ اور چینی
باشندوں کو تحفظ کا احساس دلانے کے پیش نظر وہاں کے معروف شہر روم اور
میلان میں اطالوی پولیس کے ساتھ چار چینی پولیس اہلکار بھی گشت کریں گے۔
یہ گشت دو ہفتے کے ایک تجرباتی مشق کا حصہ ہے۔
اٹلی
کے وزیر داخلہ اینجیلینو الفانو نے بتایا کہ ان افسروں کو اٹلی میں سیاحت
کے سب سے سرگرم موسم کے لیے تعینات کیا گيا ہے تاکہ چینی سیاح وہاں خود کو
محفوظ محسوس کر سکیں۔
خیال رہے کہ یہ چینی پولیس اہلکار اطالوی بولتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا: ’اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو ہم اسے دوسرے شہروں میں بھی آزمائیں گے۔
ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ چینی باشندے سالانہ اٹلی کا سفر کرتے ہیں۔
مسٹر
الفانو نے کہا جلد ہی اطالوی پولیس اہلکار بھی چین کے شہر بیجنگ اور
شنگھائی کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی پولیس اہلکاروں کے ساتھ گشت کریں گے۔
اٹلی میں تعینات کیے جانے والے چینی پولیس افسروں نے اٹلی آنے سے قبل بیجنگ میں اطالوی حکام کے ساتھ تربیت حاصل کی تھی۔
وزیراعظم کو جیل بھیجنے والوں کو کہیں اور نہیں سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی، سربراہ جے یو آئی (ف). فوٹو:فائل
بنوں: جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا
فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ چوہوں سے ڈرنے والے پنجاب کے شیروں پر ہاتھ
ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیراعظم کو جیل بھیجنے والوں کو کہیں اور نہیں
سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی۔
بنوں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا
کہ وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے والے خود چوہوں سے ڈرتے ہیں اوروہ پنجاب کے
شیروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، آف شور کمپنیاں توعمران خان کی بھی
ہیں اگر احتساب ہوا تو پھر سب کا ہوگا اور اگر وزیر اعظم نے استعفیٰ دیا
تو وہ اپنے گھر یا جیل جائیں گے لیکن عمران خان کو پورے ملک میں کہیں بھی
جگہ نہیں ملے گی انہیں اپنے سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی۔ انہوں نے
کہا کہ خیبرپختون خوا میں مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والے ہی صوبے کی ترقی کی
راہ میں رکاوٹ ہیں اور صوبے کو تاریکیوں کی جانب دھکیل رہے ہیں، ایسے
لوگ ترقی کے نام سے نابلد ہیں لیکن مسند اقتدار پر ہونے کے باعث ان کی ذمہ
داری بنتی ہے کہ وہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب انتخابات ہوئے تو ایک ذمہ دار وفد نے
مجھے کہا کہ پختونوں میں تہذیب کی جڑیں بہت گہری ہیں اوران کو اکھاڑنے کے
لئےعمران خان سے بہتر شخص کوئی اور نہیں مل سکتا، عمران خان کے جلسوں میں
اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے اور پختونوں کی عزت کے ساتھ کھیلا جارہا
ہے جب کہ خیبر پختونخوا کی ذمہ داری جن کے سپرد کی تھی انہوں نے صوبے کو
دوبارہ جہالت کی تاریکیوں کی طرف دھکیل دیا اور غریبوں کے پیسے کو برباد
کردیا ہے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے
کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، میں ان سے
کہتا ہوں کہ نشے میں دھت اور سوئے ہوئے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا،
ہمیں وزیراعظم پرمکمل اعتماد ہے ان کے پسماندہ علاقے میں آنے سے ترقی کا
آغاز ہوگیا ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔
بین الاقوامی مذہبی آزادی پر نظر
رکھنے والے امریکی کمیشن يو ایس سی آئی آر ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق سنہ
2015 میں انڈیا میں عدم برداشت اور مذہبی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی کے
معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس رپورٹ کی اہم باتیں درج ذیل ہیں:
٭ اقلیتوں کو اکثریتی ہندو تنظیموں کے ہاتھوں دھمکی، ہراساں کیے جانے اور تشدد کے بڑھتے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
٭
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ان تنظیموں کی خاموش حمایت کرتے ہیں
اور ماحول کو زیادہ خراب کرنے کے لیے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی زبان
استعمال کرتے ہیں۔
٭ پولیس کے متعصب رویے اور عدالت سے بھی جلد انصاف نہ ملنے کی وجہ سے اقلیتی برادری کے لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
٭
گذشتہ سال مسلمانوں کو بڑھتے ظلم و ستم، تشدد اور اشتعال انگیز تقاریر کا
شکار ہونا پڑا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اور ساکشی مہاراج جیسے بی جے پی کے
ممبران پارلیمنٹ نے مسلمانوں کی آبادی کو روکنے کے لیے قانون بنانے کا
مطالبہ کیا ہے۔ Image copyrightAFPImage caption
رپورٹ کے مطابق مسلمان سمیت اقلیتی برادریوں میں خوف و ہراس دیکھا جا رہا ہے
فروری سنہ 2015 میں سنگھ پریوار کے ایک اجلاس کے
ویڈیوز میں بی جے پی کے کئی قومی لیڈر سٹیج پر بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس
اجلاس میں کئی لیڈر مسلمانوں کو ’شیطان‘ کہتے ہوئے اور انھیں برباد کرنے
کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
٭ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ سماجی دباؤ اور پولیس کے رویے کی وجہ سے اس طرح کے واقعات کی باضابطہ طور پر کم ہی شکایت کرتے ہیں۔
٭ ان کے مطابق پولیس شدت پسندی کے الزام میں مسلمان لڑکوں کو گرفتار کرتی ہے اور بغیر مقدمے کے سالوں تک انھیں جیل میں رکھتی ہے۔
٭
گائے ذبح کرنے پر پابندی کی وجہ سے مسلمانوں اور دلتوں کا اقتصادی نقصان
تو ہو ہی رہا ہے، اس کے علاوہ اس قانون کی مبینہ خلاف ورزی کا معاملہ بنا
کر مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے اور ہندوؤں کو تشدد کے لیے اکسایا جا
رہا ہے۔
٭ سنہ 2015 میں عیسائیوں پر تشدد کے 365 معاملے سامنے آئے
جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد 120 تھی۔ عیسائی کمیونٹی اس کے لیے ہندو
جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے جنھیں بی جے پی حکومت اور پارٹی کی حمایت
حاصل ہے۔ Image copyrightAPImage caption
رپورٹ میں پولیس کو متعصب بتایا گيا ہے
تبدیلیِ مذہب کے قانون کی وجہ سے مسلمانوں اور
عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دسمبرسنہ 2014 میں ہندو تنظیموں
نے گھر واپسی کے پروگرام کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ہزاروں مسلمانوں اور
عیسائیوں کو دوبارہ ہندو بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لیکن اس معاملے پر
اندرون و بیرونِ ملک ہنگاموں کے بعد آر ایس ایس نے اسے ملتوی کر دیا۔ سنہ
2015 میں بی جے پی کے صدر امت شاہ نے تبدیلیِ مذہب پر پابندی لگانے کے لیے
ملک بھر میں قانون بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
٭ اپریل سنہ 2015 میں
ہندوستان کی وزارت داخلہ نے تقریباً نو ہزار غیر سرکاری اداروں کا لائسنس
منسوخ کر دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اداروں نے فیرا (فارن ایکسچینچ
ریگولیٹری ایکٹ) قانون کی خلاف ورزی کی تھی جس کی وجہ سے ان پر کارروائی کی
گئی تھی لیکن ان اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے
کی وجہ سے انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
٭ وزارت داخلہ کے مطابق سنہ
2015 میں گذشتہ سال (2014) کے مقابلے میں فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں
17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مسلمانوں کا الزام ہے کہ مذہب کی بنیاد پر انھیں
تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن حکومت اسے دو دھڑوں کے درمیان تشدد کی
واردات بتاتی ہے۔
مارچ سنہ 2016 میں ہندوستان کی حکومت نے يو ایس سی آئی آر ایف کی ٹیم کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ Image copyrightReutersImage caption
شدت پسندی کے نام پر مسلم نوجوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے
يو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکومت کو کچھ تجاویز بھی دی ہیں ان میں مندرجہ اہم ہیں:
انڈیا کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات میں مذہبی آزادی کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے۔
انڈیا میں واقع امریکی سفارت خانے کی
توجہ ان امور کی جانب مرکوز کی جائے۔ سفارت خانے کے حکام کو اس طرح کے
واقعات کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوع کا دورہ کرنا چاہیے اور مذہبی
رہنماؤں، مقامی حکام سے ملاقات کرنی چاہیے۔
حکومت ہند پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ يو ایس سی آئی آر ایف کی ٹیم کو بھارت کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔
حکومت ہند سے کہنا چاہیے کہ وہ اپنی
پولیس اور عدالتی حکام کو انسانی حقوق کے معاملے کی اور تربیت دے، تبدیلیِ
مذہب قانون میں ترمیم کی جائے اور حکومت ان افسران اور رہنماؤں کو روکے جو
اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں۔
Image copyrightBBC World ServiceImage caption
انڈیا میں مسیحی برادری کے خلاف بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے
يو ایس سی آئی آر ایف امریکہ کا آزاد کمیشن ہے جس کا
کام دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے حقوق پر نظر رکھنا ہے۔ ان تجاویز پر عمل
کرنے کے لیے امریکی وزارت خارجہ پابند نہیں ہے۔
انڈیا میں مذہبی
آزادی کی بنیاد پر کمیشن نے اس سال بھی ہندوستان کو درجہ دوم میں رکھا ہے۔
اس زمرے میں بھارت کے ساتھ افغانستان، کیوبا، انڈونیشیا، آذربائیجان،
قزاقستان، لاؤس، ملائیشیا، روس اور ترکی شامل ہیں۔
اس کے ساتھ کمیشن
کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال بھی انڈیا پر سخت نظر رکھے گا تاکہ وہ فیصلہ کر
سکے کہ وہ بھارت کو سخت تشویش والے ممالک کی فہرست میں رکھنے کے لیے امریکی
وزارت خارجہ کو سفارشات دے یا نہیں۔
کمیشن نے پاکستان سمیت آٹھ ممالک کو اس زمرے میں رکھنے کی سفارش کی ہے۔
خطے میں اسلحہ کی دوڑ نہیں چاہتے لیکن بھارت کی وجہ سے مجبوری میں جواب دیتے ہیں، مشیر خارجہ۔ فوٹو:فائل
اسلام آباد: وزیراعظم کے
مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے کہا ہے
کہ امریکا کا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا جب کہ شکیل آفریدی امریکا
کے لئے ہیرو ہو سکتا ہے لیکن ہمارا ملزم ہے۔
مشیرخارجہ امورسرتاج عزیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرشکیل
آفریدی کی سزا کا فیصلہ عدالتی ہے اور یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس
لئے اس پر امریکا کا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا جب کہ شکیل آفریدی
امریکا کے لئے تو ہیرو ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کی نظر میں وہ ایک ملزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایف 16 پاکستان کو بیچنے کی منظوری دے چکا ہے مسئلہ
صرف فنانسنگ کا آ رہا ہے، کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم کے حوالے سے کچھ تکنیکی
مسائل ہیں، اس رقم سے ایف 16 نہیں خرید سکتے، متبادل رقم کا انتظام کرنا
پڑے گا جب کہ ایف 16 طیارہ خریدنے کا متبادل انتظام نہ ہوا تو کہیں اورسے
خرید سکتے ہیں، پاکستان اگراسلحہ نہ خریدے تو خطے میں عدم توازن شروع
ہوسکتا ہے، انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایف 16 طیاروں کی ضرورت ہے۔
سرتاج عزیزنے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ بھارت سے مذاکرات
کا عمل بحال ہونے کے خواہش مند ہیں، آئندہ چند ہفتوں میں پاک بھارت
مذاکرات کا امکان ہے، بھارت کی طرف سے جوہری آبدوز کا حصول اوراسلحہ کی
خریداری خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، خطے میں اسلحہ کی دوڑ نہیں چاہتے
لیکن بھارت کی وجہ سے مجبوری میں جواب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا
بھارت سول جوہری معاہدے پر تشویش ہے، پاکستان جنوبی اشیاء کو نیوکلیئر فری
کرنے کے حق میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر سے طالبان کے وفد کی پاکستان
آمد کی تصدیق کرتے ہیں جووضاحتی رابطہ ہے جب کہ افغانستان نے پاکستان کو
کسی قسم کی دھمکی نہیں دی بلکہ مایوسی کا اظہار کیا ہے۔