صحرائے سینا میں مصری فوج کی بمباری سے 24 افراد ہلاک، متعدد زخمی

مصری فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں الشیخ زوید کے جنوبی علاقے، رفح اور العکور میں کی گئیں۔ فوٹو : فائل
قاہرہ: مصری فوج نے صحرائے سینا میں جنگجو تنظیم کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی کرتے ہوئے 24 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ 
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصری فوج نے صحرائے سینا میں اپاچی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے شدت پسند تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے دوران 24 عسکریت پسند مارے گئے جب کہ کارروائی میں 30 سے زائد جنگجوؤں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
مصر کے سیکیورٹی حکام نے آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصری فوج نے الشیخ زوید کے جنوبی علاقے اور رفح میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں جہاں 20 جنگجو ہلاک ہوئے جب کہ العکور کے مقام پر فورسز کی جانب سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں 4 جنگجو سوار تھے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی  رپورٹ میں بتایا ہے کہ مصری فوج نے صحرائے سینا کے الشیخ زوید، رفح اور جنوبی العریش کے علاقوں  میں زمینی اور ہوائی کارروائی کر کے 38 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
واضح رہے کہ صحرائے سینا میں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے پولیس اور فوج پر حملوں میں شدت پیدا ہوئی ہے جب کہ مسلح گروہوں کے خلاف مصری سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی بدستور جاری ہیں۔

فلپائن کے باکسر پیکاؤ سیاست کے میدان میں

فلپائن کے مشہور باکسر مینی پیکیاؤ نے سیاسی کریئر شروع کرنے کی غرض سے باکسنگ کے رنگ کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔
وہ پہلے ہی فلپائن کی کانگریس کے رکن ہیں اور اب اگلے ہفتے سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
پیکیاؤ فلپائن میں بےحد مقبول ہیں۔ آئی ٹی ورکر رچرڈ مونٹیری کہتے ہیں: ’جب بھی مینی پیکیاؤ کا مقابلہ ہوتا ہے تو گلیاں ویران ہو جاتی ہیں اور جرائم کی شرح صفر ہو جاتی ہے کیونکہ پوری قوم ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اپنے کام کاج چھوڑ دیتی ہے۔‘
تاہم یہ سفر آسان نہیں ہو گا۔ باکسنگ کوچ ایڈیل کہتے ہیں: ’پیکیاؤ مین عالمی چیمپیئن ہیں، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ اسے (باکسنگ میں کامیابی کو) سیاسی میدان میں منتقل کر پائیں گے۔ یہ بہت پیچیدہ کام ہے۔‘
پیکیاؤ کے سیاسی عزائم بہت بلند ہیں اور انھوں نے ایک دن فلپائن کا صدر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے نازک مسائل سے کیسے نمٹ پائیں گے۔
ایک طالبِ علم لوئی کہتے ہیں: ’باکسنگ اور سیاست آپس میں نہیں ملتے۔ مینی پیکیاؤ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو کام وہ رنگ میں کرتے ہیں ملک کی قیادت اس سے مختلف چیز ہے۔‘
پیکیاؤ اپنی بات کسی لگی لپٹی کے بغیر کہتے ہیں۔ فروری میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم جنس پرست ’جانوروں سے بدتر ہیں‘ جس پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔

چین اپنی تجارتی پالیسیوں سے امریکا کا ’’معاشی ریپ‘‘ کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

چین کی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے امریکی کاروبار اور ملازموں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، امریکی صدارتی امیدوار، فوٹو؛ فائل
واشنگٹن: امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین اپنی تجارتی پالیسیوں کے ذریعے امریکا کا معاشی ریپ کررہا ہے تاہم ہم چین کو مسلسل اس کام کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکی ریاست انڈیانا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی تجارتی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی تجارتی پالیسیوں کے باعث مسلسل امریکا کا معاشی ریپ کررہا ہے تاہم ہم چین کو اس کام کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ اس کی وجہ سے امریکی کاروبار اور ملازموں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اس پالیسی کو بدلنے جارہے ہیں اور ہم بدل دیں گے کیونکہ ہم چین سے زیادہ طاقت ہے ور ہیں۔

آسٹریلیا: حراستی مرکز میں صومالی پناہ گزین کی خود سوزی

آسٹریلیا کے جزیرے نیورا کے حراستی مرکز میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والی پناہ گزین نے حالات سے تنگ آ کر خود سوزی کی کوشش کی جس کے بعد انھیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کے حراستی مرکز میں یہ واقع سوموار کو اُس وقت پیش آیا جب 21 سالہ صومالی پناہ گزین نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔
٭آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کے حراستی مرکز میں کشیدگیحکام کا کہنا ہے کہ جھلسی ہوئی صومالی خاتون کو علاج کے لیے آسٹریلیا منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اس سے قبل گذشتہ ہفتہ آسٹریلیا کے اسی حراستی مرکز میں ایرانی پناہ گزین نے احتجاجاً خود کو آگ لگا کر ہلاک کر لیا تھا۔ 23 سالہ ایرانی شہری کو شدید زخمی حالت میں برسبین کے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہیں ہو سکے۔
نیورا کی حکومت کا کہنا کہ پناہ گزین کی جانب سے یہ اقدام ’سیاسی احتجاج‘ ہے۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا آنے والے غیر قانونی پناہ گزینوں کو پکڑنے کے بعد انھیں بحرالکاہل کے مختلف جزیروں پر حراستی مراکز میں رکھتا ہے۔
گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاپا نیوگنی نے آسٹریلیا کے منو جزیرے پر واقع حراستی مرکز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس حراستی مرکز میں پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے آسٹریلیا آنے والے 850 مرد اور خواتین محصور ہیں اور ان تمام پناہ گزینوں کی قسمت کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔
حراستی مرکز کے بارے میں آسٹریلیا اور پاپا نیو گنی کے درمیان رواں ہفتے بات چیت ہو گی۔ لیکن آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے کئی بار کہا ہے کہ پاپا نیو گنی کے حراستی مرکز میں موجود پناہ گزین آسٹریلیا میں داخل نہیں ہو سکتے۔

پاکستان کو ایف 16 طیارے خریدنے ہیں تو پوری ادائیگی کرنا ہوگی، امریکی محکمہ خارجہ

بعض سینیٹرز طیاروں کی ادائیگی میں پاکستان کو دی جانے والی سبسڈی کے حامی نہیں، ترجمان. فوٹو:فائل
واشنگٹن: اوباما انتظامیہ نے واضح کردیا ہے کہ اگر پاکستان کو 8 ایف 16 طیارے خریدنے ہیں تو اس کی ادائیگی پاکستان کو ہی کرنا ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر انہیں ایف 16 طیارے خریدنے ہیں تو اس کی ادائیگی اسے ہی کرنا ہوگی جب کہ بعض سینیٹرز طیاروں کی ادائیگی میں پاکستان کو دی جانے والی سبسڈی کے حامی نہیں تاہم کانگریس نے طیاروں کی فروخت کی اجازت دے دی ہے جس کے لئے 70 کروڑ امریکی ڈالر پاکستان کو ادا کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ میں محکمہ خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین باب کارکر نے پاکستان کو طیاروں کی فروخت کی مخالفت کی جب کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کے معاملے پر بھارت کی جانب سے بھی شدید احتجاج سامنے آیا تھا اور بھارتی لابی نے ایک مرتبہ طیاروں کی ڈیل میں روڑے اٹکا دیئے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 فروری کو امریکی محکمہ خارجہ نے انسداد دہشت گردی کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے 8 ایف 16 طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں امریکا کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم امریکا کو ادا کرنا تھی۔

حلب میں جنگ بندی پر اتفاقِ رائے کے قریب ہیں: جان کیری

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ جنیوا میں موجود مندوبین شام میں جنگ بندی پر اتفاقِ رائے کے بہت قریب ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندؤں سے بات کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ شام کے شہر حلب میں پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کے لیے پیش کیے گئے منصوبے پر پیش رفت ہوئی ہے۔
جان کیری نے شام کی حکومت پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف وزی اور متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی میں روکاٹ ڈالنے کیا الزام بھی عائد کیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام میں جزوی جنگ بندی کے سلسلے میں نئی کوشش کرنے کے لیے جنیوا میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح حلب شہر میں خون خرابے کو روکنا ہے۔
گذشتہ دس دنوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب روس کے ایک فوجی اہلکار کے بقول حلب میں جنگ بندی کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ روس اپنے اتحادی شام کی حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالے کہ وہ حلب پر اپنی بلا امتیاز بمباری روکے۔لیکن روس اور شام کی حکومت کا مؤقف ہے کہ حلب میں بمباری کا نشانہ دہشت گرد گروپ نصرا فرنٹ ہے جو فروری میں ہونے والے جنگ بندی کا معاہدہ کا حصہ نہیں تھا۔
Image copyright
Image caption امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام میں جزوی جنگ بندی کے معاہدہ میں پیش رفت کے لیے جنیوا میں موجود ہیں
جنیوا پہنچنے پر جان کیری کا کہنا تھا ’ہم اب بھی روس سے براہ راست بات کر رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ یہ نازک وقت ہے ۔ ہمیں روس سے تعاون چاہیے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ شام کی حکومت روس کی سنیں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اقوام متحدہ کو دیے گئے بیان پر کوئی رد عمل دے۔‘
جان کیری کا اس بات پر زور تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ’ ملک بھر میں جنگی کارروائی کو روکنے اور ملک میں امدادی کاروائیوں تک رسائی کے لیے کہا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا ’لیکن ظاہرسی بات ہے کہ حقیقت میں یہ نہیں ہو رہا۔‘
لیفٹیننٹ جنرل سرجیے کورلینکو نے روس کے عسکری بیس حمیمم سے بات کرتے ہوئے روسی خبر رساں ادارے کو بتا یا کہ ’ حلب صوبے میں پرسکون حکومت‘ کے لیے ’متحرک بات چیت‘ جاری ہے ۔
روس کے وزارت دفاع کے اہلکار نے کوئی تفصیل نہیں بتائی لیکن یہ کہا کہ شام کے دارلحکومت میں ’پر سکون حکومت‘ میں گرینیج کے وقت کے مطابق سوموار 21:00 بجے توسیع کی جائے گی۔
اس بیان سے یہ واضح ہے کہ روس کا نظریہ تبدیل ہوا ہے۔
سنیچر کو ماسکو کا کہنا تھا کہ وہ شام کی فوج کی جانب سے جاری مہم کو روکنے پر مجبور نہیں کریں گے جو کہ امن کی ساری کوششوں کو ختم کر سکتی ہے۔
Image copyright Reuters
Image caption شام کے سب سے بڑے شہر میں شدید تباہی مچی ہے جس کے نتیجے میں مہینوں تک مقامی شہریوں کو پانی اور بجلی مہیا نہیں ہو سکی
گذشتہ چند ماہ میں صدر بشار الاسد کی حمایتی فوج اور اعتدال پسند باغیوں کے بیچ شام میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو گیا تھا خاص طور سے بٹے ہوئے اور محاصرہ کے شکار شہر حلب میں۔
شام کے سب سے بڑے شہر میں شدید تباہی مچی ہے جس کے نتیجے میں مہینوں تک مقامی شہریوں کو پانی اور بجلی مہیا نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق حلب میں اتوار کے دن باقی دنوں کی نسبت حکومتی فوج اور باغیوں کی جانب سے فضائی بمباری کے باوجود خاموشی رہی۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ امن مذاکرات کا نیا سلسلہ 10 مئی کو شروع ہو گا۔

وزیراعظم کی بنوں آمد پرتعلیمی اداروں کی بندش پرعمران خان برہم

وی آئی پی کے دورے کے موقع پراسکول بند کرانےکی بدترین رسم کے خاتمے کا آغازخیبرپختونخوا سےکریں گے،چیرمین پی ٹی آئی۔ فوٹو:فائل
 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ تعلیم و تربیت کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،سیاست کے لئے طلبا کو تعلیم سے محروم کرنے کا کلچر ختم کرنے کی ضرورت ہے.
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم کی بنوں آمد کے موقع پر تعلیمی اداروں کی بندش پرشدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم و تربیت کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates