پاناما لیکس کے معاملے پر خورشید شاہ کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس

قومی اسمبلی میں پاناما لیکس کے معاملے پراپوزیشن کی جانب سے متفقہ موقف اپنانے پر تبادلہ خیال۔ فوٹو:فائل
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیرصدارت پاناما لیکس کے معاملے پراپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی زیرصدارت حزب اختلاف کی جماعتوں کے اجلاس میں پاناما لیکس اور جوڈیشل کمیشن کے لئے اپوزیشن کے ٹی او آرز مسترد کئے جانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کی جانب سے اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاناما لیکس کے معاملے پر اپوزیشن کی جانب سے متفقہ موقف اختیارکیا جائے۔
اجلاس میں پیپلزپارٹی کے علاوہ، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق)، اے این پی، قومی وطن پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور بی این پی عوامی کے پارلیمانی رہنماوں نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں سینیٹراعتزاز احسن کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

پانامہ لیکس کا دوسرا بم پھٹ گیا، عمران خان کے فنانسر اور علیم خان بھی آف شور کمپنیوں کے مالک

آف شور کمپنیوں کے ذریعے 12 کھرب ڈالر سے زائد سرمایا بیرون ممالک منتقل کیا گیا، رپورٹ۔ فوٹو؛ فائل
پاناما: دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خفیہ اکاؤنٹس اور کمپنیوں سے متعلق دستاویزات شائع کر کے تہلکہ مچانے والی پاناما لیکس کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آ گیا ہے جس میں تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے فنانسر اور علیم خان سمیت سیکڑوں پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔
پاناما لیکس کی جانب سے جو نئی دستاویزات شائع کی گئی ہیں ان میں مزید 400 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، آئی سی آئی جے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آف شور کمپنیوں کے ذریعے 12 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ بیرون ممالک منتقل کیا گیا جس میں سے زیادہ ترسرمایہ ابھرتی ہوئی معیشت والے ممالک میں منتقل کیا گیا۔ بیرون ملک سرمایہ بھیجنے والے ممالک میں چین، روس، ملائشیا، تھائی لینڈ، انگولا اور نائیجیریا بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے فنانسر اور قریبی دوست ذوالفقار عباس بخاری عرف زلفی 6 آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جب کہ پی ٹی آئی رہنماعلیم خان کا نام بھی آف شور کمپنیاں بنانے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔
سابق وزیراعظم شوکت عزیزدور کے وزیر صحت نصیر خان کے بھائی ظفراللہ خان اور بیٹے محمد جبران کی بھی آف شورکمپنی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور سے تعلق رکھنے والے سیٹھ عابد کے بیٹے ساجد محمود ورجن آئی لینڈ میں کمپنی کے مالک نکلے، سیٹھ عابد کے خاندان کی 30 آف شورکمپنیاں منظرعام پر آئی ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے دوست عرفان اقبال بھی 3 آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق ایم ڈی عبدالستار ڈیروکی بھی غیرملکی کمپنیاں ہیں، کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدرشوکت احمد کے نام کمپنی رجسٹرڈ، بیٹا اور بہو شیئر ہولڈرز میں شامل ہیں۔ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کی والدہ صباعبید بھی 3 غیر ملکی کمپنیاں رکھتی ہیں۔
ایڈمرل ریٹائرڈ مظفرحسین کے صاحبزادے اظہرحسین بھی ایک غیرملکی کمپنی میں شیئر ہولڈرہیں، پیپلزپارٹی کی سابق سینیٹر رخسانہ زبیری نے بھی غیرملکی کمپنی میں سرمایہ کاری کی جب کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے کزن طارق اسلام بھی آف شور کمپنی رکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیٹر رخسانہ ذبیری نے آف شور کمپنی میں اپنا نام شامل کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں، تمام اثاثے اپنی رقم سے خریدے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاناما لیکس نے اپنے پہلے ایڈیشن میں آف شور کمپنیاں یا پھر خفیہ اکاؤنٹس رکھنے والے 250 پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 10 لاکھ سے زائد شخصیات کے نام شائع کئے تھے، پانامالیکس کی پہلی قسط میں وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادوں کے نام سامنے آنے پر وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کے ٹی او آرز کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا تھا جب کہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

پشاور میں تحریک انصاف کے جلسے میں آئی خاتون ماڈل کو کھلاڑیوں نے گھیرلیا

جلسہ گاہ میں لڑکی کو بھیج کر مخالفین نے ہمارے خلاف حربہ آزمانے کی کوشش کی،ترجمان تحریک انصاف
پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کے  جلسے میں شرکت کرنے کے لئے آنے والی خاتون ماڈل عینی کوکھلاڑیوں نے گھیرلیا ۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور کی مقامی ماڈل پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کے لئے جلسہ گاہ پہنچیں تو کھلاڑیوں کی بڑی تعداد نے ان کا گھیراؤ کرلیا تاہم ماڈل بھی اس دوران ان کے ساتھ سیلفی بنانے میں لگی رہیں جس کے بعد جب کھلاڑی تھوڑے بے قابو ہوئے تو تحریک انصاف کے رضاکاروں او مقامی پولیس نے ماڈل کو ان کے چنگل سے باہر نکال کر گاڑی میں بٹھادیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر عینی خان کا ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں ڈرنے والی نہیں بہت بہادر لڑکی ہوں، جلسے میں عمران خان کو شادی کی پیش کش کرنے کے لئے آئی تھی لیکن تحریک انصاف کے کارکنوں نے جو رویہ اختیار کیا اس پر انتہائی افسوس ہوا۔ واقعے کے بعد ماڈل عینی خان انتظامیہ سے کارروائی  کا مطالبہ کرتے ہوئے جلسہ گاہ چھوڑ کر چلی گئیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا کہنا تھا کہ لڑکی کو ہمارے مخالفین نے جلسے میں بھیجا اوراس کا تعلق بھی پشاور سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسہ گاہ میں لڑکی کو بھیج کر مخالفین نے ہمارے خلاف حربہ آزمانے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ یکم مئی کو لاہور میں ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے جب کہ اس سے قبل اسلام آباد میں تحریک انصاف کے یوم تاسیس کے موقع پر بھی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی  جس پر چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی معافی مانگی تھی۔

پولیس اہلکار کو تھپڑمارنے والا سابق چیرمین سینیٹ نیئرحسین بخاری کا بیٹا نکلا

سابق چیرمین سینیٹ ہونےکےباعث نیئر بخاری کوفوری حراست میں نہیں لیاجاسکتا تاہم دوسرےشخص کو ضرور گرفتار کیا جائیگا، پولیس، فوٹو؛ فائل
 اسلام آباد: سابق چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری اور پولیس اہلکار کا معاملہ نیا رخ اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت اہلکار کو تھپڑ مارنے والا نیئر بخاری کا بیٹا نکلا جسے وہ اپنا محافظ بتاتے رہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری ایف ایٹ کچہری پہنچے تو اسلام آباد میں شدید سیکیورٹی خدشات کے باعث عدالت کے مرکزی دروازے پر کھڑے ہیڈ کانسٹیبل ریاض نے انہیں تلاشی دینے کا کہا جس پر نیئر  بخاری غصے میں آ گئے اور اسے دھکے دیئے جب کہ اسی دوران ان کے ساتھ کھڑے شخص نے بغیر سوچے سمجھے پولیس اہلکار کو تھپڑ رسید کردیا اور سنگین نتائج کی بھی دھمکیاں دیں۔
نیئر بخاری اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ کلامی کے واقعہ اس وقت ایک نیا رخ اختیار کرگیا جب اہلکار کو تھپڑ مارنے والا نیئر بخاری کا بیٹا نکلا۔ نمائندہ ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے شخص کو نیئر بخاری اپنا محافظ بتاتے رہے لیکن وہ ان کا بیٹا اجرار بخاری ہے۔ ایکسپریس نیوز کی جانب سے واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو چلائے جانے کے بعد اہلکار کو تھپڑ مارنے والے شخص کی نشاندہی ہوئی جس پر نیئر بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تھپڑ مارنے والے شخص سے متعلق کسی بھی قسم کے سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
دوسری جانب واقعے کا مقدمہ دوپہر کو تھانہ مارگلہ میں متاثرہ پولیس اہلکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں تھپڑ مارنے والے شخص کو نیئر بخاری کا محافظ ظاہر کیا گیا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہےکہ اگر اہلکار کو تھپڑ مارنے والا نیئر بخاری کا بیٹا ہے تو اسے بھی مقدمے میں نامزد کیا جائے گا۔
ایس ایچ او تھانہ مارگلہ کے مطابق مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، حاضر سروس سرکاری اہلکار کو ڈیوٹی سے روکنا اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اس لئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہےکہ سابق چیئرمین سینیٹ ہونے کے باعث نیئر بخاری کی گرفتاری میں کچھ قانونی پیچیدگیاں ہیں جس کی بنا پر انہیں فوری طور پر حراست میں نہیں لیا جاسکتا تاہم مقدمے میں نامزد دوسرے شخص کو ضرور گرفتار کیا جائے جب کہ قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ  پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر 3 سال قید اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
ادھر آئی جی اسلام آباد طارق مسعود یاسین نے بھی پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کا نوٹس لیتے ہوئے نیئر حسین کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ہمارے جوان ہتھیلی پر جان رکھ کر ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ییں، اہلکاروں کے ساتھ اس قسم کی حرکت ناقابل برداشت ہے اور قانون کی پابندی سب پر فرض ہے، واقعہ کو مثال بنائیں گے۔
اس سے قبل ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سویلین کپڑوں میں ایک شخص نے مجھے چھونے کی کوشش کی جس پر سرکاری محافظ نے اسے دھکا دیا تاہم میں نے اسے تھپڑ نہیں مارا جب کہ میرے خلاف قائم کردہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ایف آئی آر دیکھنے کے بعد ہی آئندہ کی حکمت عملی طے کروں گا۔

حکومت نے اپوزیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کو بدنیتی قراردیتے ہوئے مسترد کردیا

اپوزیشن اپنوں کوبچانا اوروزیراعظم کوپھنسانا چاہتی ہےجبکہ وزیراعظم خود سمیت اپنےخاندان کوسپریم کورٹ کےسامنےپیش کرچکےہیں۔ فوٹو؛ پی آئی ڈی
 اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز پر اپوزیشن کے ساتھ باہمی اعتماد کی بنیاد پر ایک متفقہ رائے سپریم کورٹ کو دیں گے لیکن جب اپوزیشن کے ٹی او آرز کو پڑھا تو اس میں کوئی گنجائش نہیں نکلی کیوں کہ اپوزیشن اس مسئلے کو صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اسلام آباد میں پاناما لیکس پر اپوزیشن کے ٹی او آرز کے معاملے پر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کی تشہیر میں صرف وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کا نام شامل نہیں تھا بلکہ دنیا کے اہم ممالک کے حکمران، بزنس مین اور عام شہریوں کا ذکر تھا لیکن اس خبر کے بعد سب سے پہلے پاکستانی وزیراعظم نے فوری طور پر قوم سے مخاطب ہوکر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے وفاقی وزرا اس بات کے خلاف تھے کہ وزیراعظم قوم سے خطاب کریں کیوں کہ پاناما لیکس میں ان کا نام براہ راست شامل نہیں تھا جب کہ کمیشن بنانے سے پہلے بھی ہم نے کئی معزز ججز سے رابطہ کیا کیوں کہ ہم نیک نیتی سے اس کام کو سرانجام دینا چاہتے تھے لیکن اتنا شور مچایا گیا کہ تمام ججز نے اس مسئلے سے جڑنے پر معذرت کرلی۔

وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وقتاً فوقتاً اپنے مطالبے سے ہٹتی رہی پہلے اپوزیشن کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت اس پر بھی مان گئی لیکن پھر کہا گیا کہ حکومت چیف جسٹس کو خط لکھے، بالآخر حکومت اس پر بھی تیار ہوگئی لیکن اب انہوں نے ٹی او آرز میں مسئلہ نکال لیا، کچھ لوگ چاہتے ہیں یہ کیس میڈیا پر چلتا رہے اور اس پر کھیل تماشا ہوتا رہے جب کہ میڈیا پر روز الزامات لگتے رہے لیکن کیس منتقی انجام تک نہ پہنچے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کو شورشرابے کے نظر نہیں ہونا چاہیے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کچھ لوگ سپریم کورٹ کو تب مانتے ہیں جب ان کے مرضی کے فیصلے کیے جائیں لیکن معذرت کے ساتھ اسے جمہوریت نہیں ضدبازی کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  اپوزیشن کے ایک مخصوص گروپ کا ہدف کرپشن نہیں بلکہ ایک شخصیت کو کرسی سے ہٹانا ہے جو جلسے جلوسوں، پریس کانفرنس میں ان کو متنازعہ بنا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا حتمی مطالبہ ماننے کے بعد ٹی او آرز کا ڈرامہ رچایا گیا جس سے عام آدمی واقف بھی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے جب کہ سپریم کورٹ کے پاس لامحدود اختیارات ہیں اور حکومت اور وزیراعظم کی وجہ سے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں تو پھر اپوزیشن کو کس بات پر اعتراض ہے، کیا انہیں سپریم کورٹ اور قانون پر اعتماد نہیں ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ قوم کے سامنے سچ آنے دیں، لوگوں کو بے وقوف بنا کر سچ کے سامنے دیواریں کھڑی نہ کی جائیں اور نہ ہی سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کیا جائے جب کہ مجھے اس بات پر بہت افسوس ہوا کہ عمران خان نے اپنے جلسوں میں خواتین سے ہونے والی بدتمیزی کا الزام بھی حکومت اور پولیس پر لگادیا۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو پیشکش کرتا ہوں کہ اس واقعے پر ایک کمیٹی تشکیل دیں جس میں پی ٹی آئی، انتظامیہ اور میڈیا کے نمائندے شامل ہوں اور نادرا کے ذریعے ان لوگوں کی شناخت کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ خواتین سے بدتمیزی کی واقعات صرف تحریک انصاف کے جلسوں میں کیوں ہوتے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کرپشن اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ہم قوم کے سامنے سچ لے آئیں جب کہ وزیراعظم نے خود سمیت اپنے خاندان کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز پر اپوزیشن کے ساتھ باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہم ایک متفقہ رائے سپریم کورٹ کو دیں گے لیکن جب اپوزیشن کے ٹی او آرز کو پڑھا تو اس میں کوئی گنجائش نہیں نکلی۔

دوسری جانب وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ ہم نے ٹی او آرز میں کک بیگس لینے، کرپشن کرنے، ٹیکس نہ دینے، بیرون ملک غیر قانونی طریقے سے پیسے بھیجنے والے ان تمام افراد کو شامل کیا جس میں سیاستدان سے لے کر بزنس مین اور عام آدمی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آج اپوزیشن کے ٹی او آرز پر غور کیا لیکن اس میں تسلیم کرنے کے لیے کچھ نہیں اور اپوزیشن نے اپنے ٹی او آرز میں جو مندرجات شامل کیے ہیں اس سے ان کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے وزیراعظم کے احتساب کا مطالبہ کیا جب کہ آئی سی آئی جے اس بات کی تردید کرچکی ہے کہ اس معاملے میں وزیراعظم براہ راست ملوث نہیں بلکہ ان کے بچوں کی وجہ سے ان کا نام شامل کیا گیا۔

شیخوپورہ میں شب معراج کے موقع پردہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 8 دہشتگرد ہلاک

فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لئے آپریشن شروع کردیا گیا ہے، پولیس۔ فوٹو: فائل
شیخوپورہ: سیکیورٹی فورسز نے شب معراج کے موقع پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ 4 فرار ہو نے یں کامیاب ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی پولیس نے شیخوپورہ کے علاقے شرقپور میں کارروائی کر کے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جب کہ ان کے 4 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو  گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد شب معراج کے موقع پر مساجد میں دہشت گرد کارروائی کی تیاری کر رہے تھے، دہشت گردوں کے قبضے سے 6 کلو بارودی مواد، 5 ڈیٹونیٹرز، 4 کلاشنکوف، 4 پستول، گولیاں اور 4 موٹرسائیکلیں برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کاتعلق کالعدم تنظیم سے تھا جب کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لئے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates