ریٹائرڈکرکٹرزکی ماسٹرزلیگ کے منتظمین ایک بار پھر روڑے اٹکانے کی تیاری کرنے لگے فوٹو: فائل
لاہور: پاکستان نے اماراتی
کرکٹ بورڈ کو مزید امیر بنا دیا، پی ایس ایل کی میزبانی کے 35 لاکھ ڈالر
وصول کیے گئے، آئندہ سال فروری میں شیڈول اگلے ایونٹ کیلیے زیادہ کمائی
کی توقعات وابستہ کرلی گئیں، ریٹائرڈ کرکٹرز کی ماسٹرزلیگ کے منتظمین بھی
ایک بار پھر روڑے اٹکانے کی تیاری کرنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے پی سی بی اپنے
ایونٹس کی میزبانی یواے ای میں کرنے پر مجبور ہے،پاکستان کی اولین سپر لیگ
کا انعقاد بھی شارجہ اور دبئی کے میدانوں پر ہوا، ذرائع کا کہنا ہے کہ
اماراتی کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے مقابلے کرانے کیلیے 35 لاکھ ڈالر کی
رقم وصول کی، ایونٹ کا شیڈول ریٹائرڈ کرکٹرز کی ماسٹرز لیگ سے متصادم تھا،
دونوں کی میزبانی ممکن بنانے کیلیے ای سی بی نے کچھ ایسے فیصلے بھی کیے
جو پی سی بی حکام کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنا پڑے، ذرائع کے مطابق
اماراتی بورڈ آئندہ سال فروری میں شیڈول پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن
کیلیے35لاکھ ڈالر سے کہیں زیادہ کمائی کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ریٹائرڈ کرکٹرز کی ماسٹرزلیگ کے منتظمین بھی ایک بار پھر
روڑے اٹکانے کی تیاری کرنے لگے۔ ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ سے بات چیت میں پی سی
بی کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ایم سی ایل کی ناکامی کے باوجود نیا ڈرامہ کیا
جارہا ہے، اس بار ایک ایسا ایونٹ کرانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے جس میں
فرنچائزز ملکوں سے منسوب ہونگی،آرگنائرزر کا خیال ہے کہ شاید اس انداز میں
وہ شائقین کی توجہ حاصل کرپائیں گے،انھوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے
کہ یہ سب کچھ پی ایس ایل کے آس پاس ہی کیوں شیڈول کیا جا رہا ہے؟ آئی سی
سی کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، اس ضمن میں اپنے تحفظات کے اظہار کیلیے ہم
خط بھی لکھ چکے ہیں۔
کاکول میں ٹریننگ کا فائدہ ہوگا، محمد عامر کا ویزا آئی سی سی کا مسئلہ نہیں ہے فوٹو: فائل
لاہور: ظہیر عباس نے دورہ
انگلینڈ میں آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیندوں پر ہوشیار رہنے کا مشورہ دیدیا،
سابق ٹیسٹ کپتان کا کہنا ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں کھیلنا آسان نہیں،
پاکستانی کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیلیں تو بہتر نتائج سامنے آ
سکتے ہیں، مشکل ٹور میں فٹنس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق ایشین بریڈمین ظہیر عباس نے اپنے دور عروج میں انگلینڈ
کے خلاف رنز کے ڈھیر لگائے، اب پاکستانی ٹیم کو جولائی میں وہاں کا ٹور
کرنا ہے، لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے ٹور کے
حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ انگلش کنڈیشنز میں کھیلنا آسان نہیں
ہوتا لیکن وہاں رنز بنانے کیلیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے، میزبان
بولرز آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیندوں سے پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان
سے ہوشیار رہتے ہوئے کریز پر قیام کیا جائے تو رنز بنائے جا سکتے ہیں۔
سابق قومی کپتان نے کہا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مطابق
کھیلیں تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے، مشکل ٹور میں فٹنس کی اہمیت کو
نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کاکول میں ٹریننگ کا فائدہ ہوگا، کھلاڑی فٹ ہوئے
تو تینوں فارمیٹ میں عمدہ پرفارم کریں گے، ماحول سے ہم آہنگی کیلیے 2
ہفتے قبل انگلینڈ میں کیمپ لگانا پی سی بی کا اچھا فیصلہ ہے۔
اس اقدام سے کھلاڑی ذہنی اور جسمانی طور پر سخت چیلنجز کیلیے تیار
ہوجائیں گے۔ ظہیر عباس نے کہا کہ ڈسپلن کے بغیر کوئی ٹیم نہیں جیت
سکتی،کوئی بھی کھلاڑی ہو پی سی بی کو چاہیے کہ نظم و ضبط کو ترجیح دے، محمد
عامر کے ویزے میں معاونت کیلیے پی سی بی نے کونسل سے رابطہ نہیں کیا، یہ
ہمارا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ آئی سی سی کی صدارت ختم
کرنے کا فیصلہ تمام ارکان اور متعلقہ حکام کو اعتماد میں لے کر کیا گیا، یہ
سب کیلیے قابل قبول ہے جس پر میں بھی مطمئن ہوں۔
امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی
امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 1990 کی دہائی میں شائع ہونے
والے ایک آڈیو ٹیپ میں خود کو اپنا ترجمان ظاہر کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی
اخبار دی واشنگٹن ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 1991 کی ایک ایسی آڈیو
ٹیپ حاصل کی ہے جس کے مطابق فون پر ہونے والی گفتگو میں پی آر مینیجر خود
کو جان ملر بتا رہا ہے تاہم آواز سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح لگتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز ان کی نہیں ہے۔
ڈونلڈ
ٹرمپ کو ان کے کریئر کے آغاز میں باقاعدگی کے ساتھ کور کرنے والے صحافیوں
کا کہنا ہے کہ ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز باکل ڈونلڈ ٹرمپ جیسی ہے۔
ان
کا کہنا ہے کہ وہ ’ترجمان‘ جن کا نام جان ملر یا جان بیرن بتایا جا رہا
ہے، سے یہی سنتے تھے جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو کرنا چاہتے تھے۔
واضح
رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی جماعت کے ایک درجن سے زائد رپبلکن حریفوں کو
وائٹ ہاؤس کی دوڑ سے باہر کر دینے کے بعد ممکنہ رپبلکن امیدوار کے طور پر
دیکھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن ٹائمز کی خبر پر جمعے کو ٹو ڈے شو میں اپنا
ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ
بھی نہیں جانتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ آپ مجھے اس آڈیو ٹیپ
کے بارے میں پہلی بار بتا رہے ہیں اور اس میں سنائی دینے والی آواز میری
آواز سے بالکل بھی نہیں ملتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ میرے پاس ایسے متعدد افراد ہیں جو میری آواز کی نقل اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ اس کا تصور کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آڈیو ٹیپ میں سنائی دی جانے والی آواز انھی دھوکوں کی طرح ایک دھوکا ہے۔
پی سی بی سے تبادلہ خیال کیلیے تیار ہیں، میچزکاانعقادکرکے بہت خوش ہونگے، سیکرٹری سری لنکن کرکٹ بورڈ۔ فوٹو: فائل
کراچی: سری لنکا نے پاکستان کی مدد کیلیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے رواں برس ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کی میزبانی میں دلچسپی ظاہر کر دی۔
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیرملکی ٹیمیں پاکستان نہیں
آتیں، اس لیے ہوم سیریز کا انعقاد بھی نیوٹرل وینیوز پر کرنا پڑتا ہے، یو
اے ای میں اخراجات زیادہ ہونے کے سبب پی سی بی متبادل وینیوز کا سوچ رہا
ہے، اکتوبر میں ویسٹ انڈیز سے سیریز سری لنکا میں کرانے کی تجویز سامنے
آئی ہے۔
اس حوالے سے ویب سائٹ ’’اسکور لائن ایشیا‘‘ سے بات چیت میں سری لنکا
کرکٹ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا نے کہاکہ پاک، ویسٹ انڈیز سیریز کے انعقادکا
معاملہ ہماری حالیہ میٹنگ میں بھی زیر غور آچکا ہے، بورڈکے صدر نے اس کا
ذکر کیا لیکن وہ زیادہ تفصیلی نہیں تھا، ہم اس حوالے سے پاکستانی بورڈ حکام
کے ساتھ بات چیت کیلیے تیار ہیں، ہمیں سیریز کی میزبانی کر کے خوشی ہوگی۔
البتہ اس ضمن میں پہل پی سی بی کو ہی کرنا ہوگی، یاد رہے کہ سری لنکا
میں اکتوبر، نومبر میں مون سون کا دوسرا دورہوتا اورتیز بارشیں ہوتی ہیں،
صرف کولمبو میں اس ماہ میں اوسط 369 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوتی ہے، ایسے
میں سیریز کے میچز موسم سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ پی سی بی نے ویسٹ انڈیز
کو ایک نائٹ ٹیسٹ کھیلنے کی بھی تجویز دی ہے، اگر دونوں بورڈز میں معاملات
طے پا گئے تو سیریز کا ایک ٹیسٹ فلڈ لائٹس میں پنک گیند سے کھیلا جائے گا۔
انڈیا کی کرکٹ ٹیم
کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے انگلینڈ کے خلاف مسلسل تین سنچریاں بنا
کر دنیا کو بتا دیا تھا کہ وہ کتنے عظیم کھلاڑی ہیں۔اظہر جس طرح سے
کلائیوں کا استعمال کرتے تھے، ان میں ایک فنکاری تھی۔ انھوں نے ہر طرح کی
صورت حال میں رنز بنائے۔ وہ نزاکت سے کھیلتے ہوئے گیند کو باؤنڈری کے پار
بھیجتے تھے۔ ان کے شاٹس قابل دید ہوتے تھے۔
اظہر الدین کی بیٹنگ کا
تقابل اگر دنیا کے دوسرے بلے بازوں سے کیا جائے تو بہت سے لوگ کہیں گے کہ
ان کی بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے جو مزہ آتا تھا، وہ کسی دوسرے بلے باز کو
دیکھنے میں نہیں آتا تھا۔
اظہر الدین جب ٹیم میں آئے اس وقت انڈین
کھلاڑی اچھے فيلڈرز نہیں تسلیم کیے جاتے تھے، لیکن اظہر ایک شاندار فيلڈر
تھے، کور، پوائنٹ یا پھر بیٹسمین کے نزدیک والی جگہوں پر وہ کمال کی فیلڈنگ
کرتے تھے۔
Image caption
وہ اچھے فیلڈر تھے اور ان کا شمار گاور اور ہارپر کے ساتھ دنیا کے بہترین فیلڈروں میں ہوتا تھا
وہ کپتان بھی اچانک بن گئے تھے۔ سنہ 1989 میں بھارتی
ٹیم پاکستان گئی تھی، تب سری کانت کپتان تھے۔ اسی وقت انڈین کھلاڑیوں نے
ایک یونین بنائی جس کے صدر سری کانت ہی تھے۔
اس وقت کرکٹ بورڈ نہیں
چاہتا تھا کہ کوئی طاقت ور کھلاڑی کپتان رہے۔ اس وقت یہ فقرہ مشہور ہوا تھا
جب راج سنگھ ڈونگرپور نے اظہر سے پوچھا تھا: ’میاں، کپتان بنو گے؟‘
وہ
سیدھے سادے کم گو کھلاڑی تھے لیکن وہ نہ صرف کپتان بنے بلکہ انڈیا کے سب
سے کامیاب کپتانوں میں شمار ہونے لگے۔ بھارتی میدانوں پر ان کی ٹیم نے شاید
ہی کوئی ٹیسٹ میچ گنوایا ہو جبکہ غیر ملکی پچوں پر ان کی ٹیم نے جیتنے کا
شاید ہی کوئی کرشمہ دکھایا ہو۔
لیکن میچ فکسنگ میں ان کا نام آنے کے
بعد ان کی شبیہ بہت خراب ہوئی۔ ان پر پہلے الزام لگا، پھر سی بی آئی نے
اپنی رپورٹ میں اظہر سمیت چار کھلاڑیوں کے خلاف شواہد پیش کیے۔ اس کے بعد
بی سی سی آئی نے ان پر تاحیات پابندی لگا دی۔
Image caption
انھوں نے اپنے پہلے تین ٹیسٹ میچ میں تین سنچریاں بنائی تھیں
اگر اظہر پر پابندی نہیں لگتی تو ہم ان کا شمار سچن
تندولکر، سنیل گواسکر اور راہل دڑوڈ جیسے بلے بازوں کے ساتھ کرتے لیکن
فکسنگ کے سبب یہ ممکن نہیں رہا تاہم وہ دنیا کے سرکردہ بیٹسمین رہے۔
کپتان
کے طور پر اظہرالدین سلیقے والے کپتان تھے، وہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش
آتے تھے۔ وہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی بلند آواز میں نہیں بولتے تھے۔
میدان
کے باہر بھی اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے، ان کا کہنا
تھا کہ تمام کھلاڑی میچيور ہیں اور انھیں میدان کے باہر جو کرنا ہے، کرنے
دیجیے۔
لیکن جب ان پر الزام لگنے لگے تو شکوک شبہات بڑھنے لگے۔ سچن
تندولکر دوسری بار جب کپتان بنائے گئے اور انڈیا کی ٹیم آسٹریلیا گئی تو
2000-1999کے دورے میں اظہر ٹیم میں نہیں تھے۔ اس دورے میں انڈیا کے
کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور ٹیم بری طرح ہار گئی تھی۔
Image copyrightPTIImage caption
سچن کو ایک روزہ میچوں میں اوپنر بنانے کے فیصلے میں اظہر شامل تھے
ایسے میں ون ڈے ٹیم میں اظہر کی واپسی کی باتیں ہونے
لگیں، اس وقت ٹیم کے بہت سے کھلاڑیوں نے بورڈ کو لکھا تھا کہ اظہر کی واپسی
ہوگی تو یہ بھارتی کرکٹ کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ان کی واپسی ہوئی۔
اظہر
جب واپس آئے تو تندولکر نے کپتانی چھوڑ دی۔ تندولکر نے کبھی یہ نہیں کہا
کہ انھوں نے اظہر کی واپسی کے سبب کپتانی چھوڑی تھی لیکن وہ لوگ جو کرکٹ کو
فالو کر رہے تھے ان میں سے بیشتر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اسی وجہ سے
تندولکر نے کپتانی چھوڑی تھی۔
جب نوجوت سنگھ سدھو انگلینڈ کے دورے سے
واپس آئے تھے، اس وقت بھی لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اظہر سے کوئی
کھلاڑی اتنا پریشان ہو سکتا تھا۔ سدھو کو محسوس ہونے لگا تھا کہ اظہر ان سے
تمیز سے بات نہیں کرتے ہیں۔
تاہم سدھو اور اظہر کے تنازعے پر کبھی
سدھو سے بات کرنا چاہیں تو وہ بات کرنے سے انکار کر دیں گے۔ اظہر نے کئی
بار سدھو کو نظر انداز کیا اور عوامی سطح پر ان کی توہین کی۔
اظہر کی عوام میں جو شبیہ تھی اس کے پیش نظر ایسے واقعات کا سامنے آنا حیران کن تھا۔
جہاں
تک ذاتی تجربے کی بات ہے تو میں ان چند صحافیوں میں شامل تھا جس نے ان پر
سخت تنقید کی تھی۔ ان پر شکوک و شبہات ظاہر کیا جا رہے تھے، لہذا میں ان کے
خلاف لکھ رہا تھا۔ لیکن وہ جب بھی ملتے تھے توانھیں مجھ سے کوئی گلہ شکوہ
نہیں تھا۔
آج کسی بھی کھلاڑی پر آپ ذرا بھی تنقید کریں تو وہ آپ سے
بات کرنا بند کر دیتے ہیں لیکن اظہر کے خلاف میں نے جتنا لکھا ہے، اتنا
شاید ہی کسی دوسرے نے لکھا ہو، لیکن وہ اب بھی ملتے ہیں تو ایسے جیسے کچھ
ہوا ہی نہ ہو۔
اظہر جب کپتان بنے اور طویل مدت تک کپتان رہے تو ان کا
مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن بعد میں انھیں خیال آیا ہوگا کہ
کوئی نہ کوئی بہانہ پیش کرنا ہے تو انھوں نے متنازع بیان دیا تھا کہ انھیں
مسلمان ہونے کی وجہ پھنسایا گیا ہے۔
اظہر کے اس متازع بیان سے ان کے پرستار خاصے مایوس
ہوئے تھے۔ بعد میں وہ سیاست میں آ گئے اور اب مجھے نہیں لگتا ہے کہ بی سی
سی آئی میں ان کا کوئی مستقبل ہے۔
وہ جس طرح سے مرادآباد سے الیکشن
جیتے اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میچ فکسنگ کے تنازع کے مقابلے میں کرکٹر
والی ان کی شخصیت وزنی رہی، اسی لیے تو لوگوں نے انھیں اتنے ووٹوں سے
کامیاب کرایا۔
اگر فکسنگ کے تنازعے کو ایک مختصر وقت کے لیے چھوڑ کر دیکھیں تو بلاشبہ اظہر بھارت کے بڑے کرکٹر تو رہے ہی ہیں۔
(سپورٹس صحافی پردیپ میگزین سے آدیش کمار گپت کی گفتگو پر مبنی)
گلین میکسویل نے شان مارش کی کنگز الیون پنجاب ٹیم میں ساتھی پلیئرز سے جھگڑے کی خبر کو بکواس قرار دے دیا۔ فوٹو: فائل
موہالی: کنگز الیون پنجاب کے بلے باز مشل مارش ساتھی کھلاڑی سے جھگڑے کے بعد آئی پی ایل چھوڑ کر واپس وطن روانہ ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق شان مارش ڈریسنگ روم میں ساتھی کھلاڑی سے جھگڑے
کے بعد واپس وطن روانہ ہو گئے۔ اس سے قبل ٹیم کی شریک مالکن پریتی زنٹا
رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف 1 رن سے شکست پر ہیڈ کوچ سنجے بنگر پر برس پڑی
تھیں۔
ڈیوڈ ملر کی جگہ مرلی وجے کو ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی تھی، چیف
ایگزیکٹیو آفیسر فریزر کیسٹالینو رواں سیزن ٹیم کی ناکامی کی بھینٹ چڑھ
سکتے ہیں۔دوسری جانب گلین میکسویل نے شان مارش کی کنگز الیون پنجاب ٹیم میں
ساتھی پلیئرز سے جھگڑے کی خبر کو بکواس قرار دے دیا۔
برازیل کی معطل صدر
جیلما روسیف نے اپنے سابق نائب صدر مائیکل ٹیمر کی نئی عبوری حکومت کی
تشکیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تمام سفید فام مرد ہیں۔
خیال رہے کہ سنہ 1979 کے بعد یہ برازیل کی پہلی ایسی کابینہ ہے جس میں کوئی خاتون نہیں ہے۔
جیلما
روسیف نے کہا کہ نئی حکومت ملک کی نمائندگی نہیں کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا
کہ ان کی حکومت میں 31 وزرا تھے جن میں سے سات خواتین تھیں۔
* ’مجھ پر بھروسہ رکھیں‘، برازیل کے عبوری صدر کا خطاب
* ’مواخذے کے حق میں ووٹ بغاوت اور ڈھونگ‘
دوسری
جانب برازیلی حکومت کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ وہ کابینہ کے لیے کسی
خاتون کو تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ کابینہ کی تشکیل
سخت شیڈیول کے تحت کی گئی ہے۔
برازیلی حکومت کے چیف آف سٹاف کے
مطابق ہمیں خواتین کی ضرورت تھی لیکن ہم کئی وجوہات کے سبب انھیں یہاں نہیں
لاسکے، ہم نے اس پر غور کیا اور یہ ممکن نہیں تھا۔ Image copyrightEPAانھوں نے کہا کہ ہم خواتین کو حکومت میں شامل کریں گے،
ان عہدوں پر جو وزارتوں کے لیے استعمال ہوں، اب ایک ہی کام کرنا پڑے گا
لیکن مختلف نام سے۔
برازیل کی معطل صدر جیلما روسیف نے جمعے کو
صدارتی محل میں، جہاں وہ اپنے خلاف مواخذے کی تحریک کے دوران رہیں گی،
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر آپ سچے دل سے ملک کی تعیر کرنا چاہتے
ہیں تو اس کے لیے سیاہ فام اور خواتین بنیاد ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ
ان کے خیال میں حکومت واضح طور پر معیشت میں نیو لبرل لیکن ’سماجی اور
ثقافتی سطح پر انتہائی قدامت پسند بننے جا رہی ہے۔‘
اس سے قبل برازیل کے نئے عبوری صدر مائیکل ٹیمر نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’معیشت کو قوت فراہم کرنا ان کا اہم کام ہے۔‘
مائیکل
ٹیمر کے مطابق ’معیشت کو پروان چڑھانے اور نئی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے
کے لیے ملک کی ساکھ کو درون ملک اور بیرون ازسرِ نو قائم کرنے کی ضرورت
ہے۔‘
برازیل کے عبوری صدر کے مطابق کہ برازیل ابھی بھی ایک غریب ملک ہے اور وہ سماجی پروگراموں کو تحفظ دیں گے۔
حکومت
کے معاشی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آئی پی ای اے کے مطابق سنہ 2013 میں برازیل کی
آبادی میں سفید فام مرد 22 فی صد ہیں جبکہ خواتین کا فیصد 51 رہا۔
واضح
رہے کہ برازیل گذشتہ دس برسوں سے بدترین بحرانی دور سے گزر رہا ہے جہاں
سنہ 2015 میں بیروزگاری کی شرح نو فیصد تھی اور مہنگائی گذشتہ 121 سال میں
بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔