امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی
امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 1990 کی دہائی میں شائع ہونے
والے ایک آڈیو ٹیپ میں خود کو اپنا ترجمان ظاہر کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی
اخبار دی واشنگٹن ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 1991 کی ایک ایسی آڈیو
ٹیپ حاصل کی ہے جس کے مطابق فون پر ہونے والی گفتگو میں پی آر مینیجر خود
کو جان ملر بتا رہا ہے تاہم آواز سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح لگتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز ان کی نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے کریئر کے آغاز میں باقاعدگی کے ساتھ کور کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز باکل ڈونلڈ ٹرمپ جیسی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ’ترجمان‘ جن کا نام جان ملر یا جان بیرن بتایا جا رہا ہے، سے یہی سنتے تھے جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو کرنا چاہتے تھے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی جماعت کے ایک درجن سے زائد رپبلکن حریفوں کو وائٹ ہاؤس کی دوڑ سے باہر کر دینے کے بعد ممکنہ رپبلکن امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ آپ مجھے اس آڈیو ٹیپ کے بارے میں پہلی بار بتا رہے ہیں اور اس میں سنائی دینے والی آواز میری آواز سے بالکل بھی نہیں ملتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ میرے پاس ایسے متعدد افراد ہیں جو میری آواز کی نقل اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ اس کا تصور کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آڈیو ٹیپ میں سنائی دی جانے والی آواز انھی دھوکوں کی طرح ایک دھوکا ہے۔
No comments:
Post a Comment