Khawaja Asif's frustration over GHQ meeting reason for NA outburst, Aitzaz claims

ISLAMABAD: PPP Senator Aitzaz Ahsan claimed Defence Minister Khawaja Asif’s inappropriate language against Pakistan Tehreek-i-Insaf chief whip Shireen Mazari in the National Assembly (NA) on Wednesday was a result of his frustration following a meeting at the General Headquarters (GHQ) earlier this week.
Speaking exclusively to DawnNews, the senator was of the opinion that the meeting at GHQ, where top ministers were summoned and "sat like schoolchildren" was most astonishing.
"Ministers were never summoned in such a way to a meeting at the GHQ during the PPP government," he claimed.
Chief of Army Staff General Raheel Sharif convened a meeting termed "extraordinary" meeting on Tuesday with key ministers managing affairs in the Prime Minister's absence, including Finance Minister Ishaq Dar, Defence Minister Khawaja Asif, Adviser to the PM on Foreign Affairs Sartaj Aziz, PM’s Special Assistant Tariq Fatemi and Foreign Secretary Aizaz Chaudhry.
The first civil-military huddle on national security since Prime Minister Sharif left for London for his heart surgery was believed to have been prompted by some specific concerns even though a statement issued by the Inter-Services Public Relations said it was held for deliberations on “issues related to external and internal security situation of the country, including CPEC”.
The NA session on Wednesday was disrupted when opposition lawmakers, including PTI's Shireen Mazari, protested during Asif's speech on loadshedding during Ramazan.
Asif asked the speaker to "silence this tractor trolley" while pointing towards Mazari and referred to her voice as 'masculine'.
When Mazari protested and argued with the speaker, who was trying to blame opposition lawmakers for the ruckus, Asif said: "I am not going to apologise, they can do whatever they want."
Following the incident, the speaker ordered Asif's remarks against Mazari be expunged from the record.

ڈاکٹر طاہر القادری کا 17 جون کو لاہور میں احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان

سانحہ ماڈل ٹاون کو دو سال ہو چکے ہیں لیکن ہمیں اب تک انصاف نہیں ملا، سربراہ پاکستان عوامی تحریک فوٹو: فائل
 لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 17 جون کو مال روڈ پر دھرنے کا اعلان کردیا ہے۔
کینیڈا سے لاہور ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے   ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کو 2 سال ہو چکے  لیکن انصاف کے حصول کے لیے وہ جہاں سے چلے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ وہ حکومتی دہشت گردی پر عدل و انصاف کے لیے ہر جگہ گئے لیکن حصول انصاف میں ناکام رہے، یہاں تک کہ واقعے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ 15 جون کو وطن واپس آئیں گے اور 17 جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق کارکنوں کی دوسری برسی کے موقعے پر لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ انصاف کے لیے پرامن احتجاج ان کا حق ہے، وہ اس دھرنے کے پرامن ہونے کی خود ضمانت دیتے ہیں لیکن اگر حکومت پنجاب نے احتجاج کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ مظلوموں کو انصاف دلانا بھی آرمی چیف کی ذمہ داری ہے، انہوں نے ہمیں انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا ، وہ اپنے وعدے کو پورا کریں۔

ایم کیوایم پرغیراعلانیہ سیاسی پابندی لگائی جارہی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار

میرے گھرکا غیر قانونی محاصرہ کیا گیا آخر ادارے چاہتے کیا ہیں اس طرح ان کی ساکھ متاثر ہورہی ہے، مرکزی رہنما ایم کیوایم، فوٹو؛ فائل
 کراچی: ایم کیوایم کے مرکزی رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہم نے آئین اور قانون نہیں توڑا لیکن ہم پرغیراعلانیہ سیاسی پابندی لگائی جارہی ہے لہٰذا آرمی چیف سمیت کورکمانڈر ہماری التجا پرتوجہ دیں۔
رینجرز کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار کی رہائش گاہ کا محاصرہ کرنے کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیوایم نے احتجاجی مظاہرہ کیا جب کہ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ میرے گھر کا غیرآئینی اورغیرقانونی محاصرہ کیا گیا جس کی وجہ سے لوگ عشاکی نماز اورتراویح بھی نہیں پڑھ سکے تاہم گھرکا محاصرہ کیا گیا تو تلاشی بھی لی جانی چاہیے تھی اور اگر میرے گھر میں کوئی تھا تو رینجرز کو اندر آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ اپنی بے بسی کااعتراف کرلیں اور ادارے چاہتے کیا ہیں، اس سے اداروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے جب کہ آرمی چیف سمیت کورکمانڈر ہماری التجا پرتوجہ دیں اور آرمی چیف ملاقات کا موقع دیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے آئین اور قانون نہیں توڑا لیکن ہم پرغیراعلانیہ سیاسی پابندی لگائی جاری ہے، ہمارے خلاف جو بھی ایکشن ہوا ہم نے کوئی مزاحمت نہیں کی لیکن ہمارے صبر کا باربارامتحان لیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جرائم پیشہ ہیں اور نہ ہی جرائم پیشہ عناصرکے سرپرست لیکن ہمیں جرائم پیشہ قراردے کرہمارا میڈیا ٹرائل کیا جارہاہے، کالعدم تنظیمیں فطرہ جمع کررہی ہیں اور ہم پرپابندی ہے، ہم پاکستان بنانے والے پاکستان کو بچانے والے ہیں اور پاکستان کی بقا کی جنگ میں ہم ہراول دستہ ہیں۔
ایم کیوایم رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے زبردستی کاروبار بند کرائے نہ زبردستی ہڑتال کرائی جب کہ دکانیں زبردستی بند تو نہیں ہوئیں لیکن رینجرز نے زبردستی دکانیں کھلوائیں، زبردستی دکانیں کھلوانا نہ ہی رینجرز کا اور نہ حکومت کا کام ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے اور کارکنان کو روکنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

خواجہ آصف کی جانب سے شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہنے پر ایوان میں ہنگامہ

خواجہ آصف کے بیان پر پی ٹی آئی اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج کیا جس پر اسپیکر برہم ہوگئے۔ فوٹو:فائل
 اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نے تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہہ دیا جس پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکرسردارایازصادق کی سربراہی میں شروع ہوا تو اجلاس کے دوران وزیردفاع خواجہ آصف نے طنز کرتے ہوئے تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہہ دیا جس پر پی ٹی آئی ارکان اپنی نشستوں پرکھڑے ہوگئے اورشدید احتجاج کیا جس پر اسپیکر انہیں اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے رہے۔ خواجہ آصف نے شیریں مزاریں پرطنز کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب میری بات کے دوران بولنے والی آنٹی کی آواز تو ٹھیک کرائیں، مردانہ آواز کو زنانہ کرائیں۔ ٹریکٹر ٹرالی کو خاموش کرائیں، ان سے اپنا گھرسنبھالا نہیں جاتا اور یہ تبدیلی کی بات کرتی ہیں۔
اسمبلی میں خواجہ آصف کے اظہار خیال کے دوران تحریک انصاف کے اراکین نو نو کے نعرے لگاتے رہے جس پر اسپیکرسردارایازصادق برہم ہوگئے اور کہا کہ آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے بہت ڈکٹیشن سن لی آپ لوگوں کی، جب تک اپنی نشستوں پر نہیں بیٹھیں گے خواجہ آصف کے الفاظ  کارروائی سے حذف نہیں ہونگے، خواتین اس طرح کا سلوک کریں تو جواب بھی اس طرح ملنا چاہئے۔ اس موقع پرتحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری خواجہ آصف کے بیان پر آبدیدہ ہوگئیں اور ایوان سے اٹھ کر چلی گئیں جب کہ ایوان میں پی ٹی آئی رکن شفقت محمود کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی جانب سے اس طرح کی زبان خواتین کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیئے تھی اوروہ دباؤ میں آکرغیرشائستہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جب کہ خواجہ آصف میں 50 سالہ کمزوری ہے اوراسی طرح کے الفاظ سے ان کی شخصیت میں کمی آتی ہے۔
تحریک انصاف کے اراکین خواجہ آصف کے بیان پراحتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد اپنی نشتوں پر بیٹھے تو اسپیکر نے وزیردفاع کی جانب سے شیریں مزاری کے لئے ٹریکٹر ٹرالی اور آنٹی کے الفاظ اسمبلی کارروائی سے حذف کرنے کی رولنگ دے دی۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کا رویہ درست نہیں، کسی مرد کو اس طرح کی بات کرتے ہوئے شرم و حیا آنی چاہیئے، یہ بدقسمتی ہے کہ ایک بدتمیز شخص حکومتی وزیرہے جس کے خلاف اسپیکر کو خط لکھیں گے۔
ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کی جانب سے تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی شیریں مزاری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کی بیہودہ زبان اور بدتمیزی پر انہیں  الٹا لٹکا دینا چاہیے جب کہ 25 جوتے صبح اور25 جوتے شام لگانے چاہئیں۔

بیہودہ زبان اور بدتمیزی پر خواجہ آصف کو صبح شام جوتے لگانے چاہئیں، ترجمان پی ٹی آئی

بدتمیزی پر خواجہ آصف کو الٹا لٹکا دینا چاہیے، ترجمان تحریک انصاف، فوٹو؛ فائل
راولپنڈی: ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خواجہ آصف کی بیہودہ زبان اور بدتمیزی پر انہیں  الٹا لٹکا کر 25 جوتے صبح اور25 شام کو لگانے چاہئیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کی جانب سے تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی شیریں مزاری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کی بیہودہ زبان اور بدتمیزی پر انہیں  الٹا لٹکا دینا چاہیے جب کہ 25 جوتے صبح اور25 جوتے شام لگانے چاہئیں۔
واضح رہے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شیری مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جس پر تحریک انصاف کے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج کیا۔

دہشت گردی بھارت کے پڑوس میں پرورش پارہی ہے، نریندر مودی

بھارت اور امریکا کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک پارٹنرشپ سے دنیا بھر میں امن و استحکام قائم ہو گا، بھارتی وزیراعظم، فوٹو : اے ایف پی
واشنگٹن: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے سائے پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں اور اس کی پرورش بھارت کے پڑوس میں ہورہی ہے۔
نریندر مودی نے امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ہے اور اس کے خلاف ہمیں جنگ کو کئی سطح پر لڑنا ہوگا، دہشت گردی کے سائے پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں جب کہ دہشت گردی بھارت کے پڑوس میں پرورش پارہی ہے۔
بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک پارٹنرشپ سے دنیا بھر میں امن و استحکام قائم ہو گا جب کہ امریکا اور بھارت آزادی کے رشتے میں پروئے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے سے تعلقات کی نوعیت بدل گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم پر ممبئی جیسے دہشت گرد حملے ہوئے تو امریکا نے ہمارا ساتھ دیا۔

امریکا بھارت تعلقات سے پاکستان کسی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں، معاون خصوصی وزیراعظم

پاکستان نیوکلیئر سپلائی گروپ کے تمام تقاضوں کو پورا کرے گا، معاون خصوصی وزیراعظم، فوٹو؛ فائل
 اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور خطے کے ملکوں سے بڑے تجارتی اور سرماریہ کاری کے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان کسی سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں طارق فاطمی نے ان خدشات کو مسترد کردیا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان گہری ہوتی ہوئی دوستی کا سایہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی ہے امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، پاک امریکا اسٹریٹیجک ڈائیلاگ بحال ہوئے ہیں جب کہ توانائی سمیت تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی تعلقات بہتر ہوئے۔
طارق فاطمی نے کہا کہ خطے اور بالخصوص افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان نے جو کردار ادا کیا اس کا امریکا بھی معترف ہے۔ نیو کلیئر سپلائی گروپ سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے ’’آئی اے ای اے‘‘ کو مطلع کر دیا ہے کہ ہم نیوکلیئر سپلائی گروپ کے تمام تقاضوں کو پورا کریں گے جب کہ ’’این ایس جی‘‘ کو یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی جوہری شعبے میں مہارت، تکنیکی تجربہ اور اس کا نیوکلیئر سیفٹی اور سیکیورٹی کا ریکارڈ ہی اس گروپ میں شمولیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی شمولیت سے متعلق سوال پر طارق فاطمی نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ بھارت کے 1947 میں جوہری تجربے کے رد عمل میں بنایا گیا تھا جب کہ  بھارت نے ہی ایٹم بم کا تجربہ کرکے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھلاؤ کی دھجیاں بکھیر دیں تھیں۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates