پشاور میں تحریک انصاف کے جلسے میں آئی خاتون ماڈل کو کھلاڑیوں نے گھیرلیا

جلسہ گاہ میں لڑکی کو بھیج کر مخالفین نے ہمارے خلاف حربہ آزمانے کی کوشش کی،ترجمان تحریک انصاف
پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کے  جلسے میں شرکت کرنے کے لئے آنے والی خاتون ماڈل عینی کوکھلاڑیوں نے گھیرلیا ۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور کی مقامی ماڈل پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کے لئے جلسہ گاہ پہنچیں تو کھلاڑیوں کی بڑی تعداد نے ان کا گھیراؤ کرلیا تاہم ماڈل بھی اس دوران ان کے ساتھ سیلفی بنانے میں لگی رہیں جس کے بعد جب کھلاڑی تھوڑے بے قابو ہوئے تو تحریک انصاف کے رضاکاروں او مقامی پولیس نے ماڈل کو ان کے چنگل سے باہر نکال کر گاڑی میں بٹھادیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر عینی خان کا ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں ڈرنے والی نہیں بہت بہادر لڑکی ہوں، جلسے میں عمران خان کو شادی کی پیش کش کرنے کے لئے آئی تھی لیکن تحریک انصاف کے کارکنوں نے جو رویہ اختیار کیا اس پر انتہائی افسوس ہوا۔ واقعے کے بعد ماڈل عینی خان انتظامیہ سے کارروائی  کا مطالبہ کرتے ہوئے جلسہ گاہ چھوڑ کر چلی گئیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا کہنا تھا کہ لڑکی کو ہمارے مخالفین نے جلسے میں بھیجا اوراس کا تعلق بھی پشاور سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسہ گاہ میں لڑکی کو بھیج کر مخالفین نے ہمارے خلاف حربہ آزمانے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ یکم مئی کو لاہور میں ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے جب کہ اس سے قبل اسلام آباد میں تحریک انصاف کے یوم تاسیس کے موقع پر بھی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی  جس پر چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی معافی مانگی تھی۔

پولیس اہلکار کو تھپڑمارنے والا سابق چیرمین سینیٹ نیئرحسین بخاری کا بیٹا نکلا

سابق چیرمین سینیٹ ہونےکےباعث نیئر بخاری کوفوری حراست میں نہیں لیاجاسکتا تاہم دوسرےشخص کو ضرور گرفتار کیا جائیگا، پولیس، فوٹو؛ فائل
 اسلام آباد: سابق چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری اور پولیس اہلکار کا معاملہ نیا رخ اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت اہلکار کو تھپڑ مارنے والا نیئر بخاری کا بیٹا نکلا جسے وہ اپنا محافظ بتاتے رہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری ایف ایٹ کچہری پہنچے تو اسلام آباد میں شدید سیکیورٹی خدشات کے باعث عدالت کے مرکزی دروازے پر کھڑے ہیڈ کانسٹیبل ریاض نے انہیں تلاشی دینے کا کہا جس پر نیئر  بخاری غصے میں آ گئے اور اسے دھکے دیئے جب کہ اسی دوران ان کے ساتھ کھڑے شخص نے بغیر سوچے سمجھے پولیس اہلکار کو تھپڑ رسید کردیا اور سنگین نتائج کی بھی دھمکیاں دیں۔
نیئر بخاری اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ کلامی کے واقعہ اس وقت ایک نیا رخ اختیار کرگیا جب اہلکار کو تھپڑ مارنے والا نیئر بخاری کا بیٹا نکلا۔ نمائندہ ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے شخص کو نیئر بخاری اپنا محافظ بتاتے رہے لیکن وہ ان کا بیٹا اجرار بخاری ہے۔ ایکسپریس نیوز کی جانب سے واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو چلائے جانے کے بعد اہلکار کو تھپڑ مارنے والے شخص کی نشاندہی ہوئی جس پر نیئر بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تھپڑ مارنے والے شخص سے متعلق کسی بھی قسم کے سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
دوسری جانب واقعے کا مقدمہ دوپہر کو تھانہ مارگلہ میں متاثرہ پولیس اہلکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں تھپڑ مارنے والے شخص کو نیئر بخاری کا محافظ ظاہر کیا گیا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہےکہ اگر اہلکار کو تھپڑ مارنے والا نیئر بخاری کا بیٹا ہے تو اسے بھی مقدمے میں نامزد کیا جائے گا۔
ایس ایچ او تھانہ مارگلہ کے مطابق مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، حاضر سروس سرکاری اہلکار کو ڈیوٹی سے روکنا اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اس لئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہےکہ سابق چیئرمین سینیٹ ہونے کے باعث نیئر بخاری کی گرفتاری میں کچھ قانونی پیچیدگیاں ہیں جس کی بنا پر انہیں فوری طور پر حراست میں نہیں لیا جاسکتا تاہم مقدمے میں نامزد دوسرے شخص کو ضرور گرفتار کیا جائے جب کہ قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ  پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر 3 سال قید اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
ادھر آئی جی اسلام آباد طارق مسعود یاسین نے بھی پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کا نوٹس لیتے ہوئے نیئر حسین کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ہمارے جوان ہتھیلی پر جان رکھ کر ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ییں، اہلکاروں کے ساتھ اس قسم کی حرکت ناقابل برداشت ہے اور قانون کی پابندی سب پر فرض ہے، واقعہ کو مثال بنائیں گے۔
اس سے قبل ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سویلین کپڑوں میں ایک شخص نے مجھے چھونے کی کوشش کی جس پر سرکاری محافظ نے اسے دھکا دیا تاہم میں نے اسے تھپڑ نہیں مارا جب کہ میرے خلاف قائم کردہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ایف آئی آر دیکھنے کے بعد ہی آئندہ کی حکمت عملی طے کروں گا۔

حکومت نے اپوزیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کو بدنیتی قراردیتے ہوئے مسترد کردیا

اپوزیشن اپنوں کوبچانا اوروزیراعظم کوپھنسانا چاہتی ہےجبکہ وزیراعظم خود سمیت اپنےخاندان کوسپریم کورٹ کےسامنےپیش کرچکےہیں۔ فوٹو؛ پی آئی ڈی
 اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز پر اپوزیشن کے ساتھ باہمی اعتماد کی بنیاد پر ایک متفقہ رائے سپریم کورٹ کو دیں گے لیکن جب اپوزیشن کے ٹی او آرز کو پڑھا تو اس میں کوئی گنجائش نہیں نکلی کیوں کہ اپوزیشن اس مسئلے کو صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اسلام آباد میں پاناما لیکس پر اپوزیشن کے ٹی او آرز کے معاملے پر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کی تشہیر میں صرف وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کا نام شامل نہیں تھا بلکہ دنیا کے اہم ممالک کے حکمران، بزنس مین اور عام شہریوں کا ذکر تھا لیکن اس خبر کے بعد سب سے پہلے پاکستانی وزیراعظم نے فوری طور پر قوم سے مخاطب ہوکر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے وفاقی وزرا اس بات کے خلاف تھے کہ وزیراعظم قوم سے خطاب کریں کیوں کہ پاناما لیکس میں ان کا نام براہ راست شامل نہیں تھا جب کہ کمیشن بنانے سے پہلے بھی ہم نے کئی معزز ججز سے رابطہ کیا کیوں کہ ہم نیک نیتی سے اس کام کو سرانجام دینا چاہتے تھے لیکن اتنا شور مچایا گیا کہ تمام ججز نے اس مسئلے سے جڑنے پر معذرت کرلی۔

وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وقتاً فوقتاً اپنے مطالبے سے ہٹتی رہی پہلے اپوزیشن کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت اس پر بھی مان گئی لیکن پھر کہا گیا کہ حکومت چیف جسٹس کو خط لکھے، بالآخر حکومت اس پر بھی تیار ہوگئی لیکن اب انہوں نے ٹی او آرز میں مسئلہ نکال لیا، کچھ لوگ چاہتے ہیں یہ کیس میڈیا پر چلتا رہے اور اس پر کھیل تماشا ہوتا رہے جب کہ میڈیا پر روز الزامات لگتے رہے لیکن کیس منتقی انجام تک نہ پہنچے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کو شورشرابے کے نظر نہیں ہونا چاہیے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کچھ لوگ سپریم کورٹ کو تب مانتے ہیں جب ان کے مرضی کے فیصلے کیے جائیں لیکن معذرت کے ساتھ اسے جمہوریت نہیں ضدبازی کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  اپوزیشن کے ایک مخصوص گروپ کا ہدف کرپشن نہیں بلکہ ایک شخصیت کو کرسی سے ہٹانا ہے جو جلسے جلوسوں، پریس کانفرنس میں ان کو متنازعہ بنا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا حتمی مطالبہ ماننے کے بعد ٹی او آرز کا ڈرامہ رچایا گیا جس سے عام آدمی واقف بھی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے جب کہ سپریم کورٹ کے پاس لامحدود اختیارات ہیں اور حکومت اور وزیراعظم کی وجہ سے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں تو پھر اپوزیشن کو کس بات پر اعتراض ہے، کیا انہیں سپریم کورٹ اور قانون پر اعتماد نہیں ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ قوم کے سامنے سچ آنے دیں، لوگوں کو بے وقوف بنا کر سچ کے سامنے دیواریں کھڑی نہ کی جائیں اور نہ ہی سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کیا جائے جب کہ مجھے اس بات پر بہت افسوس ہوا کہ عمران خان نے اپنے جلسوں میں خواتین سے ہونے والی بدتمیزی کا الزام بھی حکومت اور پولیس پر لگادیا۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو پیشکش کرتا ہوں کہ اس واقعے پر ایک کمیٹی تشکیل دیں جس میں پی ٹی آئی، انتظامیہ اور میڈیا کے نمائندے شامل ہوں اور نادرا کے ذریعے ان لوگوں کی شناخت کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ خواتین سے بدتمیزی کی واقعات صرف تحریک انصاف کے جلسوں میں کیوں ہوتے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کرپشن اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ہم قوم کے سامنے سچ لے آئیں جب کہ وزیراعظم نے خود سمیت اپنے خاندان کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز پر اپوزیشن کے ساتھ باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہم ایک متفقہ رائے سپریم کورٹ کو دیں گے لیکن جب اپوزیشن کے ٹی او آرز کو پڑھا تو اس میں کوئی گنجائش نہیں نکلی۔

دوسری جانب وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ ہم نے ٹی او آرز میں کک بیگس لینے، کرپشن کرنے، ٹیکس نہ دینے، بیرون ملک غیر قانونی طریقے سے پیسے بھیجنے والے ان تمام افراد کو شامل کیا جس میں سیاستدان سے لے کر بزنس مین اور عام آدمی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آج اپوزیشن کے ٹی او آرز پر غور کیا لیکن اس میں تسلیم کرنے کے لیے کچھ نہیں اور اپوزیشن نے اپنے ٹی او آرز میں جو مندرجات شامل کیے ہیں اس سے ان کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے وزیراعظم کے احتساب کا مطالبہ کیا جب کہ آئی سی آئی جے اس بات کی تردید کرچکی ہے کہ اس معاملے میں وزیراعظم براہ راست ملوث نہیں بلکہ ان کے بچوں کی وجہ سے ان کا نام شامل کیا گیا۔

شیخوپورہ میں شب معراج کے موقع پردہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 8 دہشتگرد ہلاک

فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لئے آپریشن شروع کردیا گیا ہے، پولیس۔ فوٹو: فائل
شیخوپورہ: سیکیورٹی فورسز نے شب معراج کے موقع پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ 4 فرار ہو نے یں کامیاب ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی پولیس نے شیخوپورہ کے علاقے شرقپور میں کارروائی کر کے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جب کہ ان کے 4 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو  گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد شب معراج کے موقع پر مساجد میں دہشت گرد کارروائی کی تیاری کر رہے تھے، دہشت گردوں کے قبضے سے 6 کلو بارودی مواد، 5 ڈیٹونیٹرز، 4 کلاشنکوف، 4 پستول، گولیاں اور 4 موٹرسائیکلیں برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کاتعلق کالعدم تنظیم سے تھا جب کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لئے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

پشین میں رکشہ اورمزدا میں تصادم سے 3 افراد جاں بحق

رکشہ اور مزدا وین میں تصادم تیزرفتاری کے باعث ہوا، پولیس۔ فوٹو:فائل
پشین: رکشہ اور مزدا وین میں تصادم کے نتیجے میں خاتون اور بچے سمیت 3 افراد جاں بحق جب کہ 7 زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ سے 55 کلومیٹر دور پشین میں رکشہ اورمزدا میں تیزرفتاری کے باعث تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں اور 7 افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے کے فوری بعد جائے وقوعہ پر موجود افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں 3 افراد جاں بحق جب کہ دیگر 7 زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث ہوا جب ہ ہلاک ہونے والوں میں خاتون اورایک بچہ بھی شامل ہیں اور ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشوں کو ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے۔

کراچی میں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی؛ 39 جرائم پیشہ افراد گرفتار

ملزمان  کے قبضے سے اسلحہ اور منشیات سمیت دستی بم اور دیگر سامان بھی برآمد کرلیا گیا، پولیس:فوٹو:فائل
 کراچی: رینجرز اور پولیس کی جانب سے شہرقائد کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جس کے دوران 39 جرائم پیشہ افراد گرفتار کرلئے گئے۔ 
ایکسپریس نیوزکے مطابق کراچی میں پولیس اوررینجرز کی جانب سے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں 39 افراد گرفتارکیے گئے۔ گرفتارافراد میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور، ڈکیت ، اشتہاری اورمفرور ملزمان شامل ہیں جن میں 6 مبینہ ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم اور 4 کا سیاسی جماعتوں سے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو منگھوپیر، نیو ٹاون، گلستان جوہر، لیاقت آباد، نیلم کالونی، موچکو، مچھرکالونی اور دیگر علاقوں سے گرفتارکیا گیا ہے جب کہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور منشیات سمیت دستی بم اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates