داعش کے پیروکار اکثر اپنے عقائد سے بھی مکر جاتے ہیں ایمن الظواہری. فوٹو: فائل
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک آڈیو پیغام میں ایمن الظواہری کا کہنا تھا کہ شام کو روسی اور مغربی طاقتوں سے آزاد کرانے کے لئے ہم سب کو ایک ہونا ہوگا، اتحاد کا مطلب زندگی جب کہ علیحدگی موت ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر القاعدہ اور داعش کے درمیان نظریاتی فرق پر زور دیتے ہوئے دولت اسلامیہ عراق وشام کو ’’شدت پسند اور مرتد‘‘ قرار دیا اور کہا کہ داعش کے اکثر پیروکاراپنے عقائد سے بھی مکر جاتے ہیں۔
القاعدہ سربراہ نے شام میں امن کے لئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والے پروگرام کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ النصرہ فرنٹ کو سراہا جس کا شام کے صوبے ادلیب پر مکمل کنٹرول ہے۔ ایمن الظواہری کی آڈیو ریکارڈنگ کی مصدقہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم یہ ان کا جنوری کے بعد منظرعام پر آنے والا پہلا بیان ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں نصرہ فرنٹ نے شام میں حکومت کے خلاف برسر پیکار احرار الشام سمیت دیگر جنگجو گروپوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔
No comments:
Post a Comment