5.7فیصدگروتھ سے ٹیکس ریونیو10 فیصدبڑھے گا،ایف بی آر

گزشتہ 3سال کے دوران ٹیکس فائلرز میں اضافہ کی سالانہ شرح 25 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، رحمت اللہ وزیر فوٹو: فائل
 اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال  کے لیے ٹیکس کی بنیاد کو وسعت اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے، فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان تفریق کرنے کے لیے عملی اقدامات سمیت غریب اور متوسط طبقے پر کم بوجھ ڈالتے ہوئے ڈائریکٹ ٹیکسوں کا حصہ بڑھانے کے اصولوں پر مبنی بجٹ تجاویز دی ہیں، قومی معیشت میں بہتری اور میکرو اکنامک استحکام کے پیش نظر آئندہ مالی سال  ٹیکس وصولیوں کا 3621 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، نئے مالی سال کے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات سے تقریباً 150 ارب روپے کی آمدن ہو گی، مجموعی قومی پیداوار کی5.7 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ محصولات میں 10 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ 
ان خیالات کا اظہار ایف بی آرکے ممبر (ان لینڈ ریونیو پالیسی) رحمت اﷲ وزیر نے  پیر کو ایف بی آر ہاؤس میں ممبر ڈاکٹر محمد اقبال، ممبر کسٹمز ناصر منصور اور ممبر فیٹ شائستہ عباس کے ہمراہ پوسٹ بجٹ میڈیا بریفنگ سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 2014 میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد تقریباً 11 لاکھ تھی جن میں  3 لاکھ 9 ہزار تنخواہ دار افراد شامل ہیں، پالیسی اقدامات کے ذریعے فائلرز کی تعداد بڑھائی جائے گی، اس سلسلے میں فائلرز اور نان فائلرز کے لیے علیحدہ علیحدہ ٹیکس ریٹ مقرر کرنے کی تجویز ہے، نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی اضافی شرح کے نفاذ سے یہ لوگ فائلرز کے لیے مختص سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کی طرف مائل ہوں گے جس سے ملک میں ٹیکس  کلچر کے فروغ، ٹیکس کی بنیاد کو وسعت اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی اسکیم ایک سال کے لیے نہیں بلکہ 2018 تک کے لیے ہے، اس سکیم کے تحت اب تک 10 ہزار افراد ٹیکس نیٹ میں آگئے ہیں جس سے تقریباً 85 کروڑ کے محاصل حاصل ہوئے جبکہ  85 ارب روپے کا سرمایہ ظاہر ہوا ہے جو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کے لیے سود مند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی واضح ہے کہ فائلرز اور نان فائلرز کے لئے ٹیکس کی شرح میں فرق کے باعث لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے کو ترجیح دیں گے، اب بھی اندازا روزانہ 2 سے ڈھائی ہزار ای فائلنگ ہو رہی ہے۔
رحمت اللہ وزیر نے کہا گزشتہ 3سال کے دوران ٹیکس فائلرز میں اضافہ کی سالانہ شرح 25 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 5 برآمدی شعبوں کو زیروریٹڈ کرنے سے ملکی برآمدات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، اس سہولت کے نتیجے میں بر آمد کنندگان نے 20 فیصد برآمدات بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے، اس کے علاوہ ری فنڈز کے معاملے کو بھی حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتعیش زندگی گزارنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں حاصل معلومات کی روشنی میں  4 لاکھ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثہ جات کے بارے میں معلومات کے حصول سے متعلق ایک سوال پر ایف بی آر کے حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور ایف بی آر کی سطح پر اقدامات کیے جائیں گے۔

No comments:

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates