سخت مسابقت ، کم ٹیر ف اور زیادہ ٹیکسز سے ٹیلی کام سیکٹر پر شدید دباؤ

ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے گزشتہ 4 سال کے دوران 4ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے فوٹو: فائل
 کراچی:  سخت مسابقت، ٹیرف میں کمی اور ٹیکسوں کی بھرمار پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کی آمدن میں 2 سال سے کمی کا سبب بن رہی ہے۔
اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق 3 سال کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کے اوسط ماہانہ ریونیو میں 1.6 ارب روپے کی کمی ہوئی، شعبے نے گزشتہ 5سال کے دوران قومی خزانے میں ٹیکسوں اور لائسنس فیس کی مد میں 744.6 ارب روپے جمع کرائے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران ٹیلی کام سیکٹر سے ٹیکسوں کی مد میں 106ارب روپے کی آمدن ہوئی، ٹیلی کام انڈسٹری پر عائد ٹیکسوں میں جنرل سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، سم ایکٹیویشن ٹیکس، ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس، موبائل سیٹ پر سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز شامل ہیں، ٹیلی کام انڈسٹری نے گزشتہ 5سال کے دوران 2129ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران ریونیو 333.2ارب روپے رہا۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ پی ٹی اے اور انڈسٹری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرکے انڈسٹری کی ترقی کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے جس سے حکومت کو بھی ریونیو کی مد میں طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام انڈسٹری کے ریونیو گزشتہ 2سال سے دباؤ کا شکار ہیں، مالی سال 2013-14 میں ٹیلی کام سیکٹر کا اوسط ماہانہ ریونیو 38.625 ارب روپے تھا جو مالی سال 2014-15میں کم ہوکر 37.46 ارب روپے ماہانہ اور مالی سال 2015-16 کے دوران کم ہوکر 37ارب روپے ماہانہ کی سطح پر آ گیا، 3 سال کے دوران انڈسٹری کے اوسط ماہانہ ریونیو میں 1.625ارب روپے ماہانہ کی کمی ہوئی، ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے گزشتہ 4 سال کے دوران 4ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس میںسیلولر انڈسٹری کی سرمایہ کاری سب سے زیادہ ہے۔

No comments:

Pakistan Election 2018 View political party candidates, results

https://www.geo.tv/election/candidates