اسلام آباد: پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ گروپ کے غیررکن ملکوں کو رکنیت دینے کے لیے بامقصد اور بلاامتیاز ضابطہ کار پر عمل کریں۔
سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے حوالے سے ایک اجلاس ہوا جس میں بڑی تعداد میں سفارتکاروں اور دیگراعلیٰ سطح کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ تسنیم اسلم نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے رکن ممالک کے سفارتی مشن کو بریفنگ دی جس میں انہوں نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے رکن ممالک پر زوردیا کہ وہ گروپ کے غیررکن ملکوں کو رکنیت دینے کے لیے بامقصد اور بلاامتیاز ضابطہ کار پر عمل کریں۔
ایڈیشنل سیکرٹری نے اپنی بریفنگ میں ان حقائق کی وضاحت کی جن کی وجہ سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لیے پاکستان کی درخواست کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ان میں پاکستان کی تکنیکی مہارت صلاحیت اورایٹمی عدم پھیلاؤ کا عزم اور جوہری تحفظ اور سلامتی شامل ہیں۔ انہوں نے گروپ کی رکنیت کی غرض سے کسی ملک کے لیے استثنی کے بارے میں خبردار کیا جس سے جنوبی ایشیا کے اسٹرٹیجک استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے نیو کلیئر سپلائرز گروپ کے معاملے پر روس، نیوزی لینڈ اور جمہوریہ کوریا کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے این ایس جی میں توسیع کے لیے غیر جانبدارسوچ اپنانے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
No comments:
Post a Comment