کاشف کو 2015 میں دبئی سے گرفتار کیا گیا تھا، رابطہ کمیٹی
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے مطابق رینجرزکی جانب سے ایم کیوایم کے کارکن کاشف عرف ڈیوڈ کی گرفتاری کو نائن زیرو کے قریب سے ظاہرکرنا جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ کاشف کو 2015 میں دبئی سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کی گرفتاری کی خبریں بھی نشر کی گئیں تھیں۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کاشف گزشتہ کئی ماہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیرقانونی تحویل میں تھا اور اس کے اہل خانہ نے اس کی بازیابی کے لیے دبئی اور پاکستان میں ہرسطح پر قانونی کوششیں بھی کیں۔
رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ 2 روز قبل کراچی پریس کلب میں ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے دھرنے میں کاشف کی اہلیہ نے نہ صرف شرکت کی بلکہ وہاں موجود میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے شوہر کی بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کاشف کے حوالے سے پیش کی جانے والی من گھڑت خبریں اور اس سے منسوب اسلحہ دراصل ایم کیوایم کے خلاف کرمنلائزیشن پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصدایم کیوایم کوایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم بنا کرپیش کرنا ہے تاکہ ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن کودرست قراردیا جائے۔
واضح رہے رینجرز نے کاشف عرف ڈیوڈ کو گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم کو 90 روزہ ریمانڈ پر رینجرز کی تحویل میں دے دیا
No comments:
Post a Comment