28 سالہ سوئلہ ایشی ویریا جب جب تیز آوازسن کر دن میں 25 مرتبہ تک بے ہوش ہوجاتی ہیں۔
28 سالہ آسٹریلوی خاتون سوئلہ ایشی عجیب بیماری میں مبتلا ہیں جسے ’کیٹا پلیکسی‘ کہتے ہیں۔ اس بیماری کے باعث خاتون جب جب تیز آواز سنتی ہیں ان کے پٹھے اکڑنے لگتے ہیں اور وہ وقتی طور پر مفلوج ہوجاتی ہیں۔ سوئلہ ایک شیف ہیں جو بیکری میں کام کرتی ہیں لیکن تیز آواز سنتے ہی ان کے پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں اور وہ بہت جذباتی ہوجاتی ہیں، ایک دفعہ تھالی گرنے کی آواز سے وہ کھلے ہوئے ڈیپ فریزر میں جاگری تھی اور اس کے علاوہ وہ ایک دفعہ ریلوے ٹرک پر بھی گرکر بے ہوش ہوچکی ہیں۔
سوئلہ اپنی بیماری کے باعث کسی جان لیوا حادثے کے خوف سے زیادہ تر گھر میں رہتی ہیں اور باہر نکلنے سے احتیاط کرتی ہیں۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی سوئلہ کی طبیعت اس وقت خراب ہوئی تھی جب ان کی عمر 16 برس تھی، اب اگر کوئی دروازہ زور سے بند کرے، یا شیشے کی گلاس زمین پر گرادے یا کوئی تیز ہارن بجے تو انہیں بھی دورہ پڑجاتا ہے۔
خاتون کے اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی ’’کیٹاپلیکسی‘‘ نامی بیماری میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں جوں ہی وہ تیز آواز سنتی ہیں ان کا جبڑا لٹک جاتا ہے، سر جھکتا ہے، ہاتھ اور پاؤں بے جان ہوجاتے ہیں اور وہ چند منٹوں سے کئی گھنٹوں تک مفلوج ہوجاتی ہیں، بعض دفعہ وہ دن میں 25 مرتبہ اس کا شکار ہوتی ہیں جو مرض کی شدت کی علامت ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کا مرض لاعلاج ہے اور وہ اس سے صحت یاب ہونا چاہتی ہیں۔
1 comment:
pakistani urdu news papers
latest news of pakistan in urdu
pk news urdu
urdu news from pakistan
current news in urdu pakistan
pakistan urdu news latest
latest urdu news pakistan
pk urdu news
daily news pakistan in urdu
pakistani urdu news
urdu news from pakistan
breaking news pakistan urdu
latest news pakistan in urdu
latest pakistani news in urdu
latest pakistan news urdu
breaking news urdu pakistan
www.urdu news
pakistan news paper urdu
karachi urdu news
pakistan news urdu today
urdu news pk
urdu news
daily urdu news
urdu news pakistan
today news urdu pakistan
pakistan urdu news
urdunews
latest news pakistan urdu
pak urdu news today
pakistan latest news urdu
www pakistan news com urdu
pak news in urdu
urdu news karachi
latest news urdu pakistan
Post a Comment