کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ اسمبلی اس وقت میدان جنگ بن گئی جب ایوان میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شمیم ممتاز نے اپنی تقریر کے دوران جب لندن اور الطاف حسین کا ذکر کیا تو ایم کیو ایم کے ارکان نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے عظیم فاروقی شمیم ممتاز کی جانب لپکے تو پیپلز پارٹی کے مکیش کمار ان کے سامنے آگئے۔ اس پر دونوں اطراف سے تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے کو دھکے دیئے گئے اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ایم کیو ایم کے سردار احمد اور پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن بچاو کراتے رہے ۔ ان کو بھی دھکے لگے۔اس موقع پر ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس کل تک ملتوی کر دیا گیا۔ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ واقعہ غلط فہمی کے باعث پیش آیا۔ہوٹنگ ہو رہی تھی جو قیادت تک پہنچ گئی۔ایک کیو ایم کے دیوان چند چاولہ کی تقریر جذباتی تھی لیکن حکومتی ارکان بھی جذباتی ہوگئے جس سے معاملہ خراب ہوا۔صلح ہوگئی ہے۔کل اجلاس معمول کے مطابق ہوگا۔دوسری طرف پی پی رکن مکیش چاولہ نے کہا ہے کہ اگر کسی نے ہماری عورتوں سے بدتمیزی کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ توڑ دینگے۔ایم کیو ایم کے ارکان نے بدمعاشی کی ہم ان کی بدمعاشی نہیں چلنے دینگے۔

No comments:
Post a Comment